ہمارے کورونا سے بچنے کا راز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب بھی کسی کو کال کریں تو آگے سے کورونا کے حوالے سے ایک مخصوص ریکارڈ چلنے لگتا ہے۔ یہ ریکارڈ تب تک چلتا ہے جب تک اگلا کال ریسیو نہ لے یا پھر تنگ آ کر ہم خود ہی کال نہ کاٹ دیں۔ ٹی وی لگائیں تو اس پر بھی انسان نما سرکاری مشینیں ایسا ہی کچھ دہراتی نظر آتی ہیں۔ جس سے تأثر ملتا ہے کہ سرکار نے کورونا کے حوالے سے بہت اچھے اقدام کیے اور قابل ذکر بات یہ کہ پاکستانی عوام نے کورونا کے حوالے سے بہت ہی اچھا رویہ اختیار کیے رکھا، جس کی وجہ سے پاکستان میں کورونا نہیں پھیلا۔اسی لیے آج پوری دنیا میں پاکستانیوں کی دھوم ہے۔

سیانے ٹھیک کہتے ہیں جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ کہ وہ سچ لگنے لگے۔ جب ایسا ریکارڈ سنتی ہوں تو جھوٹ کو ڈھٹائی سے دہرانے پر داد دینی پڑتی ہے۔ ایسے اشتہار پر لوگوں کی گہری چپ دیکھ کر لگتا ہے کہ ہر کوئی اس خوش فہمی میں مبتلا رہنا چاہتا ہے کہ ہم نے واقعی بہت احتیاط کی ہے، اور حقیقت سے نظر چرانا ہی بہتر ہے۔ بھلا کوئی بتلائے تو، کہاں کی احتیاط، کون سا فاصلہ، کیسا مثبت رویہ۔

دنیا کے علاوہ ہمارے سب عوام کو پتہ ہے کہ وبا کے عروج میں بھی ہم نے کوئی احتیاط نہیں کی تھی۔ جن دنوں لاک ڈاؤن تھا سب سے زیادہ میل ملاپ انہی دنوں رہا۔ دفتر، سکول، کاروبار بند ہونے کی وجہ سے اکٹھے مل بیٹھنے کا اس سے بہتر موقع زندگی میں نہیں ملنا تھا، لہٰذا اس سے پورا فائدہ اٹھایا گیا۔ ایسی فرصتیں زندگی میں دوبارہ نصیب تب ہی ہونا تھی جب کوئی نئی وبا آتی۔ اور ایسی محصور کر دینے والی وبا کم و بیش سو سال سے پہلے نہیں آتی۔

کون جیتا نئی وبا آنے تک، سو اسی وبائی فراغت کو ہی غنیمت جانا گیا۔ انہی دنوں میں ہمیں پتہ چلا تھا کہ ہم اپنے دور کے رشتہ داروں سے بھی کتنی قربت رکھتے ہیں۔ یقین کریں وبا کی شدت کے دنوں میں ہمیں اپنے ان رشتہ داروں سے بھی ملنے کا موقع ملا ہے جن کے پوری زندگی میں صرف نام سن رکھے تھے۔ دوسرے شہر کے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے مرے ہوؤں کو اتنی بار مارنا پڑا کہ وہ بیچارے قبر میں چیخ پڑے کہ بس کردو، اب مزید کتنی بار مرنے کی اذیت سے دوچار کرو گے۔

دنیا میں لوگ مر رہے تھے اور ہم تکہ پارٹی کر کے باربی کیو کے دھوئیں میں ’کورونا افواہ‘ کو اڑا رہے تھے۔ اب آپ میری اس بے تکی بات پر منہ بنانا مت شروع کر دیں۔ لیکن آپ ہی بتائیے کیا جھوٹ ہے؟ پوری دنیا کا خیال ہے کہ شاید ہم نے کوئی خاص احتیاط اختیار کی، جو یہاں وبا اس طرح سے نہیں پھیلی، جیسے دنیا اس کی لپیٹ میں آئی، اور نہ ہی یہاں اتنے افراد جان سے گئے جیسے باقی دنیا میں۔

ارے بابا سچ جان کے جیو، اور سچ یہ ہے کہ ہم نے کوئی احتیاط نہیں کی، اپنے لوگ تو اسے وبا ماننے کو تیار ہی نہ تھے تو احتیاط کیسی کرتے۔ یہاں تو کوئی اسے مسلمانوں کے خلاف اغیار کی سازش کہتا تو کوئی اسے مدد مانگنے کا حکومت کا نیا انداز قرار دیتا رہا۔ اسی لیے کسی نے وبا کو سنجیدہ لیا ہی نہیں۔ وبا اگر یہاں اس طرح سے نہیں پھیلی جیسے باقی دنیا میں پھیلی ہے، تو یہ وبا کی مرضی ہے یا خدا کی رضا۔ ورنہ ہم نے تو اسے پھیلنے کے لیے بھر پور مواقع دیے تھے۔

بائیس کروڑ کی آبادی میں اگر پانچ چھ لاکھ افراد متأثر ہو جائیں اور دس گیارہ ہزار لوگ مر جائیں تو فکر کرنے کی بات تو بالکل نہیں۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے، آپ میری اس بات پہ لعن طعن کرنا چاہیں تو شوق پورا کر سکتے ہیں۔ ویسے مجھے میری اس سوچ کی داد اماں سے بھرپور ڈانٹ کی صورت خوب مل چکی ہے۔ لیکن آپ بھی غور کریں جہاں امریکہ اٹلی جیسے ممالک میں سخت احتیاط کے باوجود ہر روز ہزاروں لوگ کورونا کو پیارے ہو رہے ہوں، وہاں اپنی تمام تر بے احتیاطی کے باوجود چند سو افراد کا متأثر ہونا شرم تو دلائے گا کہ ترقی یافتہ ممالک اس دوڑ میں بھی ہم سے آگے ہی رہے۔

ہم نے اپنے تئیں منہ جوڑ کے سر توڑ کوشش کی تھی کہ کم از کم انہیں اس معاملے میں تو پیچھے چھوڑ دیں، لیکن وہ یہاں بھی جیت گئے اور ہم ہار گئے۔ اس کے باوجود جب سرکاری تشہیر ہوتی ہے کہ ’ہم نے بہت احتیاط کی‘ تو دل ٹوٹ سا جاتا ہے کہ جب احتیاط کی نہیں تو بدنام کیوں کرتے ہو۔ ہم نے تو پورے ہوش و حواس میں احتیاط کو خود پر حرام سمجھا تھا۔ اور اسی واسطے صاحب ایمان حرام سے دور بہت دور رہے، اکثر ایمان والوں کو یقین تھا کہ یہ تو گنہگاروں کا امتحان ہے، ہم سے مسلمانوں کو کب چھو سکتی ہے یہ وبا۔

اسی لیے اکثر لوگ تو کورونا کا شکار ہونے کے باوجود اس کا انکار کرتے رہے۔ مبادا کہ کورونا ہونے کا بتا دیا تو کہیں اس وجہ سے ان پر گنہگار ہونے کا لیبل نہ لگ جائے۔ میرے ایک عزیز سخت بیمار رہے لیکن انھوں نے مان کے نہیں دیا کہ انہیں کورونا ہے۔ بعد میں جب ان کی بیٹی اس کا شکار ہوئی اور بیٹی کو انتہائی تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، تب رو پڑے اور کہنے لگے اسے مجھ ہی سے ہوا ہو گا، مجھے بھی کورونا ہی تھا۔

جس بیچارے نے دل بڑا کر کے احتیاط کرنے کی کوشش کی تو اس کو طعنے ہی سننے کو ملے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کوئی مفتی بحالت مجبوری کسی حسینہ کی جان بچانے کے لیے اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال کر اس کا ہاتھ پکڑ لے، تو اس نیکی پر مفتی صاحب کو حسینہ سے تھپڑ پڑ جائے تو بس اپنی احتیاط بھی ایسی ہی تھی جیسا مفتی صاحب کی زندگی میں آنے والا ایسا کوئی نیکی کا خاص موقع۔

ہم سے اچھا تو سابق امریکی صدر تھا جس نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ کورونا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ممکن ہے اپنے اس بیان سے وہ مرد امریکہ چاہتا ہو کہ پاکستانیوں جیسی بے احتیاطی کرنے پر امریکہ میں بھی کورونا نہیں پھیلے گا۔ لیکن امریکہ پاکستان نہیں تھا جہاں گدھے کو جو کہیں وہ اسی شکل میں نظر آنا شروع ہو جائے، وہ امریکہ تھا جہاں گدھے نے گدھا ہی رہنا تھا۔ اس لیے وبا وہاں پھیل گئی۔ امریکی بے خبری میں مارے گئے۔ انہیں نہیں پتہ تھا کہ ہم پر اس وبا کا اثر احتیاط کرنے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ اس لیے نہیں ہوا کہ ہم کبھی صحت کے اصولوں کو خاطر میں ہی نہیں لائے۔

کورونا سے بچنے کی واحد وجہ ہمارا حفظان صحت کے غیر معیاری اصولوں سے سمجھوتہ ہے۔ جس کے ہم اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ وبا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ اسی لیے ہم اس وبا میں ایک مضبوط اور طاقتور قوم بن کے ابھرے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *