! تمہیں مجھ سے محبّت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محبت کے دن سوچا محبت کی بات کی جائے لیکن تھوڑی سی حقیقت پسندی کے ساتھ۔ پچھلے دنوں ڈاکٹر خالد سہیل، ثمر اشتیاق اور زہرہ نقوی صاحبہ کے ساتھ گرین زون سیمینار میں شرکت کی اور محبت، رشتوں کی پیچیدگیوں اور اُن کے سلجھاؤ کی بابت فہم اور فرصت کے کچھ موتی سمیٹے، اُنہیں بانٹنے کا چودہ فروری سے اچھا موقع کیا ہو سکتا ہے جب ساری دنیا محبت کے نام پہ سرخ پھولوں، خوشبوؤں، نرمی اور مٹھاس کی باتیں کر رہی ہوتی ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب کسی کو دیکھ کے اور سوچ کے ذہن کے سارے چراغ روشن ہو جاتے ہوں، چشم تصور میں تتلیاں ناچنے لگتی ہوں، اُس کا دکھ آپ کی آنکھ میں آنسو لے آتا ہو، ساری دنیا اس کے سامنے ہیچ نظر آنے لگتی ہو اور بقول شاعر

” اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں“

کی کیفیت غالب آجاتی ہو تو پھر اتنے شدید رنگ کچھ ہی عرصے میں مدھم کیسے پڑنے لگتے ہیں؟ باتوں سے اور نگاہوں سے چاشنی سمٹ کے کدھر کھو جاتی ہے؟ سارے جُگنو ہاتھوں سے ایک دم کہاں پھسل جاتے ہیں؟

بات دراصل یہ ہے کہ تھیوری کے پیپر میں نمبر لینا کافی سہل کام ہے جب اک ڈور میں بندھ کے نبھانے کے لیے رشتوں کی پیچیدہ اکویشنز حل کرنا پڑتی ہیں تو سنبھالنے کی کوشش کے باوجود سارے گلاب ایک ایک کر کے سوکھنے لگتے ہیں اور زندگی چاہت کے نخلستان کے بجائے کوئی ریگستان معلوم ہوتی ہے جہاں حدت اور مشقت دونوں فریقین کو تھکا دیتی ہے۔

تو پھر محبت کے ان گلابوں کو مرجھانے سے کیسے روکا جائے اور چاہت کے ان جُگنوؤں کی حفاظت کیسے کی جائے؟

سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ کام ختم نہیں ہوا بلکہ شروع ہوا ہے۔

شادی کے بندھن کو اکثر خواتین زندگی کے مقصد کی تکمیل سمجھتی ہیں اور مرد حضرات خود کو فاتح تصور کرتے ہیں لیکن جس نے جو قلعے فتح کیا گیا اور جس نے جو حاصل کیا ہے وہ صرف ایک سنگ میل ہے، سفر ابھی باقی ہے۔ محبت کے اس نو تعمیر قلعہ کی مسلسل دیکھ بھال اور سجاوٹ اشد ضروری ہے ورنہ جلد ہی یہ عمارت ایک کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ شادی ہوتے ہی اپنے سارے شوق، ہنر، تخلیقی صلاحیتیں، مشغلے الغرض خوشی حاصل کرنے کے سارے طریقے سمیٹ کے کسی الماری میں بند کر کے رکھ دیتے ہیں نتیجتاً ایک ہنستی کھیلتی خوشگوار شخصیت جس کی ایک جاندار مسکراہٹ مخالف کو چت کر دیا کرتی تھی ایک چڑچڑے، بدمزاج اور بیزار انسان میں بدل جاتی ہے ایسا نہ ہونے دیں۔ کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے رہیں، اپنے آپ کو کسی نہ کسی صورت اپ گریڈ کرتے رہیں۔ اپنی خوشیوں کی کوئی نہ کوئی کھڑکی کھلی رکھیں تاکہ اس کا عکس آپ کے اطراف میں بھی روشنی پھیلائے۔ یاد رکھیں ہمارے ہر رشتے کی خوشگواری پہلے ہماری اپنی ذہنی صحت سے جڑی ہے۔

کمیونیکیشن یعنی بات کرنا بے حد ضروری ہے، ہم اکثر یہ چاہتے ہیں کہ مخالف کہے بغیر ہماری چاہ کو پہچان لے۔ یعنی میں کچھ بھی نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ میری بات خوشبو کی طرح اڑ کے تیرے دل میں اتر جائے۔

تحفے تحائف، پھول، چاکلیٹ، کیک، تعریفیں اور اچھی اچھی باتیں سب ہی کو اچھی لگتی ہیں اس لیے شادی سے پہلے آپ کو یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں پڑی لیکن روزمرہ کی زندگی میں عادتوں، ادب آداب، دوسروں سے ملنا ملانا، اپنی پسند نا پسند، اور ازدواجی تعلق میں اپنی خواہشات اور ترجیحات ایک دوسرے کو بتانا بے حد ضروری ہے کیونکہ کوئی انسان آپ کے دل کا حال نہیں جان سکتا۔ ہفتے وار ایک میٹنگ کئی اُلجھی گرہیں سلجھا سکتی ہے اور اگر بات کرنا ممکن نہ ہو تو لکھنے کا سہارا لیں، یہ میرا اپنا تجربہ ہے کئی بار اپنے مسئلے کو لکھنا ہمیں خود اپنے مسئلے اور دوسرے کی پوزیشن کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور دوسرے کو بھی بجائے فوری رد عمل دینے کے رسان سے پڑھنے اور سوچنے کا موقع ملتا ہے۔

اکثر بچوں اور خاندانی نظام کی مصروفیت میں میاں بیوی کا رشتہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس کی آبیاری کے لیے ایک دوسرے کی کوششوں کو اچھے الفاظ سے سرہانے کے ساتھ ساتھ ہفتے وار میاں بیوی کو وقت نکالنے کی ضرورت ہے چاہے وہ ساتھ باہر کھانا کھانے کی صورت ہو، چھوٹی سے ڈرائیو یا واک ہو یا ایک دوسرے کے لیے تیار ہونے کی شکل میں ہو۔ وہ الفاظ ایک دوسرے کے لیے استعمال کریں جو منگنی اور ہنی مون پریڈ کے بعد سے متروک ہو چُکے ہیں۔ ”ہنی“ اور ”جانم“ ”ابا“ اور ”امّاں“ کا متبادل نہیں ہو سکتے یہاں رومانس دم توڑ دیتا ہے، یہ چھوٹی چھوٹی باتیں رشتے پہ مثبت اثر ڈالتی ہیں۔

عرصہ پہلے کہیں پڑھا تھا
You can ’t have fun on the bed untill you don‘ t have fun out of the bed

ڈاکٹر سہیل نے ایک دلچسپ بات اور کہی کہ کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کو بحث کے وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے مثلاً

Always, never, should ,must
یعنی ”تم ہمیشہ ہی ایسے کرتے /کرتی ہو،
تم نے کبھی ایسا نہیں کیا
تم یہ کرنا ہی چاہیے یا یہی کرنا ہے
اس طرح کے الفاظ سخت لہجے سمیت رشتہِ نبھانے کی پچھلی ساری محنت اور تپیسا پہ پانی پھیر دیتے ہیں۔

مسئلوں اور اختلافات کو سلجھانے کے لیے عمومی رویے کیا ہوتے ہیں اور صحیح حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے اس کے بارے میں اگلے حصے میں بات کریں گے۔

ابھی امجد اسلام امجد کی خوبصورت نظم پڑھیے جو محبت کی تھیوری کا عکس ہے۔
! محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
! یقین کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو
! نگاہوں سے ٹپکتی ہو، لہو میں جگمگاتی ہو
! ہزاروں طرح کے دلکش حسیں ہالے بناتی ہو
اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بار ہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے
محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑ نے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو ”مجھ سے محبت ہے“
کہو ”مجھ سے محبت ہے“
تمہیں مجھ سے محبت ہے
سمندر سے کہیں گہری، ستاروں سے سوا روشن
پہاڑوں کی طرح قائم ’ہواؤں کی طرح دائم
زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں
محبت کے کنائے ہیں، وفا کے استعارے ہیں
ہمارے ہیں
ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں سنہرا دن نکلتا ہے
محبت جس طرف جائے، زمانہ ساتھ چلتا ہے ”
کچھ ایسی بے سکونی ہے وفا کی سرزمینوں میں
کہ جو اہل محبت کی سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو
کہ جیسے ہاتھ میں پارا
کہ جیسے شام کا تارا
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
! گماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے الفت کا
یہ عین وصل میں بھی ہجر کے خدشوں میں رہتی ہے
محبت کے مسافر زند گی جب کاٹ چکتے ہیں
تھکن کی کرچیاں چنتے
وفا کی اجرکیں پہنے
سمے کی رہگزر کی آخری سرحد پہ رکتے ہیں
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر
دھیرے سے کہتا ہے
! یہ سچ ہے نا
ہماری زندگی اک دو سرے کے نام لکھی تھی
دھندلکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے
! اسی کا نام چاہت ہے
تمہیں مجھ سے محبت تھی
! تمہیں مجھ سے محبت ہے
محبت کی طبعیت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply