آن لائن شاپنگ: پاکستان میں آسان ضرور مگر کوالٹی کی ضمانت کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نائلہ شفیق اسپتال میں نرس کے طور پر کام کرتی ہیں جب کہ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر انہیں گھریلو ذمہ داریاں بھی نبھانا ہوتی ہیں۔

تین بچوں کی ماں ہونے کے ناطے ان کا اشیا خور و نوش کی خریداری کے لیے ہفتے میں کم از کم ایک بار مارکیٹ جانا لازمی ہوتا تھا. لیکن مصروفیت اور پھر کرونا وبا کے باعث اب ان کا مارکیٹ آنا جانا بے حد کم ہو گیا ہے اور اب وہ اپنے اسمارٹ فون میں موجود مختلف ایپس کے ذریعے کافی ساری چیزیں آن لائن ہی منگوا لیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے۔

لیکن گھر بیٹھے اشیا منگوانے کے دوران انہیں شروع میں کچھ تلخ تجربات کا بھی سامنا کرنا پڑا اور کئی بار آن لائن شاپنگ پورٹلز اور ویب سائٹس پر دکھائی جانے والی اشیا موصول ہونے پر انہیں معلوم ہوا کہ وہ مطلوبہ معیار کی نہیں اور متعدد بار ایسا بھی ہوا کہ انہیں خریداری کے لیے کئی ہزار روپے کی رقم منتقل کرنے کے باوجود بھی مطلوبہ چیز نہ ملی۔

پاکستان میں چند سال میں انٹرنیٹ کے ذریعے خرید و فروخت کے رحجان میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ اسمارٹ فونز کا استعمال بڑھنے، آبادی کے ایک بڑے حصے کو انٹرنیٹ کنکشن کی با آسانی فراہمی ممکن ہونے اور پھر تجارتی سرگرمیاں ہیں۔ جب کہ کرونا وبا کے دوران انٹرنیٹ کے استعمال سے آن لائن تعلیم کے حصول کے ساتھ، اشیا کی خرید و فروخت اور انٹرنیٹ بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کی ‘قومی ای-کامرس کونسل’ کے حالیہ اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ای کامرس مارکیٹ کے حجم میں 35 فی صد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 71 ارب روپے زیادہ رہا۔

کونسل کو آگاہ کیا گیا کہ قبل از ادائیگیوں والے ای-کامرس تاجروں کو پہلی سہ ماہی میں ملنے والے آرڈرز میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان میں ای-کامرس ایک نیا تصور ہے لیکن اس سے جُڑے ماہرین کے خیال میں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ لیکن اب بھی اس میں بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے۔

ای کامرس بزنس پر کام کرنے والے آدم داؤد کے خیال میں کرونا کے دور میں ای-کامرس کے تحت چلنے والے کاروباروں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی ملک کی ریٹیل مارکیٹ کے مقابلے میں ای-کامرس مارکیٹ کا حجم مارکیٹ کے ایک فی صد سے بھی کم ہے۔ تاہم ان کے بقول امریکہ میں یہ حجم 15 سے 16 فی صد، چین میں یہ شرح 30 سے 40 فی صد کے قریب ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا کے بعد برطانیہ میں بھی یہ 40 فی صد کو پہنچ چکا ہے جب کہ کرونا سے پہلے یہ صرف 20 فی صد کے قریب تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ای-کامرس کے ذریعے تجارت کُل ریٹیل تجارت کے 12 فی صد کے قریب ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کا اثر ای-کامرس کے صارفین کی تعداد پر بھی پڑا ہے۔

شہری علاقوں کے ساتھ بعض چھوٹے بڑے قصبوں میں بھی کھانے پینے کی اشیا، گھریلو ضرورت کی اشیا اور کپڑوں کی کئی قسم کی ورائٹی آن لائن منگوانے کا رحجان بڑھا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت 17 کروڑ 60 لاکھ لوگوں کے پاس موبائل فون موجود ہے جن میں سے نو کروڑ 30 لاکھ لوگ تھری جی یا فور جی انٹرنیٹ یا براڈ بینڈ سروسز استعمال کر رہے ہیں جو آبادی کا 43 فی صد سے کچھ زیادہ ہے۔

کیا ای-کامرس کے لیے قواعد و ضوابط ضروری ہیں؟

کرونا وبا کے دوران گزشتہ عید الضحیٰ پر سہولت کارڈ کے ذریعے آن لائن قربانی کے نام پر ہزاروں افراد کو شدید ذہنی کوفت سے دو چار ہونا پڑا جب کمپنیوں نے وعدے کے مطابق بر وقت گوشت نہیں پہنچایا اور جسے ملا وہ بھی خراب گوشت تھا اور استعمال کے قابل بھی نہیں تھا۔

بہت سے لوگوں نے اس پر مطلوبہ کمپنی سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا، چکر کاٹے مگر کئی لوگوں کی اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔

لیکن ماہرین کے بقول ای-کامرس سے متعلق حکومت نے جو پالیسی بنائی ہوئی ہے اس میں کئی اچھی چیزیں پہلے ہی شامل ہیں۔

اس مقصد کے لیے ان کے خیال میں قواعد وضوابط کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔

آدم داؤد کے مطابق ای-کامرس کے انفرا اسٹرکچر میں ریٹیلرز کے پاس مناسب ویئر ہاؤسز، ہاؤس کیپنگ اور اسے منظم کرنے کے لیے انتظامی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے جس کے بعد ادائیگی کا طریقۂ کار بہتر، آسان اور فوری ہونا چاہیے۔

ان کے بقول پھر اس میں رسد کے بہتر ذرائع ہونا بھی ضروری ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر قواعد کے ذریعے انفراسٹرکچر بہتر بنانا مقصد ہے تو بہت اچھی بات ہے۔ لیکن یہ کام اگر ریگولیشنز نہیں کرتے۔ تو پھر ان کی کوئی ضرورت نہیں اور ان تمام چیزیوں کے ساتھ سستے اور بہتر انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی شرط ہے۔

ای کامرس کے ماہرین کے مطابق اگر ایک بار صارفین کا تجربہ اچھا رہا تو وہ خریداری کا عمل مستقبل میں بھی جاری رکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1255 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply