ہمارے عدالتی نظام کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں چار چیزیں اہم ہوتی ہیں۔ ریاست کا بنیادی ڈھانچہ حکومت، مقننہ، عدلیہ اور میڈیا ۔ یہ چاروں ریاست کے چار ستون کہے جاتے ہیں کیونکہ اگر ان چار میں سے ایک بھی چیز نہ ہو تو ریاست کا نظم و نسق چلایا ہی نہیں جا سکتا۔

ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ چار چیزیں موجود ہیں۔ مقننہ اور حکومت پر تو میں اپنی رائے اور تبصرہ کئی بار دے ہی چکا ہوں مگر آج ہم اس مملکت خداداد کے نظام عدل پر بات کریں گے کہ کیا واقعی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے تو اس کا جواب ہے نہیں!

پاکستان کا نظام عدل تو خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ایسا نظام عدل کسی ملک میں نافذ رہ کیسے سکتا ہے،  مگر ہمارے ہاں تو الحمد للہ 73 سال سے یہ نظام رائج ہے۔ پاکستان کا عدالتی نظام کنٹرولڈ ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ترقیاتی فنڈز سے متعلق تازہ کیس ہے۔ کیس وزیر اعظم کے بارے میں تھا مگر فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں آ گیا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے متعلق کوئی کیس نہیں سن سکیں گے اور اب تو ان کو تمام بینچز سے الگ کر کے صرف دفتری امور سونپ دیے گئے ہیں۔

کیا چیف جسٹس صاحب کو نہیں معلوم تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کے خلاف آئینی درخواست دائر کی اور سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے وہ ریفرنس کالعدم قرار دے دیا تھا۔ انہیں نہیں پتا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کیس کے دوران کیا کیا؟

جب چیف جسٹس صاحب کو معلوم تھا تو جب قاضی فائز عیسیٰ نے از خود نوٹس لے کر بینچ کی تشکیل کے لئے چیف جسٹس صاحب کو بھیجا تو جب چیف جسٹس صاحب کو معلوم تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا وزیراعظم سے کوئی ذاتی عناد ہے اور اگر وہ بینچ کا حصہ ہوں گے تو اپنی رائے دیتے ہوئے انصاف اور عدل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہیں ذاتی عناد کو ترجیح دے کر فیصلہ نہ دے دیں تو انہیں بینچ میں ہی شامل کیوں کیا تھا؟ اوپر سے جب فیصلہ جاری کیا تو نہ جسٹس قاضی فائز کو دیگر چار ججز کا فیصلہ بھیجا اور نہ ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اکثریتی فیصلے میں کوئی تائید، اختلافی نوٹ اور حتیٰ کہ فیصلے کے آخر میں دستخط بھی موجود نہیں ہیں کیونکہ ان کو فیصلہ بھیجا ہی نہیں گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ناروا سلوک نے ایک دکھ بھی پہنچایا اور ایک اطمینان بھی۔ دکھ اس بات کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ جن وجوہات پر یہ رویہ برتا جا رہا ہے وہ بھی جانتے ہیں مگر اطمینان اس بات کا ہے کہ نا انصافی کے شکار صرف سابق وزرائے اعظم نہیں ہیں بلکہ اب تو منصفوں کے ساتھ بھی نا انصافی برتی جا رہی ہے۔

قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جو شکنجہ کسا جا رہا ہے اس کی وجہ ان کا فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہے۔ اس کے بعد سے وہ شدید ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔ صدارتی ریفرنس سے انہیں ہٹانے کی کوشش کی گئی مگر جب انہوں نے اس کے خلاف مزاحمت کی تو ان کو تھوڑا ریلیف دے دیا گیا مگر کچھ لوگوں کو راضی کرنے کے لئے معزز دس رکنی بینچ نے جو فیصلہ سنایا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جب ثابت ہو چکا کہ جسٹس صاحب کا اہلیہ کی جائیدادوں سے کوئی تعلق نہیں تو ریفرنس تو خارج کر دیا مگر ان کی اہلیہ کا کیس ایف بی آر بھجوا دیا۔ جب سپریم کورٹ کا بینچ سرینہ عیسیٰ کے جواب اور ذرائع آمدن سے مطمئن تھا تو معاملہ ایف بی آر کو کیوں بھیجا اور ایف بی آر کو بھیج دیا ہے تو یہ حکم کیوں کہ وہ رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو جمع کروائے اور سپریم جوڈیشل کونسل پھر فیصلہ کرے کہ ریفرنس بنتا ہے یا نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ نظام عدل یہاں کنٹرولڈ ہے۔

یہ کوئی بات نہیں ہے۔ جسٹس منیر نے نظریۂ ضرورت ایجاد کر دیا تھا مولوی تمیز الدین خان کیس میں اور اس کے بعد جو اس ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوا، اس میں عدلیہ نے پورا کردار ادا کیا ہے۔ اس ملک میں آئین سے بغاوت کرنا، اس کو معطل کرنا یا توڑنے والا سنگین غداری کا مرتکب ہوتا ہے ، آئین کے آرٹیکل 6 میں یہ درج ہے۔ مگر الحمدللہ 1977 اور 1999 کی بغاوت کو اسی معزز عدلیہ نے ناصرف آئینی قرار دیا بلکہ آمروں کو آئین میں اپنی من پسند ترامیم کرنے کی بھی کھلی چھوٹ دی۔

بھٹو صاحب کا جس طرح عدالتی قتل کیا گیا، اس کی تو مثال ہی نہیں ملتی۔ آج تک اس غلطی کو تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ ایک اور مثال جوڈیشل ایکٹوزم ہے۔ یعنی افتخار چوہدری اور ثاقب نثار کی جوڈیشل ایکٹوزم نے اس ملک کا تاریخی نقصان کیا ہے اور اب ریاست پاکستان اور پاکستان کے عوام کو اس جوڈیشل ایکٹیوزم کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اربوں ڈالر کے جرمانے ان فیصلوں کی وجہ سے ریاست ادا کرنے پر مجبور ہے۔

ایک اور مثال دہرا معیار ہے یعنی سابق وزرائے اعظم کو کوئی ریلیف نہیں دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ تو اس ملک کے عدالتی نظام پر ہنس رہا ہو گا مگر دوسری طرف ایک شخص جو دو دفعہ آئین توڑنے کا مرتکب ہوا، اس کو تو سہولتیں دیتے ہیں کہ آپ واپس آ جائیں آپ کو الیکشن لڑنے کے لئے بھی اہل کروا دیں گے۔ پاناما کیس میں ملک کے وزیراعظم کو ایک اشتہاری شخص کی درخواست پر نااہل کر دیا گیا۔

اس کے بعد جس طرح مانیٹرنگ جج بٹھا دیا گیا اور پابند کیا گیا کہ 6 ماہ میں فیصلہ دو اور کس طرح جج محمد بشیر کو ایکسٹینشن دی گئی ، پھر ارشد ملک کو بلیک میل کر کے مرضی کے فیصلے لیے گئے ، یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں۔ جو اب ہو رہا ہے وہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کس طرح عدالتی نظام کو مینیج کیا جاتا ہے۔ جج جب سماعت کے لئے آتا ہے تو اسے واٹس ایپ پر میسج کر کے اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا تو ٹرانسفر ہو گیا ہے۔ خبریں یہ بھی گردش میں ہیں کہ کچھ کو ان کی یا ان کے خاندان کے افراد کی مخصوص ویڈیوز دکھا کر ان سے اپنی مرضی کے فیصلے لیے جاتے ہیں۔

مگر ایسی بات نہیں کہ کچھ افراد نے انصاف کرنے کی کوشش نہ کی ہو، جنہوں نے کوشش کی ہے ان کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ان کی بیوی ایف بی آر کی پیشیاں بھگت رہی ہیں۔ بچوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔ فون ہیک کر لیا جاتا ہے مگر پھر بھی وہ مزاحمت کر رہے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی لڑ رہے ہیں۔ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ جیسے منصف ہیں جو آئین و قانون پر یقین رکھتے ہیں اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے دیتے ہیں مگر مجموعی طور پر ہماری عدلیہ کا ماضی و حال کوئی خاص اچھا نہیں ہے۔

ہماری عدلیہ نے دیکھیں کیسے امریکی دباؤ پر ڈینیل پرل قتل کیس میں بری ہونے والے ملزمان بری سے متعلق فیصلے کو ریورس کیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے جو اسد درانی کیس کی سماعت فیصلہ لکھنے کے مراحل  میں تھے، ایک دم جن وجوہات کی وجہ سے معذرت کی ہے وہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ عدلیہ کتنی آزاد ہے!

اس ملک میں انصاف کے لئے نسلیں خرچ ہو جاتی ہیں مگر پھر بھی انصاف نہیں ملتا۔ جب تک سپریم کورٹ کسی کو سزائے موت سے بری کرتی ہے تب تک اس ملزم کو پھانسی بھی دے دی گئی ہوتی ہے۔ یہاں پر ناکافی ثبوتوں کے عذر کے تحت امیروں اور مجرموں کو رہا کر دیا جاتا ہے اور بے قصور ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ جس معاشرے میں عدل نہیں ہوتا پھر وہ معاشرہ اسی ذلت و پستی میں آ کر گرتا ہے جس پستی میں ہم بطور معاشرہ گر چکے ہیں۔

ایسی بات نہیں کہ ہر شخص اپنے ضمیر کا سودا کرتا ہے۔ کچھ نہیں بھی کرتے اور ان کے نام تاریخ کا حصہ ہیں۔ جو آج بھی آئین و قانون اور اپنے کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت چل رہے ہیں ، ان کا نام بھی تاریخ کی کتابوں میں درج ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply