لڑکیاں اظہارِ محبت میں پہل کیوں نہیں کرتیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیریں بھی نہیں، لیلیٰ بھی نہیں
میں ہیر نہیں، عذرا بھی نہیں
وہ قصہ ہیں، افسانہ ہیں
وہ گیت ہیں، پریم ترانہ ہیں
میں زندہ ایک حقیقت ہوں
میں جذبہ عشق کی شدت ہوں

میں جذبہ عشق کی شدت ہوں۔ کتنی خوبصورت سچائی ہے اس جملے میں۔ اس جملے کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے جذبات کی لہریں سچ مچ ساحل سے ٹکرا کر سب کچھ ساتھ بہا لے جانے کی طاقت رکھتی ہیں۔ محبت ایسا ہی جذبہ ہے جو انسان سے وہ سب کروا ڈالتا ہے جو عام حالات میں کرنے کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

آگے شاعر اس شدید عشق کا جذبہ رکھنے والی عورت کی مجبوری کچھ یوں بیان کرتا ہے
میں تم سے کہنا چاہتی ہوں
میں تم سے پوچھنا چاہتی ہوں
لیکن میں پوچھ نہیں سکتی
مانا کہ محبت ہے پھر بھی
لب اپنے کھول نہیں سکتی
لڑکی ہوں نا، کیسے کہہ دوں
تم سے آخر کیسے پوچھوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

یہ نظم جتنی خوبصورت ہے وہاں اس میں ایک بدصورت حقیقت بھی سانس لے رہی ہے اور وہ یہ کہ ہمارے سماج میں عورت محبت کرنے کے لئے بھی آزاد نہیں۔ رسم و رواج، معاشرتی پابندیوں اور جھوٹی لاج شرم کی وجہ سے اکثر عورتیں من پسند شخص سے محبت کا اظہار کرنا اپنی نسوانیت کی توہین گردانتی ہیں۔ یہ نظم اور اس کا اول سے آخر تک محسوس ہونے والا اتار چڑھاؤ ہم میں سے اکثر عورتوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔

غور کریں کہ اس شعر میں اتنا شدید جذبہ عشق رکھنے والی عورت محبت کے اظہار تک آ کر اتنا کترا کیوں کر گئی؟ کس نے کہا کے لڑکی اپنے لب نہیں کھول سکتی؟ جذبہ عشق کی شدت رکھنے والی کس سے ڈرگئی اس نام نہاد سماج سے؟ جو پورا سال نفرتوں کے دن منا کر ایک دن محبت کا دن منانے کو بے حیائی کا نام دے ڈالتا ہے؟ یا پھر مسترد ہونے کے خوف سے؟ لیکن یہ خوف تو لڑکوں کے دل میں بھی ہوتا ہے؟ عورت اظہار کے لیے مرد کی منتظر کیوں رہتی ہے؟ کیا مرد کو حق نہیں کہ اسے چاہا جائے؟ یا عورت خود کو مرد سے کم انسان سمجھ کر اپنے جذبات کو خود ہی رد کر دیتی ہے؟ یہ تو سوچیں کہ آپ کو محبت کرنے کے لئے بھی کسی کی اجازت درکار ہے؟

بہت چھوٹی زندگی ہے۔ اور اس میں خوبصورت دن بہت کم۔ اب کیا کہیں کہ ویلینٹائن ڈے منانے کی پابندی تو ملک کی عدلیہ نے عائد کی ہے لیکن خوبصورت موسم میں یہ محبتوں کا دن آتا ہے تو بے اختیار دل کی دھڑکنوں کو اپنے لپیٹے میں لے لیتا ہے۔ میں ان منافقین میں سے ہر گز نہیں ہوں جو اس خاص دن کو زبردستی ماں باپ، بہن بھائی سے نتھی کر کے خود کو ”سوڈو شریف“ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ اس دن کا حسن صرف محبوب کے ساتھ ہے۔

ویلینٹائن ڈے پر پابندی سہی لیکن محبت کرنے اور اس کا اظہار کرنے کے لئے خود پر پابندی نہ لگائیں۔ زندگی کی لطافت کو محسوس کریں اور جو وقت پاس ہے اسے صرف انتظار میں ضائع کرنے کے بجائے عورت /مرد کی تفریق کے بغیر جس کہ لیے بھی دل کچھ محسوس کرتا ہے اسے یہ بتانے میں دیر نہ کریں۔ عزت نفس کسی دوسرے کی پہل کا محتاج رہنے میں نہیں بلکہ اپنے دل کی آواز کو فوقیت دینے میں پوشیدہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply