ویلنٹاین ڈے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بازاروں، سٹوروں میں زبردست چہل پہل ہے ہر طرف لال سرخ دل نظر آرہے ہیں چھوٹے بڑے ہر سائز میں جو پسند آئے خرید لیں۔ بھالو، بندر سب دل پکڑے بیٹھے ہیں۔ غبارے ہیں تو دل کی شکل میں، دھڑکتا ہوا دل جو زندگی کی نشانی ہے لیکن وہ جو محبت سے بھرپور ہو وہ زندگی کی گرما ہٹ، شدت اور جذبات کا آئینہ دار ہے۔

سرخ پھولوں اور گلابوں کی بھرمار ہے اور دام دوگنے تین گنے لیکن خریداری جاری ہے چاکلیٹ اور کینڈیز کے ڈبے، بیکری کے تمام مصنوعات کو دل کی شکل میں بنایا گیا ہے سٹرا بری کے دام بھی آج زیادہ ہیں اس کی مخصوص شکل کی وجہ سے اس کو چاکلیٹ میں ڈبو کر اس شکل کو اور ابھارا گیا ہے کھلونوں نے دل پکڑا ہوا ہے۔ کل شام تک یہ سب آدھی اور تین چوتھائی قیمت تک آجائینگی یہ یہاں کی معیشت ہے، خرید و فروخت کا طریقہ کار گاہکوں کو ایک نفسیاتی کشش اور دباؤ میں ڈالنے کی کوشش، زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب، اسی کو چلتی پھرتی بھاگتی دوڑتی معیشت اور اقتصادیات کہتے ہیں اور یہ احساس کہ یہ سب انتہائی ضروری ہے۔

مرد حضرات اور خواتین ایک دوسرے کو، خاندان کے افراد ایک دوسرے کو، تحائف اور پھول دیتے ہیں جو مجھے تو اچھا لگتا ہے اسی بہانے کوئی پوچھ لیتا ہے۔ خواتین مرد، بچے بوڑھے ایک دوسرے سے اظہار محبت کر رہے ہیں۔ اور تیسری صنف والے استغفراللہ ہم ان کو کتنا بھی نظر انداز کریں لیکن یہ ترقی یافتہ اقوام ان کو ایک حقیقت بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔ کیا عنقریب ہی قوم لوط کی تاریخ دھرائی جائے گی؟

۔ چند کتوں والوں سے ہیلو ہائے ہوئی یہ رابطہ کتے کی سطح پر ہوتا ہے ان کے کتے کی تعریف کر لی نسل وغیرہ پوچھ لی ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں، ہر جگہ زندگی گزارنے کے اپنے آداب اور تقاضے ہوتے ہیں۔ یہ میں نے ابھی کچھ عرصے سے شروع کیا ہے۔ کتوں اور بلیوں اور دیگر پالتو جانوروں کے لئے بھی ولنٹاٰئن کے تحائف کی خریداری جاری ہے ان کے لئے بھی دل کی شکل میں اشیا ء تیار ہیں جو ان کو کل دیے جائیں گے۔ آخر کو وہ بھی خاندان کے فرد ہیں ہر تہوار پر ان کے تحائف کا خیال ضروری ہے وگرنہ زیادتی کا احتمال ہے۔

یہ تو کرہ ارض کے اس نصف حصے کی کہانی ہے جہاں 13 فروری کی شام ہے جبکہ باقی نصف پر دن طلوع ہو رہا ہے اور وہ بھی 14 کا۔ وہاں کا ہنگامہ یہاں سے زیادہ بے ہنگم اور بے ڈھنگا ہے لیکن وہ بھی پوری طرح اس کے لئے تیار ہیں بلکہ جوش و خروش کچھ زیادہ ہی ہے۔ اس مرتبہ پاکستان میں سرکاری سطح پر اعلان ہوا ہے کہ کھلے عام کوئی بیہودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور نہ ہی پارٹیوں کی اجازت ہوگی۔ اب یہ تو بعد میں اندازہ ہوگا کہ حقیقتاً کتنا عمل درآمد ہوا۔

تقریباً 30۔ 32 سال پہلے ایک عزیزہ پاکستان آئین تو دل کے شکل کے دیدہ زیب چوکلیٹ کے ڈبے کافی مقدار میں لائیں ایک روزاس مخصوص بناوٹ کے متعلق پوچھ ہی لیا۔ بتایا کہ وہاں ایک دن منایا جاتا ہے جسے day valentine کہتے ہیں اور یہ اس دن دیے جاتے ہیں میں نے پہلی مرتبہ یہ نام اس وقت سنا۔ (اب تو ہم بھی اس میں طاق ہو گئے کہ بعد میں یہ چاکلیٹ اونے پونے خرید لو)۔ اور پھر کس کے گھر جائے گا طوفان بلا میرے بعد ۔ اس طوفان بلا نے سارے ممالک کودیکھتے ہی دیکھتے جکڑ لیا وہاں بھی جہاں سب کچھ در پردہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ایف ایم چینل، اخبارات کے اخبارات ولنٹاین کے پیغامات سے بھرے ہوئے ہیں ٹی وی چینل رنگ برنگے پروگرام اسی مناسبت سے ترتیب دے دیتے ہیں۔ جذباتی قوم ہے، ایک طرف شد و مد سے اس کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور اور دوسری جانب اس کے منانے والے تمام حدود سے بے نیاز۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند بھی اس کو اپنانے پر تیار نہیں ہیں وہ بھی توڑ پھوڑ اور احتجاج میں کسی سے کم نہیں ہیں لیکن ان کی کایا تو کچھ زیادہ ہی پلٹی ہوئی ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ بے حیائی میں مغرب کو پیچھے چھوڑ جائیں۔

اس کی کیا تاریخ ہے اور تاریخ سے کیا لینا دینا۔ St. Valentine حقیقتاً کون تھا اور تھا بھی کہ نہیں بس اب یہ دن حقیقت ہے۔ امریکا اور یورپ کے کاروباری دماغوں نے یہ دن بنا لیا اور ساری دنیا کے لئے ایک شغل شروع کر دیا۔ امریکا کوئی دن منائے اور باقی دنیا پیچھے رہے؟

اچھی باتوں کو اپنانا مشکل ہے لیکن جو اپنایا جاسکتا ہے اس میں دیر کیسی؟ پھر میڈیا اور ٹیکنالوجی جسنے دنیا کو اس قدر چھوٹا کر دیا۔ نہ معلوم ہمارے عیدین نے ان کو اب تک کیوں متاثر نہیں کیا اور مشکل ہی ہے کہ کرے۔ ہماری دلجوئی کے لئے عید کے ٹکٹ تو نکال لئے جو ہم ڈر کے مارے نہیں خریدتے ”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ“ اب تو نیویارک کے اسکولوں میں عید کی چھٹی ہوا کرے گی۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ حد بندی کہاں کرنی ہے، جائز اور ناجائز کی تفریق کیسے کی جائے؟ ایک درمیانہ اور جائز راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے آخر نوجوانوں کو بھی کوئی مثبت سرگرمی چاہیے۔ آپ ان کو آخرت کی عذاب سے ضرور خبردار کریں، جائز و نا جائز میں تمیز سکھائیں لیکن ان کو تنگنائی میں اتنا بھی نہ بند کریں کہ سانس لینا مشکل ہو جائے۔ دنیا میں عزت اور وقار کے ساتھ جینا بھی سکھایں۔ ہم اللہ سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا سوال کرتے ہیں۔

محبت دنیا کا حسین ترین جذبہ ہے۔ جائز خونی رشتوں کی جائز محبت، ازدواج کی آپس کی محبت اللہ تعالٰی کا عظیم تحفہ اور انعام ہے۔ اس کا خوبصورت اظہار رشتوں کو اور مستحکم بناتا ہے۔ اس اظہار کے لئے یہی دن کیوں؟ چلئے معاشرتی حالات یا ماحول کے تحت یہ دن بھی ہوا تو کیا برا ہوا؟ اب میں تو آپ لوگوں کو کوئی happy happy ہرگز نہیں کہونگی کیونکہ میں مذاق کے علاوہ کسی کو نہیں کہتی۔

Latest posts by عابدہ رحمانی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عابدہ رحمانی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply