خاتون رپورٹر کو دھمکانے کا الزام، وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکریٹری مستعفی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹی جے ڈکلو (فائل فوٹو)

خاتون صحافی کو مبینہ طور پر دھمکی دینے والے وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکریٹری ٹی جے ڈکلو اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

ڈکلو کو جمعے کو ایک مقامی میگزین میں ایک رپورٹ شائع ہونے کے بعد ایک ہفتے کے لیے بغیر تنخواہ کے معطل کر دیا گیا تھا۔ ایسو سی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ڈکلو نے ایک اور خاتون سیاسی رپورٹر کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق خبر پر کام کرنے والی خاتون صحافی کو دھمکایا اور کہا کہ “وہ اُنہیں تباہ کر دیں گے۔”

ہفتے کو ڈکلو نے اپنے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر شدید دکھ ہے کہ وہ صدر جو بائیڈن اور اپنے ساتھیوں کے لیے شرمندگی اور مایوسی کا باعث بنے۔

انہوں نے کہا کہ “میں نے ایسی زبان استعمال کی جس کا کسی بھی صحافیانہ فرائض انجام دینے والی خاتوں صحافی کو سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ یہ گستاخانہ، قابلِ نفرت اور ناقابلِ قبول زبان تھی۔”

اس واقعے سے قبل “پیپل” نامی میگزین نے وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری اور ‘ایکسیاس’ نامی نیوز ویب سائٹ کی خاتون رپورٹر کی پروفائل چھاپی جس میں دونوں نے اپنے باہمی مراسم کو تسلیم کیا۔

بائیڈن کے صدر بننے کے بعد ان کی انتظامیہ سے کسی اہلکار کے مستعفی ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ ڈکلو کے خلاف کارروائی سے قبل بائیڈن انتظامیہ پر یہ دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ اپنے ہی قائم کردہ معیار کے مطابق ڈکلو کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی۔

یاد رہے کہ صدر بائیڈن نے اپنی افتتاحی تقریب کے موقع پر پہلی تقریر میں واضح کیا تھا کہ ان کے انتظامیہ کے کسی بھی عہدے دار نے اگر کسی سے گستاخانہ رویہ اختیار کیا تو انہیں موقع پر ہی انتظامیہ سے فارغ کر دیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی حیلے یا بہانے کو نہیں سنا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی کو اس معاملے پر جمعے کو تندوتیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ صحافیوں نے ساکی کو بائیڈن کی جانب سے کیے گئے وعدے بھی یاد دلائے تھے۔

ساکی کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کی اعلٰی عہدے داروں نے معذرت کی جب کہ ڈکلو نے بھی معافی مانگی ۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1236 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply