سی پیک اور کثیرالثقافتی میل جول کا پہلو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جغرافیائی اور علاقائی باہمی رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہونے کے تناظر سے قطع نظر پاک چین اقتصادی راہداری نے اس بات کی بھی امید پیدا کردی تھی کہ اس سے پاکستان کی معاشی اٹھان ممکن ہوگی اور صنعتی شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ لیکن یہ امید آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ نہ صرف یہ کہ مقتدر اشرافیہ اس منصوبے کی حقیقی طاقت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور اس کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ منصوبے کا ڈھانچہ بھی مربوط و منضبط حیثیت میں متشکل نظر نہیں آیا۔

سی پیک کے اندر یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ یہ ملک کی سیاسی سماجی اور ثقافتی کایاپلٹ میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے جو فی الوقت مختلف انتہاپسند اور قدامت پسند رجحانات کی زد میں ہے۔ یہ رجحانات نہ صف یہ کہ معاشرتی ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ ایسی ذہنیت کو پروان چڑھانے کا باعث ہیں جو متعصب اور غیرتخلیقی ہے۔ سی پیک ایک کثیرالثقافتی منظرنامے کی تشکیل کا بہترین موقع تھا اور اب بھی ہے۔

آغاز میں سی پیک نے اس چیز کے لیے ماحول کی حوصلہ افزائی کی تھی کہ درمیانی درجے سے لے کر بڑے پیمانے کے چینی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے آئیں، لیکن بیوروکریسی اور روایتی صنعتی طبقے کے گٹھ جوڑ نے ان کے لیے روڑے اٹکائے۔ دوسری طرف معاشرہ بھی اس کے لیے تیار نہیں تھا کہ مقامی مارکیٹ کے اندر اتنی بڑی تعداد میں داخل ہونے والے غیرملکیوں کے ساتھ اپنا ایک صحت مند ربط بناسکے۔ امن وامان سے متعلقہ اور سیاسی عوامل نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

سی پیک کے بڑے منصوبے جو خودمختار ضمانتوں کے حامل ہیں وہ اب بھی جاری ہیں، تاہم معاشی زونز کا قیام اور صنعتی و زرعی شعبوں میں تعاون حالیہ برسوں میں نہایت سست روی کا شکار ہوئے ہیں۔ چینی سرکاروں کے پاس متبادل پرکشش مقامات موجود ہیں جہاں انہیں زبردست منافع حاصل ہوسکتا ہے، بالخصوص ایسے ممالک جو نہ صرف غیرملکی سرمایہ کاری کے شدید خواہش مند ہیں بلکہ وہ غیرملکیوں کے لیے سماجی سیاسی اور ثقافتی قبولیت کا ماحول بھی فراہم کرتے ہیں۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کثیرالثقافتی اور تنوع پسند ممالک غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش ہوتے ہیں۔ پاکستان مذہبی، نسلی اور ثقافتی لحاظ سے ایک متنوع تشخص رکھنے والا ملک ہے لیکن یہ تنوع کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے میں ابھی جدوجہد کے راستے پر ہے۔ ریاست اور سماج کے نمایاں حیثیت کے حامل طبقے ملائیت نے پورے سماجی فکری تانے بانے میں مبالغہ آمیز مذہبی جوش وخروش کو اس حد تک غالب کردیا ہے تنوع کو قبول کرنے یا اس کی حوصلہ افزائی کے لیے جگہ کم رہ گئی ہے۔

نتیجے میں سماج ہر اس شے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو نئی یا مختلف ہو، بشمول غیرملکیوں کے بالخصوص جو ہم مذہب بھی نہ ہوں۔ بدقسمتی سے نائن الیون کے بعد آنے والی دہشت گردی کے لہر کے مرحلے سے بہت پہلے ہی پاکستان نے بین الاقوامی سیاحوں کے لیے کشش کھو دی تھی۔ لحظہ بلحظہ بڑھتے عدم تحفظ اور تشدد کے ماحول نے سکیورٹی اداروں کو غیرملکیوں کے حوالے سے حد سے زیادہ حساس بنا دیا چاہے وہ غیرملکی مغربی ممالک سے تعلق رکھتے ہوں یا جنوب ایشیائی پڑوسی ممالک سے، اکثر حالات میں ان غیرملکیوں کو دیکھنے کا تناظر یہ تھا کہ وہ ممکنہ طور پہ ملک دشمن ہوسکتے ہیں۔

اس عمل میں غیرملکی خطرات سے نمٹنے کی غرض سے ریاستی اداروں نے ایسی کڑی ویزا پالیسیاں اور شرائط لاگو کیں کہ جس کے بعد کوئی بھی پاکستان آنے کا فیصلہ کرنے سے قبل کئی بار سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ سخت شرائط وضوابط نہ صرف بین الاقوامی این جی اوز اور سیاحوں کے لیے تھے بلکہ سرمایہ کاروں کے لیے بھی یکساں صورتحال رہی۔جرمن سیاح جوڑا جو لاہور میں ایک گاڑی میں رہ رہا تھا اس کے بارے میں کی جانی والی میڈیا کوریج ایک مثال ہے کہ ہمارا سماج ملک میں غیرملکیوں کی موجودگی کے حوالے سے کتنا تشکیک پسند اور غیرتسلی بخش ہوگیا ہے۔

وہ جوڑا جو اپنی کار پہ دنیا کا سفر کرنے کے مشن پر تھا اسے مقامی میڈیا نے ہراساں کیا، اسے جاسوس کا نام دیا اور ’پراسرار‘ بتایا۔ ان کی اگلی منزل بھارت تھی مگر کورونا وبا اور ویزا پابندیوں کے باعث وہ شہر کے اندر زیادہ عرصے تک ٹھہرنے پر مجبور ہوئے تھے۔

خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک عام پاکستانی میں اس چیز کے امکانات کم ہیں کہ وہ غیرملکیوں کے ساتھ تعلق صحت مند تعلق استوار کرسکے۔ پاکستانی شہری اگر معاشی عوامل کے تحت خلیجی ریاستوں میں اور مشرقی ایشیائی ملکوں کا رخ کرتے ہیں یا بیرون ملک تعلیم کی غرض سے جا رہے ہیں تو ان کے پاس غیرملکیوں کے ساتھ بات چیت اور تعلق استوار کرنے کے زیادہ مواقع ہیں۔ مغربی ممالک میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن یہ متنوع نہیں ہے اور یہ ملک کے مخصوص علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

کثیرالثقافتی معاشروں میں رہتے ہوئے انہیں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک کثیرالثقافتی ماحول کی نشوونما ہمارے معاشرے میں موجود انتہاپسندی کے اثرات کو بھی کم کرسکتی ہے۔ یہ ملک کے اپنے متنوع عناصر کے لیے جگہ پیدا کرسکتی ہے اور ان کے لیے قبولیت کے جذبات ابھار سکتی ہے۔ ایک کثیرالثقافتی ماحول کا عنصر معاشروں کو مہمیز دیتا ہے اور افراد کے ذہنی افق کو وسیع کرتا ہے۔ سی پیک ہزاروں چینی شہریوں کو پاکستان لے کر آیا ہے۔

وہ یا تو اس کے منصوبوں سے وابستہ شعبوں میں کام کررہے ہیں یا سرمایہ کاری کے ممکنہ راستے تلاش کر رہے ہیں۔ چینی حکومت نے بھی عوامی سطح پر دونوں ملکوں کے لوگوں کے مابین ربط کی استواری کے حوصلہ افزا اقدامات کیے، اس نے میڈیا، تعلیم و تحقیق سے وابستہ ماہرین، سیاستدانوں، کاروباریوں اور نوجوانوں کے کے دوروں کا اہتمام بھی کیا تاکہ لوگوں کو ثقافتی اور سماجی سطح پر ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے۔ تقریباََ 23 ہزار پاکستانی طلبہ مختلف شعبوں میں چین کے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔

ابتدا میں پاکستانی لوگ چینی شہریوں کے حوالے کافی پرجوش تھے اور ان کے یہاں آنے کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے لیکن ثقافتی خلا بتدریج بڑھتے گئے۔ سکیورٹی کی مخدوش صورتحال نے بھی چینی شہریوں کو پابند بنایا کہ وہ اپنی نقل وحرکت محدود کریں اور مقامی لوگوں کے ساتھ روابط میں محتاط رہیں۔سیاحت کے عالمی منظرنامے پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ چینی شہری کورونا وبا کے پھوٹنے سے قبل سیاحت کی صنعت میں خاطرخواہ حصہ ڈال رہے تھے، تاہم پاکستان کا حصہ اس حوالے سے نہ ہونے کے برار تھا۔ وزیراعظم عمران خان پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے معاملے میں بہت پرجوش ہیں، لیکن قطع نظر اس کے کہ ملک میں سیاحت کا بنیادی ڈھانچہ ہی بہت کمزور ہے، ریاستی اداروں اور سماج دونوں کی ذہنیت سیاحت کو فروغ دینے اور اس کے مواقع کے استعمال میں بڑی رکاوٹ ہے۔

ایک کثیرالثقافتی ماحول کی نشوونما ہمارے معاشرے میں موجود انتہاپسندی کے اثرات کو بھی کم کرسکتی ہے۔ یہ ملک کے اپنے متنوع عناصر کے لیے جگہ پیدا کرسکتی ہے اور ان کے لیے قبولیت کے جذبات ابھار سکتی ہے۔ چین اور پاکستان باہمی سطح پر بہترین جغرافیائی اور سیاسی تعلقات کے حامل ممالک ہیں اور اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ چینیوں کا ملک میں پرتپاک خیرمقدم کیا جائے گا۔ سی پیک کو بھی ملک کے سماجی اور ثقافتی تناظر کی تبدیلی میں ایک مؤثر عامل کے طور پہ دیکھا جا رہا تھا لیکن فی الوقت یہ جوش اور امید بظاہر لاحصل نظر آرہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply