کورونا وبا کے تعلیم اور طلبا پر اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاشبہ کورونا وائرس نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ تقریباً تمام شعبوں پر اس کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ شعبۂ تعلیم پر بھی اس نے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ کمرہ جماعت میں بیٹھ کر استاد کا لیکچر سننے، براہ راست سوال جواب کرنے کے بجائے طالب علموں کو آن لائن تعلیم حاصل کرنا پڑی۔ اتنے ماہ گزرنے کے باوجود تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی ہیں۔ جزوی طور پر ہی سہی، آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔

اس دوران دنیا کے مختلف ممالک تسلسل کے ساتھ جائزہ لیتے رہے کہ کورونا نے تعلیم اور خصوصی طور پر طالب علموں پر کیا اثرات ڈالے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک نے بھی مختلف جائزے اور تحقیقی رپورٹس مرتب کیں۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ آن، لائن ایجوکیشن صرف اس صورت میں فائدہ مند ہے، اگر طالب علموں کے پاس کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی مستقل سہولت میسر ہو۔

امریکی ریسرچر اس نتیجے پر پہنچے کہ دور دراز علاقوں میں بسنے والے امریکی طالب علم انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے آن لائن تعلیم سے مستفید نہیں ہو سکے۔ تحقیق میں اساتذہ کی تربیت کی جانب بھی توجہ دلائی گئی۔ کہا گیا کہ مؤثر تعلیم کے لئے ضروری ہے کہ اساتذہ کو آن لائن پڑھانے کی باقاعدہ تربیت دی جائے۔

امریکی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کورونا کی وجہ سے سمیسٹر یا لیکچر کے دورانیے کو کم کرنے سے بھی طالب علموں کے سیکھنے کا عمل (learning) متأثر ہوا۔ تجویز کیا گیا کہ کورونا کے بعد صورتحال نارمل ہوتی ہے تو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اضافی (make۔ up) کلاسوں کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اس تحقیق کی روشنی میں تجویز دی گئی ہے کہ تعلیم کے لئے زیادہ فنڈ مختص کیے جائیں۔ ڈیجیٹل تقسیم (divide) کو دور کرنے کی کاوش کی جائے وغیرہ وغیرہ۔

برطانوی ماہرین تعلیم اور محققین نے بھی اس معاملے پر گہری نگاہ رکھی ہوئی ہے۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ، ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ برطانیہ میں آن لائن تعلیم اور امتحانات کی وجہ سے نقل کے رجحان مں اضافہ ہوا ہے۔ جامعات کے وہ طالب علم جو آن کیمپس تعلیم اور امتحانات کی وجہ سے محنت کیا کرتے تھے، وہ نقل کے نت نئے طریقے تلاشتے پھرتے ہیں۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیش تر طالب علم اپنی اسائنمنٹ بنانے کے بجائے، بنی بنائی اسائنمنٹ خریدتے اور اساتذہ کو جمع کروا دیتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کورونا کے ہنگام طالب علموں کو ریڈی میڈ مضامین کی سہولت فراہم کرنے والی ویب سائٹس اور کمپنیوں کا کاروبار خوب چمکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ جامعات کی ساکھ اور اعتبار قائم رکھنے کے لئے مضامین لکھنے والی فیکٹریوں (یعنی ویب سائیٹس اور کمپنیوں ) کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور اس کاروبار پر پابندی عائد کی جائے۔

اب ذرا پاکستان کی صورتحال پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ یہاں کسی جائزے اور تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اگرچہ اس وبا کے بعد ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں اپنے اپنے طور پر ہاتھ پیر مارتی رہیں۔ جیسے تیسے آن لائن تعلیم کا انتظام بھی کیا۔ حکومتی سطح پر بھی وقتاً فوقتاً اجلاس ہوتے رہے اور مختلف ہدایات جاری ہوتی رہیں۔ ان تمام کاوشوں سے یہ ہوا کہ تعلیم کا سلسلہ کسی نہ کسی طور جاری رہا اور مکمل طور پر نہیں رکا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان میں ہم تعلیم کے حوالے سے ٹھوس اقدامات نہیں کر سکے۔

تعلیم کے ساتھ برسوں سے یہی ہو رہا ہے۔ کہنے کی حد تک ہر حکومت تعلیم کو اپنی ترجیح قرار دیتی ہے لیکن عملی طور پر یہ شعبہ ترجیحات کی فہرست میں کہیں آخر میں پڑا رہتا ہے۔ حکومتی ترجیحات کو ماپنے کا سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ تعلیم کے لئے مختص ہونے والے بجٹ اور فنڈز کا جائزہ لے لیا جائے۔ بدقسمتی سے گزشتہ برسوں میں تعلیمی بجٹ میں اضافے کے بجائے، کمی ہوئی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نامور سرکاری ادارے دیوالیہ ہونے کے دہانے تک جا پہنچے۔ پشاور یونیورسٹی اور لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

بہرحال کورونا کے ہنگام ضروری تھا کہ کچھ خصوصی اقدامات کیے جاتے۔ ہمارے ہاں آن لائن ایجوکیشن کا آغاز تو کر دیا گیا مگر اس کے لئے مطلوبہ سہولیات کا جائزہ لینے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سب سے پہلے انٹرنیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا۔ دیکھا جاتا کہ کس قدر مضبوط اور توانا سگنل والا انٹرنیٹ میسر ہے۔ ملک کے کن علاقوں میں یہ سہولت میسر نہیں۔ ہوا مگر یہ کہ بغیر کسی جائزے اور منصوبہ بندی کے آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

دور دراز کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ یا تو سرے سے دستیاب ہی نہیں ہے یا پھر سگنلز انتہائی کمزور ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے طالب علم ٹھیک سے آن لائن تعلیم حاصل نہیں کر سکے (اور اب بھی نہیں کر رہے) ۔ خاص طور پر بلوچستان کے پسماندہ علاقوں اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے طالب علم بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لازم تھا کہ اعلیٰ ترین سطح سے اس صوتحال کا جائزہ لے کر کوئی حکمت عملی مرتب کی جاتی۔ انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات کا نظام بہتر بنانے کی کاوش کی جاتی۔ لیکن بد قسمتی سے اتنے مہینے گزرنے کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے۔

آن لائن تعلیم کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ طالب علموں کے لئے رعائتی نرخوں پر انٹرنیٹ پیکج متعارف کروائے جائیں۔ اس مطالبے کو بھی سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ اساتذہ کے لئے بھی آن لائن پڑھانے کا تجربہ نیا تھا۔ چند ایک تعلیمی اداروں نے اپنے طور پر تربیت کا اہتمام کیا۔ مگر بیشتر تعلیمی اداروں کے اساتذہ تجرباتی طور پر پڑھاتے اور کچھ نہ کچھ سیکھتے رہے۔ بہت اچھا ہوتا اگر تعلیمی ادارے طالب علموں سے فیڈ بیک لینے کا کوئی نظام وضع کرتے تاکہ نشاندہی ہو سکتی کہ طالب علموں کو کس قسم کی شکایات پیدا ہو رہی ہیں۔

سچ یہ ہے کہ سنجیدہ طالب علموں کی اکثریت آن لائن تعلیم کی صورتحال سے مطمئن نہیں ہے۔ عدم اطمینان کی ایک وجہ استاد کی کارکردگی ہے۔ پرائیویٹ اداروں نے اس کا اہتمام کر رکھا ہے۔ لیکن سرکاری تعلیمی اداروں میں استاد کی نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں۔ جامعات کے طالب علموں کو شکایات ہیں کہ بہت سے اساتذہ باقاعدگی سے لیکچر نہیں دیتے۔ اگر کلاس لیتے بھی ہیں تو مختصر وقت کے لئے پڑھا کر طالب علموں کو چھٹی دے دیتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

برطانیہ جیسا ملک بھی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ آن۔ لائن تعلیم کی وجہ سے نقل کا رجحان بڑھا ہے۔ پاکستان میں یہ صورتحال پہلے سے موجود تھی۔ یہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کے بنے بنائے (ready made) مقالے بکتے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ کورونا میں کیا صورتحال ہو گی۔ اس سارے قصے میں سرکاری اسکولوں کے حال کی کچھ خبر نہیں۔ ہمارے زیادہ تر سرکاری سکولوں میں چار دیواری، لیٹرین اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت تک میسر نہیں ۔ آن لائن ایجوکیشن کا تو خیر ذکر ہی کیا۔ حکومت نے نہایت جوش و خروش سے پی ٹی وی کے تعلیمی چینل کا آغاز کیا تھا۔ وہ تجربہ بھی ناکام رہا۔ نہ جانے اتنے ماہ سے سرکاری اسکولوں کے طالب علموں پر کیا بیت رہی ہو گی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ معاملات کی اصلاح احوال کی کاوش کی جائے۔ انٹرنیٹ اور دیگر انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانا حکومتوں کا کام ہے۔ لیکن اساتذہ کے لیکچروں میں باقاعدگی اور کلاس کے دورانیے کو یقینی بنانا یقیناً تعلیمی اداروں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس جانب توجہ نہیں دی جاتی تو معلوم نہیں کہ اس وبائی دور میں تعلیمی اسناد حاصل کرنے والے طالب علموں کی علمی اور ذہنی استعداد کار کیا ہو گی۔ یہ طالب علم جب نوکریوں کے حصول کے لئے نکلیں گے تو نہ جانے ان پر کیا بیتے گی۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *