پاکستانی مسیحی شعراء کا انتخاب ’برگِ افکار‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر چند کہ تخلیق اپنے تخلیق کار سے بڑا شہکار نہیں ہوتی، تو بھی تخلیق کار کا وجود اس کی تخلیق سے نمود پاتا ہے۔ میری دانست میں بڑا تخلیق کار اپنی کسی تخلیق کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور اپنے تخلیق کار کو زندہ رکھتی ہے ، چنانچہ زندگی کے اصل معنی و رنگ کبھی اپنی اہمیت اور وجود نہیں بدلتے۔ ہمیشہ اپنی جگہ قائم و دائم رہتے ہیں مکسیم گورگی کی ”مدر“ اور ممتاز مفتی کا ”علی پور کا ایلی“ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔

حوالے کے لئے اور بھی کئی تصنیفات اور ان کے مصنفین  پیش کیے جا سکتے ہیں۔ دراصل انسان کے شعور کی آنکھ اس وقت بیدار ہوتی ہے جب کوئی بڑا سانحہ یا کوئی بڑا تغیر اس کو اپنی گرفت لیتا ہے ، تاہم تخلیقی عمل کی اصل تھیوری معاً بعد جدید فکری رویے کے پھوٹتی ہے ، جیسے سورج نکلنے سے پہلے اس کی گل رنگ شعائیں چاروں اور پھیل چکی ہوتی ہیں اور اس کا بنیادی عمل بعد از لمحۂ وجود شروع ہوتا ہے۔ دراصل سارا کمال کیمرے کا نہیں کیمرے کے پیچھے چھپی آنکھ کا اور اس نئے منظر کا ہے جو آنکھ کا پردہ ہٹتے ہی آنکھ پر نقش ہو جاتا ہے۔

انسان حیران ہوتا ہے اور کائنات کے بارے میں سوچتا ہے۔ سوچنا ایک مشکل عمل ہے۔ طویل سوچ اور حیرانی کے بعد اصل تخلیقی عمل شروع ہوتا ہے اور تخلیق ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے ، یوں ایک نیا منظر قاری کی آنکھ تک پہنچ پاتا ہے۔

پاکستان کرسچن رائٹر گلڈ پاکستان کی نمائندہ مسیحی ادبی تنظیم ہے جو پچھلے 20 سال سے بے شمار مسیحی ہم وطنوں کی ذہنی اور فکری پرورش کر رہی ہے۔ اس کتاب میں قریب قریب 50 لکھنے والوں کا تعلق گلڈ سے ہی ہے۔

ان میں نو آموز شعراء بھی ہیں کہنہ مشق بھی۔ نامور بھی اور گمنام بھی۔ ”برگ افکار“ گلڈ ہی کی توسط سے کاغذی پیرہن میں آپ کے ہاتھوں تک پہنچ رہی ہے۔ میری خواہش اور دلچسپی کو محسوس کرتے ہوئے گلڈ نے یہ فریضہ مجھ نااہل کو سونپا۔ چنانچہ انتخاب اور ترتیب میں میں کہاں تک کامیاب رہا،  یہ سوچنا میرا کام نہیں۔ میں تو بس مسیحی شعراء کی معقول تعداد آپ تک پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرا۔ فنی معیار اور تخلیقی قدوقامت کا تعین کرنے والے اور لوگ ہیں۔

یاد رہے ”برگ افکار“ میں شامل تخلیقات پاکستان کے مسیحی و ادبی رسائل و جرائد اور اخبارت میں سے منتخب کی گئی ہیں اور ہر ماخذ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مسیحی شعراء کا پہلا شعری انتخاب ”شہر چراغاں“ 1968ء میں ادارہ ”امثال“ نے شائع کیا۔ 1969ء میں دوسرا شعری انتخاب جناب ڈاکٹر کنول فیروز نے ”جمال فکر“ کے عنوان سے مکتبہ شاداب کے زیر اہتمام شائع کیا تھا اور یوں تیسرا شعری اور نثری انتخاب 1995ء میں پاکستان کیتھولک پریس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اشاعت پذیر ہوا، جس کے مؤلف محبوب صدا ہیں۔

شہر چراغاں سے ”برگ افکار“ تک کا تخلیقی اور تجرباتی سفر بڑی دشوار گزار راہوں سے گزرنے کے بعد طے ہوا ہے ۔ اب سوچنا یہ ہے کہ شعر و ادب کے ارتقائی مراحل کا ہم کہاں تک ساتھ دے پائیں ہیں۔ منزل اور نشان منزل سے ہم کتنے فکری اور فنی فاصلے پر کھڑے ہیں۔ بعد از فکر بسیار ایک اہم سوال اکثر اوقات ذہنی سطح پر ابھرتا ہے اور سر اٹھاتا ہے کہ مسیحی قوم نے آج تک اردو ادب کو کوئی بڑی اور قابل رشک شخصیت پیش کی ہے؟

(یہ ’برگ افکار‘ کا پیش لفظ ہے جو 8 جولائی 2002ء کو لکھا گیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply