کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ کا کتب خانہ جلوا دیا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیدنا حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا ہے جو تعارف کی محتاج نہیں ہوتیں۔ جسے بارگاہ رسالت سے ”فاروق“ کا لقب عطا ہوا ہو اس کے کیا ہی کہنے۔ فاروق ”حق و باطل میں فرق کرنے والے“ کو کہتے ہیں اور بیشک نہ صرف وہ حق و باطل میں فرق کرنے والے تھے بلکہ حق و باطل میں فرق کا معیار بھی وہی بن گے۔ ہمارے آقا ﷺ فرماتے ہیں کہ ”میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا“ ۔ جب کسی شخص کے مقام و مرتبہ کا یہ عالم ہو تو اس کے حوالے سے کوئی غلط بات مشہور نہ ہو, یہ ناممکن ہے۔

جیسا کہ میں نے اپنی پچھلی تحریر جو طارق بن زیاد کے حوالے سے لکھی گی تھی ، بتایا کہ جو مشہور شخصیات ہوتیں ہیں ان کے متعلق ہر طرح کی غلط سلط باتیں مشہور ہو جاتیں ہیں۔ ایسا ہی کچھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ”جب مصر کا شہر اسکندریہ فتح ہوا تو وہاں پر بطلیموس کا عظیم کتب خانہ تھا جسے آپ رضی اللہ عنہ کے حکم پر فاتح مصر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے جلا کر راکھ کر دیا“ ۔

کیا یہ سچ ہے؟ چلیں اس واقعے کی بھی اسی طرح چھان پھٹک کرتے ہیں جس طرح طارق بن زیاد کے واقعے کی گئی۔

طارق بن زیاد کے واقعے کے برخلاف اس واقعے کی چھان پھٹک آج سے 100 سال پہلے برصغیر کے ایک نامور مؤرخ علامہ شبلی نعمانی نے کی۔ اس مفصل انداز میں ان سے پہلے نہ ان کے بعد کسی نے اس واقعہ کا پوسٹ مارٹم کیا۔ ان کے مضمون کا نام ”اسکندریہ کا کتب خانہ“ ہے ، تفصیلی تردید کے طلب گار اس کی جانب رجوع کریں ، میں اپنی بحث صرف ان حوالوں کی تک رکھوں گا جن میں یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔

میں نے طارق بن زیاد والی تحریر میں کسی بھی واقعے کی چھان بین کے لیے چار اصول بیان کیے تھے۔ یہاں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ آپ وہاں دیکھ لیں۔ اس واقعہ کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے۔ نہ عینی شاہد اور نہ ہی قدیم ماخذ میں تذکرہ۔ مصر کی فتح کے ذکر کے تحت مسلمان تو ایک طرف اس دور کے بازنطینی ماخذوں میں بھی کسی کتب خانہ کے جلنے کا ذکر نہیں آیا۔ اسکندریہ سیدنا عمرو بن العاص رضہ اللہ عنہ نے 20 ہجری یا 641 عیسوی میں فتح کیا۔

اس فتح کا سب سے قدیم ترین ماخذ ”یوحنا نیقیوس“ ہے جو اسکندریہ کا راہب تھا اور اس فتح کے وقت وہاں موجود تھا لہٰذا اس کی حیثیت ایک عینی شاہد کی ہے۔ اس نے اپنی تاریخ میں مسلمانوں پر مکمل تفصیل سے لکھا لیکن کسی کتب خانہ کے جلانے کا واقعہ اس نے بیان نہیں کیا۔ جب یوحنا نیقیوس نے اپنی تاریخ میں یہ واقعہ نہیں لکھا تو پھر سوال یہاں ابھرتا ہے کہ پھر یہ واقعہ آیا کہاں سے؟

تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ اصل میں یہ واقعہ کل ملا کر صرف چار کتابوں میں آیا ہے۔ جس کسی نے اسے آگے بیان کیا ، اس کا ماخذ انہی چار میں سے کوئی نہ کوئی کتاب ہوتی ہے۔ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اصل ماخذ صرف 2 ہی ہیں، باقی کے 2 فقط ناقل ہیں۔

پہلا اور سب سے قدیم حوالہ عبداللطیف بغدادی کا دیا جاتا ہے جو کہ ساتویں صدی ہجری کا مؤرخ ہے (علامہ شبلی اسے مؤرخ ماننے کو تیار نہیں)۔ اس کی کتاب کا نام ”کتاب الافادۃ والاعتبار“ ہے۔ یہ کتاب اصل میں عبداللطیف بغدادی کا سفرنامہ مصر ہے۔ اس کے صفحہ 98 پر عبداللطیف بغدادی اسکندریہ کے ایک ستون کے بارے میں کہتا ہے کہ یہاں ارسطو درس دیا کرتا تھا اور اسی کے قریب بطلیموس کا کتب خانہ تھا جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر جلا دیا گیا تھا۔

لیکن طارق بن زیاد والے واقعے کی طرح یہاں بھی یہی مسئلہ ہے کہ یہ واقعہ بیان کرتے وقت عبداللطیف بغدادی لکھتے ہیں ”یذکر‘‘ یعنی “ ذکر کیا جاتا ”ہے۔ اب ساتویں صدی ہجری کا مؤرخ 580 سال پرانا واقعہ بیان کر رہا ہے “ذکر کیا جاتا ہے” کہہ کر۔ بس اتنا کافی ہے اس کے جھوٹا ہونے کے لیے۔

قائداعظم کو اس دنیا سے گئے 100 سال نہیں ہوئے پھر بھی ان کے تعلق سے کوئی بات کی جائے تو اس کا پورا حوالہ دیا جاتا ہے یہاں تو 580 سال کا فاصلہ ہے۔ یہی وجہ ہے بیشمار مستشرقین بھی اس کی تردید پر مجبور ہو گئے ، جن میں سے سب سے بہترین تردید میرے نزدیک“ فلپ کے ہٹی ” کی ہے انہوں نے اپنی کتاب“ ہسٹری آف عرب ”میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:

GOOD FICTION BUT BAD HISTORY ( Page 166 )

عبداللطیف سے اس حوالے کو امام تقی الدین المقریزی (وفات 845 ہجری) نے اپنی کتاب ”المواعظ و الاعتبار بذکر الخطط و الاثار“ جلد 1 صفحہ 296۔ 297 پر نقل کیا۔ یہ دوسرا ماخذ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسکندریہ کی فتح کے ضمن میں وہ یہ واقعہ نہیں لائے جہاں اسے آنا چاہیے تھا۔ لہٰذا اصل حوالہ ایک ہی ہے۔ دوسرا حوالہ امام قفطی (وفات 646 ہجری)  کی کتاب ”اخبار العلماء باخبر الحکماء“ کے صفحہ 265۔ 266 سے پیش کیا جاتا ہے۔

یہاں پر امام قفطی نے ایک عیسائی فلسفی ”یحیی النحوی“ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت عمرو بن العاص کو یحییٰ النحوی نے کہا کہ اسکندریہ میں کتب خانہ ہے، جو کتابیں آپ کو نہیں چاہئیں ہمیں دے دیں ، اس پر حضرت عمرو نے حضرت عمر فاروق سے پوچھا تو انہوں نے حکم دیا سارا کتب خانہ جلا دو۔ تو حضرت عمرو نے اسے جلانا شروع کیا تو چھ مہینے اسے جلاتے رہے، یعنی چھ مہینے انہیں لگ گئے کتب خانہ جلانے میں۔

قطع نظر اس کے کہ امام قفطی 600 سال پہلے کا واقعہ بغیر حوالے کے بیان کر رہے ہیں، جس شخص کا یہاں ذکر ہوا ہے وہ شخص بھی مجہول ہے۔ یعنی جس ”یحییٰ النحوی“ کا عمرو بن العاص کے ساتھ مکالمہ بیان ہوا ہے اس کا تعین نہیں ہو پایا۔ امام قفطی کے یحییٰ النحوی کے تذکرے کا مدار علامہ ابن ندیم (وفات 385 ہجری) کی کتاب الفہرست پر تھا( ابن ندیم نے کتب خانہ جلانے کا ذکر نہیں کیا) لیکن ابن ندیم نے جس یحییٰ النحوی کا ذکر کیا صفحہ  364 پر اور جو اس کی خصوصیات بتائیں وہ ”یحییٰ فلیپونس“ نام کے عیسائی راہب سے ملتی ہیں۔

اس کا ثبوت ایک تو خود کتاب میں ہے ، دوسرا ابن ندیم کی کتاب کے لاطینی انڈیکس میں بھی ”وان گستاؤ“ نے اسے یحییٰ فلیپونس لکھا ہے اور اس کے بارے میں خود عیسائی محققین متفق ہیں کہ وہ 570 عیسوی کے بعد زندہ نہیں تھا جبکہ اسکندریہ کی فتح کا واقعہ 641 عیسوی کا ہے یعنی جس شخص کو اس واقعہ کا گواہ بتایا جا رہا ہے ، وہ اس واقعہ سے 70 سال پہلے مر چکا تھا۔

امام قفطی سے یہی حوالہ ”غریغوریس ابو الفرج بن ہارون المعروف ابن العبری“ (وفات 685 ہجری ، جو کہ عیسائی تھا ) نے اپنی کتاب ”المختصر فی الدول“ صفحہ 180۔ 181 پر نقل کیا جو کہ اس واقعہ کا چوتھا اور آخری ماخذ ہے۔ اس کو ”Bar Hebraeus“ بھی کہا جاتا ہے۔ ساری عبارت امام قفطی والی ہے لیکن ایک بات اہم ہے،  وہ یہ کہ ابن العبری کی یہ کتاب اصل میں ان کی سریانی زبان میں لکھی گئی ، تاریخ جس کا نام ”Chronicon Syriacum“ ہے ، کا اختصار ہے۔ اس سریانی کتاب کا انگریزی ترجمہ ”والس بج“ نے کیا جو ”آمسٹرڈم“ سے شائع ہوا۔ اس پوری کتاب میں یہ واقعہ کہیں بھی مذکور نہیں۔ اس عربی اختصار میں بھی اصل جگہ یعنی اسکندریہ کی فتح کے مقام پر اس واقعہ کا ذکر موجود نہیں۔

اب آخر میں ایک اہم بات اگر اس واقعے میں رتی برابر بھی سچائی ہوتی تو ہمارے فقہاء اور محدثین اس واقعے کو خوب بیان کرتے اور اس سے حجت پکڑتے،  کتابیں لکھنے کو ممنوع قرار دیتے جبکہ ہوا اس کے برعکس ہے۔ اس سے بڑھ کر اس واقعہ کے غیر حقیقی ہونے کی کیا دلیل ہو سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply