ٹرمپ سینیٹ میں بری ہو گئے: سیاسی بلیک میلنگ کی بدترین مثال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار سینیٹ میں مواخذہ سے بچنے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ’امریکہ کو عظیم بنانے کا سفر ابھی شروع ہؤا ہے‘۔ سابق صدر کا یہ بیان ان کے سیاسی دشمنوں سے زیادہ ری پبلیکن پارٹی اور اس کی قیادت کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ رات امریکی سینیٹ نے 57 کے مقابلے میں43 ووٹوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو بری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

 کسی صدر کے مواخذے کے لئے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو یہ مقدمہ جیتنے کے لئے67 سینیٹرز کی حمایت درکار تھی۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹرز اور دیگر لیڈر ان کے خلاف بات کرنے یا کوئی رائے دینے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ سینیٹرز کو اندیشہ ہے کہ اگر وہ ٹرمپ کے خلاف اصولی بات بھی کریں گے تو بھی منتقم مزاج ٹرمپ دو سال بعد ہونے والے مڈ ٹرم انتخاب میں ان کی مخالفت پر اتر آئے گا۔ کوئی ری پبلیکن یہ خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں۔ اس وقت امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اور ری پبلیکن پارٹی کو مساوی سیٹیں حاصل ہیں تاہم ڈیموکریٹک کاملا ہیرس نائب صدر ہیں اور ووٹوں کی مساوی تقسیم کی صورت میں اپنی پارٹی کی حمایت میں ووٹ دے سکتی ہیں، اس لئے تکنیکی لحاظ سے ڈیموکریٹک پارٹی کو سینیٹ کی اکثریتی پارٹی کہا جاتا ہے۔ البتہ ڈیموکریٹک پارٹی کو سابق صدر کے خلاف مواخذہ کا مقدمہ جیتنے کے لئے کم از کم 17 ری پبلیکن سینیٹرز کی حمایت درکار تھی۔ لیکن صرف 7 ری پبلیکن سینیٹرز نے سابق صدر کو سزا دینے کے حق میں ووٹ دیا۔

سینیٹ میں ایک بار پھر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کرنے سے انکار کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر بن گئے ہیں جنہیں دو بار مواخذہ کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں بار ہی ایوان نمائیندگان میں مواخذہ کے بعد سینیٹ میں ری پبلیکن پارٹی کی اکثریت کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔ تاہم فروری 2020 میں سینیٹ کی اکثریت یعنی 52 سینیٹرز نے مواخذہ کی مخالفت کی تھی۔ ایک کے سوا سب ری پبلیکن سینیٹرز نے ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ اس طرح ایک تو سینیٹ بڑی حد تک پارٹی لائن پر تقسیم دکھائی دی تھی، دوسرے کم از کم سینیٹرز کی اکثریت نے مواخذہ نہ کرنےکی حمایت کی تھی۔ اس بار یہ صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ گو کہ ری پبلیکن پارٹی میں بڑی تقسیم دیکھنے میں نہیں آئی لیکن ایوان نمائیندگان میں دس اور سینیٹ میں سات ری پبلیکنز کا اپنی ہی پارٹی کے سابق صدر کے خلاف ووٹ دینا امریکی سیاست میں ایک عجوبہ سمجھا جارہا ہے۔ اس سے پہلے کبھی کسی مواخذہ کی کارروائی میں اتنی بڑی تعداد میں پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دینے مثال موجود نہیں ہے۔

گزشتہ رات سینیٹ میں ووٹنگ سے پہلے یہ حقیقت تسلیم کی جارہی تھی کہ ری پبلیکن پارٹی کے زیادہ تر سینیٹرز اس مرحلہ پر بھی اپنی پارٹی کے سابق صدر کو بچانے کے لئے ہی ووٹ ڈالیں گے۔ حالانکہ گزشتہ کے مقابلے میں اس بار ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ سنگین الزام تھا کہ انہوں نے انتخاب ہارنے کے بعد 6 جنوری کو اپنے حامیوں کو واشنگٹن میں جمع کیا۔ پھر وہائٹ ہاؤس کے باہر ان سے خطاب کرتے ہوئےانہیں ’عظیم امریکہ کے محب وطن‘ عناصر کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے کانگرس پر ’حملہ‘ کرنے پر اکسایا۔ اس حملہ میں ایک پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سابق امریکی صدر مائیک پنس اور کانگرس کے بیشتر ارکان نے مختلف کمروں میں چھپ کر جان بچائی۔ حملہ آور سابق نائب صدر پنس کو تلاش کرتے رہے تھے تاکہ ٹرمپ کا مشورہ نہ ماننے پر انہیں سزا دے سکیں۔ اس طرح سابق صدر نے نہ صرف کانگرس پر حملہ کروایا بلکہ اپنے ہی نائب صدر کی زندگی کو خطرے میں ڈالا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت یہ دعویٰ کررہے تھے کہ جو بائیڈن کے مقابلے میں وہ صدارتی انتخاب جیتے ہیں لیکن بعض ریاستوں میں انتخابی دھاندلی کے ذریعے جو بائیڈن کی کامیابی کا اعلان کیا گیا تھا۔ وہ مائیک پنس سے مطالبہ کررہے تھے کہ ان کی قیادت میں کانگرس کا مشترکہ اجلاس جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق سے انکار کردے۔ وہ اجلاس کے صدر کے طور پر اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کانگرس کے ارکان کو توثیق کا موقع دینے سے پہلے ہی نتائج کی دوبارہ تصدیق کے لئے ریاستوں کو روانہ کریں۔ مائیک پنس اس انتہا تک جانے پر آمادہ نہیں تھے۔ انہوں نے کبھی کھل کر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی مطالبے کو مسترد بھی نہیں کیا۔ ٹرمپ نے 6 جنوری کو اسی مقصد سے انتہا پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے اپنے حامیوں کو کانگرس پر حملہ کرنے اور ارکان پر دباؤ ڈالنے کےلئے بھیجا تھا تاکہ کسی بھی طرح صدارتی انتخاب کو مشکوک بنایا جاسکے۔

وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے لیکن انہوں نے امریکی کانگرس پر خونی حملہ کی افسوس ناک روایت قائم کی جسے کانگرس پر حملہ کے علاوہ امریکی جمہوریت پر حملہ بھی کہا جارہا ہے۔ ٹرمپ کے خلاف سینیٹ میں پیش کئے گئے مقدمہ میں یہ نکتہ بھی شامل کیا گیا تھا کہ ٹرمپ کے طرز عمل سے امریکی جمہوریت کو نشانہ بنایا گیا۔ ملک میں جمہوری روایت کے احترام کے لئے اس پر شدید رد عمل ظاہر کرنا اہم تھا۔ اسی لئے کل رات جب سینیٹ کے 43ری پبلیکن ارکان نے ٹرمپ کو بری کرنے کے حق میں ووٹ دیا تو اس پر شدید نارضی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایوان نمائیندگان کی طرف سے مقدمہ پیش کرنے اور دلائل دینے والے مینیجرز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حقائق کو کسی شک و شبہ سے بالا ثابت کردیا تھا۔ بلکہ سینیٹ میں بیٹھے بیشتر لوگ 6 جنوری کو خود زاتی طور پر حملہ آوروں کے نشانے پر تھے۔ تاہم اگر سیاسی مفادات کی وجہ سے وہ ایک مجرمانہ ذہنیت کے شخص کا مواخذہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے تو یہ نہایت افسوسناک اور شرمناک واقعہ ہے۔

سابق صدر کو بری کرنے والے سینیٹرز اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ ٹرمپ 6 جنوری کی اشتعال انگیز کارروائی کا باعث بنے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سینیٹ کو آئینی طور سےکسی سابق صدر کا مواخذہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ سینیٹ میں اقلیتی لیڈر مچ میکانل نے ووٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسی دلیل میں پناہ لینے کی کوشش کی اور تسلیم کیا کہ ڈونلڈٹرمپ چھ جنوری کے حملہ کامحرک تھے اور استغاثہ نے کسی شک و شبہ سے بالا اپنا مقدمہ ثابت کیا ہے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ امریکہ کا آئین ہمیں سابق صدر کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب ایک عام شہری ہیں۔ اس لئے ان کے خلاف ان جرائم پر عام قانون کے تحت مقدمہ چلنا چاہئے۔

امریکہ میں یہ بحث عروج پر ہے کہ جو بائیڈن کی حکومت کانگرس پر حملہ کروانے کے جرم میں سابق صدر پر مقدمہ قائم کرنے میں کتنی مستعدی سے کام کرتی ہے۔ تاہم صدر جو بائیڈن سابق صدر کو قصور وار سمجھتے ہوئے بھی اس معاملہ میں فریق بننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وہ امریکہ کو متحد کرنے کی سیاست کا علم بلند کئے ہوئے ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ اعلان ضرور کیا ہے کہ وہ اپنے اٹارنی جنرل کو خود مختاری سے کام کرنے دیں گے اور وزارت انصاف کے کاموں میں مداخلت نہیں کریں گے۔ سینیٹ نے ابھی تک نامزد اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کی توثیق نہیں کی ہے۔ اس لئے وہ بھی اس معاملہ میں دو ٹوک بیان دینے سے گریز کررہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ توقع کی جارہی ہے کہ اگر سابق صدر کے خلاف ایسے شواہد موجود ہوئے جن سے کسی عدالت میں انہیں کانگرس پر حملہ کا مجرم ثابت کیا جاسکا تو حکومت کے لئے انہیں نظر انداز کرنا مشکل ہوگا۔ جو بائیڈن ضرور مصالحت کا پرچار کرتے ہیں لیکن انہیں بھی سمجھنا ہو گا کہ کوئی بھی مصالحت جمہوریت کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ہی ممکن ہے۔ جو شخص ملک میں جمہوری طریقوں سے بغاوت کرتا ہے اور انہیں تبدیل کرنے کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا، اس کے ساتھ مصالحت کے نام پر نرمی جمہوری کاز کو شدید نقصان پہنچائے گی۔

اسی تناظر میں سینیٹ میں ری پبلیکنز کے اس عذر کو مسترد کیا جارہا ہے کہ ملک کا آئین کسی سابق صدر کے مواخذے کا اختیار نہیں دیتا۔ اول تو یہ بات تاریخی نظائر سے ثابت نہیں ہے۔ دوسرے مقدمہ شروع ہونے سے پہلے دو بار سینیٹ اکثریت رائے سے یہ فیصلہ کرچکی تھی کہ ٹرمپ کے خلا ف کارروائی آئینی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اس کے بعد کارروائی میں شامل ہوکر آئینی عذر پر ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ دینا سیاسی بدیانتی ہے۔ کیوں کہ یہ فیصلہ بہر حال سینیٹ کی اکثریت کو کرنا تھا کہ آئین کیا کہتا ہے۔ اس کی اکثریت طے کرچکی تھی کہ سابق ہونے کے باوجود ٹرمپ کا مواخذہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نکتہ بھی سامنے لایا گیا ہے کہ ایوان نمائیندگان نے 13 جنوری کو ٹرمپ کے خلاف مواخذہ کی قرار داد منظور کرلی تھی۔ اس وقت ٹرمپ بدستور صدر تھے۔ اس لئے اس معاملہ کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھانا سیاسی عذر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ بیان میں اپنے سیاسی عزائم واضح کئے ہیں۔ نومبر کے صدارتی انتخاب میں انہیں 74 ملین امریکیوں نے بھی ووٹ بھی دیے تھے۔ اسی لئے ری پبلیکن قائدین کو خوف ہے کہ ٹرمپ بدستور ایک بڑی سیاسی قوت ہیں۔ تاہم چھ جنوری کو ہونے والے حملے نے حالات کو تبدیل کیا ہے۔ اس خون ریز واقعہ سے امریکی رائے عامہ شدید متاثر ہوئی ہے۔ ٹرمپ کو اب بھی انتہا پسند عناصر کی حمایت حاصل ہوگی لیکن ری پبلیکن پارٹی کا معتدل ووٹر اب ٹرمپ کی حمایت نہیں کرے گا۔ ملک کے سرمایہ دار بھی ٹرمپ سے فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی لئے ری پبلیکن پارٹی ٹرمپ کے معاملہ پر شدید بحران کا شکار ہے۔

ٹرمپ اپنی مقبولیت پسندی کے زعم میں ضرور سمجھتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر صدر منتخب ہوسکتے ہیں لیکن آنے والا وقت ہی یہ واضح کرے گا کہ وہ اپنے سیاسی عزائم میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف ٹیکس جرائم سے لے کر تشدد پر اکسانے جیسے الزامات پر مقدمات قائم ہوسکتے ہیں۔ ذاتی طور پر انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ری پبلیکن پارٹی کو بھی جلد یا بدیر یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کب تک ٹرمپ کی بلیک میلنگ کا شکار رہے گی۔ اس کے باوجود اگر وہ 2024 میں صدر کا انتخاب لڑنے اور جیتنے میں کامیاب ہوگئے تو اسے امریکہ میں جمہوریت پر جان لیوا حملہ سمجھنا چاہئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1764 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply