کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حجرہ شاہ مقیم میں اک جٹی عرض گزار تھی : ’پیر جی ایک بکرانذر کروں گی اگر میری سر کے سائیں سے جان چھوٹ جائے‘ ۔ لیکن صرف شوہر کی موت سے اس کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تھا۔ اس کی عرضداشت خاصی لمبی تھی۔ وہ اپنی گلی کے فقیر کی کتیا کی موت بھی چاہتی تھی۔ وہ اس کی ہر دم کی چاؤں چاؤں سے نالاں تھی۔ وہ اپنی گلی کے کریانہ فروش کی ہٹی کو بھی آگ میں بھسم دیکھنا چاہتی تھی جہاں شام ڈھلے اک دیے کا بندوبست بھی اسے گراں گزرتا تھا۔

وہ اپنی پان سات کے لئے موت اور باقی پڑوسنوں کے لئے تاپ بخار کی خواہاں تھی۔ یہ سب ذرا سی آہٹ پر گلی میں جھانکنے لگتی تھیں۔ وہ سمجھتی تھی کہ یہ سب بخار میں پھنکی اپنے اپنے گھروں میں مری پڑی رہیں گی۔ اس طرح وہ اپنی گلی بھی ویران چاہتی تھی اور کوٹھوں کی منڈیریں بھی خالی۔ وہ اس سنجی گلی میں صرف مرزا یار کو دیکھنا چاہتی تھی۔ پنجابی زبان کے لافانی شاعر حافظ برخوردار نے ہمارے قومی مزاج کی ایک سچی تصویر کھینچی ہے۔

ہمارے ہاں صرف بادشاہ ہوا کرتے تھے۔ بادشاہی میں اپوزیشن نہیں ہوتی۔ شاہ پرست ہوتے ہیں یا پھر غدار۔ کالم نگار نے یہاں شاہ پسند کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ عوام کے پاس پسند نا پسند کا اختیار بھلا کہاں تھا۔ جو بھی تاج پہن کر تخت پر بیٹھ گیا، اس کی پرستش لازمی ہو گئی۔ بادشاہت میں سارے اختیار صرف بادشاہ کے پاس ہوتے ہیں اور رعایا اپنے ظل الٰہی کا حکم ماننے کی پابند۔ 1947ء میں ہم آزاد ضرور ہوئے لیکن ہم نے اپنی ڈگر چھوڑی نہیں۔

ہمارا مزاج بھی نہیں بدلا۔ شاہی اور شاہ پرستی ہماری فطرت بن چکی۔ ہمارا فقر بھی دربار سے باہر نہیں نکل سکا۔ فقیر شہنشاہ کہلوائے اور ان کے ”تھاں ٹھکانوں“ کو دربار نہیں دربار شریف کہا گیا۔ حفیظ جالندھری بھی صرف ملک وقوم پر اکتفاء نہ کر سکا۔ لفظ سلطنت سے ہی اس نے اپنی بات مکمل کی۔ ”قوم ملک سلطنت پائندہ تابندہ باد“ ۔ شاہی خو بو والے لفظ سلطنت کے بغیر ہمارے آزاد ملک کا قومی ترانہ بھی اسے یقیناً ادھورا لگا ہوگا۔

جمہوریت مخالف رائے کو برداشت ہی نہیں اس کے احترام کرنے کا بھی نام ہے۔ ”مجھے آپ کی رائے سے اختلاف ہے لیکن میں آپ کو اس رائے کے اظہار کا حق دلانے کے لئے اپنی جان دینے کو تیار ہوں“ ۔ والٹیئر کا یہ جملہ فرانسیسی پارلیمنٹ کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے۔ جمہوریت کی ساری عمارت اسی آزادی رائے کے اظہار کے حق پر استوار ہے۔ ادھر ہم نے اپنی سیاسی جماعتیں بھی شاہی انداز میں چلائی ہیں۔ ”الطاف کا جو غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے“ ۔

ہماری سیاسی جماعتیں بھی شاہی طرز پر ایک فرد کے گرد ہی گھومتی ہیں۔ مخالف رائے رکھنے والی پارٹی کو برداشت کیا جانا تو درکنار اسے حق زندگی دینے کو بھی تیار نہیں۔ بھٹودور میں جیالوں کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ الیکشن میں شکست کھا جانے والے اب قومی معاملات میں رائے زنی بھی کیوں کرتے ہیں۔ وہ بس اسی جٹی کی طرح ہی چاہتے تھے کہ سیاست کی گلی میں اب بھٹو کے سوا کوئی اور سنائی نہ دے۔ 1977 ء میں الیکشن میں دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی تحریک نے ہمارے اسی کٹر مذہبی شاہی مزاج کے باعث کفر، اسلام کی جنگ کی صورت اختیار کرلی۔ سیاسی مخالف کو کافر اور ملک دشمن سمجھنا اسی انداز فکر کا نتیجہ ہے۔ برطانیہ نے جمہوریت کے لئے ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ وہاں اگرچہ جمہوریت بادشاہت کے سائے تلے ہی پروان چڑھی لیکن آئین نو سے ڈرنے اور طرز کہن پر اڑنے کی کٹھن منزل سے وہ لوگ اتنی آہستگی سے گزرے کہ یہ تبدیلی بادشاہت کو بھی گراں نہ گزری۔ اسے خوشدلی سے قبول کر کے آئینی پابندیاں قبول کر لی گئیں۔ ان کی آہستہ روی کا اندازہ لگائیں کہ برطانیہ میں عورتوں کو پہلی مرتبہ ووٹ کا حق 1934ء میں دیا گیا۔ ادھر ہماری یک دم آزادی شاید دوا کی ایسی بڑی خوراک تھی جو ہمیں موافق نہیں آئی۔

اب ہمارے سیاسی رہنما ہمارے محبوب ہیں۔ ہم نے انہیں پرسش کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بجائے پرستش کے سنگھاسن پر بٹھا رکھا ہے۔ عمران خان کے پرستار ان سے عشق کی اس منزل پر کھڑے ہیں جہاں ہجر و وصال بے معنی ہو جاتا ہے۔ یہ سود و زیاں سے آگے کی منزل ہے۔ آج عمران خان ملک میں تبدیلی لاتے لاتے قیمتوں میں اتنی تبدیلی لے آئے ہیں کہ اس تبدیلی کے ہاتھوں خود بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ مہنگائی کی شدت کے اثرات بنی غالہ تک پہنچ گئے ہیں۔

کھانے پینے کی چیزوں کو چھوڑیں۔ خود سیاست بھی بہت مہنگی ہو گئی ہے۔ عام آدمی کے بس سے یہ پہلے ہی باہر تھی۔ اب خواص کے بس میں بھی نہیں رہی۔ سینٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ کا مطالبہ شفافیت ہے یاووٹروں کی قیمت میں بڑھتی ہوئی ناقابل برداشت مہنگائی؟ آج کا اہم سیاسی سوال یہی ہے۔ وزیر اعظم بتا رہے ہیں کہ سینٹ کی ایک نشست کے الیکشن کے اخراجات 70 کروڑ روپوں تک پہنچ گئے ہیں۔ عمران خان اپوزیشن کو بہتیرا سمجھا رہے ہیں کہ ووٹوں کی فروخت ہمارا مشترکہ مسئلہ ہے۔

لیکن اپوزیشن یہ بات سمجھنے سے مسلسل انکار کیے جا رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں اب تک جمہوریت ہی سب سے بہترین نظام حکومت سمجھا گیا ہے۔ اب یار لوگوں کا ہماری اس جمہوریت سے بھی ایمان اٹھتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے ممتاز عالم دین مفتی ابو احمد عبدا اللہ لدھیانوی کے پوتے اور علم سیاسیات کے استاد پروفیسر انعام الرحمان نے اپنے پیج پر جمہوریت کو ناپسند کرتے ہوئے آمریت کی حمایت کر ڈالی۔ کالم نگار نے انہیں پوچھا۔ حضور!

یہ کیا ہوا؟ کہنے لگے۔ موجودہ جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی بائی پراڈکٹ ہے۔ مغربی دنیا میں اس کے مثبت ثمرات درحقیقت بائیں بازو کے موثر دباؤ کے تحت سامنے آئے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں بایاں بازو اتنا مضبوط کبھی نہیں ہو سکا کہ سرمایہ داری کو نکیل ڈال کر مغربی طرز کی فلاحی ریاست میں ڈھال سکے۔ اب ہم منتظر ہیں کہ

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟ دنیا ہے تیری منتظر روز مکافات!
کیونکہ
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply