ملالہ یوسفزئی : برمنگھم میرا دوسرا گھر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملالہ یوسفزئی

Getty Images
ملالہ یوسفزئی جب برمنگھم آئیں تھیں اسوقت وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھیں

نوبیل انعام یافتہ اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی سرگرم کارکن 23 سالہ ملالہ یوسفزئی نے اپنے دورۂ طالب علمی، مستقبل کے بارے میں اپنی امنگوں اور امیدوں اور انھیں برمنگھم کا لہجہ کیوں پسند ہے۔ ان سب نجی باتوں سمیت انہوں نے اپنی زندگی کے ان پہلوؤں کے بارے میں بی بی سی سے بات کی ہے جس پر انہوں نے اب تک کسی اور سے بات نہیں کی ہے۔

ذیل میں ہم ان سات چیزوں کا ذکر کر رہے ہیں جس پر انہوں نے بی بی سی ریڈیو فور کے ‘ڈیزرٹ آئی سلینڈ ڈسکس’ میں بات کی۔

برمنگھم ان کا دوسرا گھر ہے

آٹھ سال قبل ملالہ یوسفزئی کو برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں زخمی حالت میں لایا گیا تک۔ پاکستان کی وادئ سوات کے علاقے میں انہیں طالبان نے سکول جاتے ہوئے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ وہ کہتی تھیں کہ لڑکیوں کا سکول جانا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ملالہ یوسفزئی اپنا مشن ٹوئٹر پر جاری رکھیں گی

ملالہ یوسفزئی کی ساڑھے پانچ برس بعد اپنے آبائی گھر واپسی

گریٹا اور ملالہ لڑکیاں ہو کر بولتی ہیں؟

انہوں نے لارن لیورنی کو بتایا کہ جب ان کو ہوش آیا تو انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کتنے دنوں تک ہسپتال میں رہیں گی اور انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ ان کی فزکس کی کتاب لا دیں کیونکہ پاکستان میں ان کے امتحان قریب آ رہے ہیں۔ اس کے بعد سے برمنگھم ہمارا دوسرا گھر بن گیا۔

انہوں نے ہنستے ہوئے کہا’ کہ سب سے پہلے ہمیں یہاں کا لہجہ سمجھنا تھا۔’

مقامی ‘برومی’ لہجے میں انھیں اب عبور حاصل ہو گیا ہے۔ اس کا مظاہرہ کرنے کے لیے انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے اقباس سے ایک جملہ بھی دھہرایا۔

انہوں نے کہا ‘لیکن سوات پاکستان ہمیشہ پہلا گھر رہے اور وہ مجھے اپنی جان سے عزیز ہے۔’

میری خواہش ہے کہ میں جلد پاکستان جاؤں اور دوبارہ اپنا گھر دیکھوں۔’

طالب علمی کے زمانے کو کیسے اپنایا

گزشتہ سال ملالہ نے اعلی تعلیم کی سب سے مشہور درس گار یونیورسٹی آف اکسفورڈ سے فلسفے، سیاسیات اور معاشیات میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ بہت سے دوسرے طالب علموں کی طرح یونیورسٹی کے ماحول میں انہیں اپنے آپ کو ڈھالنا پڑا۔

انہوں نے کہا ‘یہ پہلا موقع ہوتا ہے جب آپ کو اپنے گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔ آپ کو خود مختار رہنا سیکھتے ہیں’

انہوں نے کہا کہ آپ کی زندگی کہ وہ دن بہتر ہوتے ہیں جب آپ اپنے دوستوں کے ساتھ رہتے ہیں، گھومتے پھرتے ہیں۔ زندگی کے ایک اندوہناک تجربے کے بعد یہ پہلا موقع تھا مجھے محسوس ہوا کہ میرا بچپن لوٹ آیا ہو۔

‘یونیورسٹی جانے سے قبل زندگی میں کوئی مزہ نہیں تھا لیکن جب میں یونیورسٹی گئی اور اپنی عمر کے لوگوں سے ملاقات ہوئی، اپنی عمر کے دوستوں سے تو مجھے یہ احساس ہوا کہ ابھی میری اتنی عمر نہیں ہوئی اور اب بھی میں ان چیزوں سے لطف اندوز ہو سکتی ہوں جن کا مجھے حق ہے اور جو کہ ہر کوئی کر رہا ہے۔’

کورونا وائرس کی وجہ سے انھیں گھر پر رہ کر ہی اپنے امتحانات دینے پڑے اور اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارا۔ وہ اب بھی اپنے دوستوں سے رابطے میں ہیں اور ان سے ویڈیو کے ذریعے گپ شپ کرتی ہیں۔

انہیں اسی کی دہائی کے مزاحیہ ڈارمے پسند ہیں

اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد انہیں کچھ فارغ اوقات میسر آئے اور انہیں ‘بلیکاڈر’ ، ‘اونلی فلوز اینڈ ہارسز’ اور ‘یس منسٹر’جیسے پرانے ڈرامے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ‘میں برطانوی ڈراموں کی بہت شوقین ہوں لہذا میں وہ دیکھتی ہوں۔’

انہیں ‘ویسٹ اینڈ’ کے مشہور گانے بھی پسند ہیں۔ اگر وہ بھٹک کر کسی ریتیلے جزیدے پر چلی جائیں تو وہاں وہ اپنے ساتھ جو گانے لے جانا پسند کریں گی ان میں ‘فینٹم آف دی اوپیرا’ کا ایک گانا بھی شامل ہو گا۔

‘میں جب برطانیہ آئی تو میرے لیے یہ ثقافت بالکل نئی تھی اور میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہاں کی موسیقی اور فنون لطیفہ میں کیا چیز مجھے اچھی لگتی ہے کیا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ‘میوزیکل’ بہت پسند آئے۔ ‘میں نے فینٹم آف دی اوپیرا’ بہت مرتبہ دیکھا اور مجھے اس کا ہر ایک گانا بہت پسند آیا۔’

وہ ‘بلیبر’ ہیں

ایک اور دھن جو وہ اپنے ساتھ لے جانا پسند کریں گی وہ جسٹن بیبر کی ‘نیور سے نیور’ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں بھی یہ گانے سنتی تھیں اور اس وقت پاپ کلچر ان لیے نئی چیز تھی، لیکن اس وقت وہ پاکستان میں مقبول تھا۔

ان کی شخصیت حاکمانہ ہے لیکن مثبت انداز میں

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی نجی زندگی اور عوامی زندگی کو الگ الگ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھر کے اندر ایک مختلف ملالہ ہوتی ہے۔ میں ایک طرح سے بہت حکم چلاتی ہوں، مثبت انداز میں۔ میں اپنے بھائیوں کو ہمیشہ سمجھاتی رہتی ہوں۔۔انہیں شاید اس کی ضرورت پڑتی ہے لڑکوں کو بہت سمجھانا پڑتا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ان کے ابا ضیا الدین خواتین کے حقوق کے زبردست حامی ہیں انہیں اپنی بہنوں کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ بالکل پسند نہیں تھا اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میرے ساتھ اسی طرح کا سلوک ہو جیسا کہ میرے بھائیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

اپ والدین کے رشتے پر وہ کہتی ہیں۔ جس طرح پاکستان میں وہ پہلی مرتبہ ملے وہ کہانی بڑی خوبصورت ہے۔

ان کے پاس ‘ٹنڈر’ جیسے ملاقات کرنے کے اپیس نہیں تھے۔ وہ ملنے کے لیے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ ‘میری والد کبھی کبھی میرے والد کے گھر آتی تھیں اور وہ ایک فاصلے سے ایک دوسرے کو چوری چھپے دیکھ لیتے تھے۔ ان کے پیار کی کہانی کچھ اس طرح سے ہے۔’

وہ ایک دن شاید سیاست میں چلی جائیں

ملالہ کہتی ہے کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو بہت سوچتی تھیں۔ ‘ایک دن جب میں وزیر اعظم بن جاؤں گی تو سب کچھ ٹھیک کر دوں گی۔’

‘اب مجھے پتا چلا ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے اور بہت پیچیدگیاں ہیں۔’

‘فی الحال میری توجہ لڑکیوں کی تعلیم پر ہے اور اس کے بعد معلوم نہیں۔ میں 20 سال بعد سیاست میں آنے پر غور کر سکتی ہوں۔ اس کے لیے بہت وقت پڑا ہے۔’

پاکستان میں کیا چیز نے انھیں انسانی حقوق کی کارکن بنے پر مجبور کیا اس کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انہیں ہمیشہ یہ خوف رہتا کہ انہیں ساری زندگی اسی ماحول میں رہنا پڑے گا۔

‘آپ اپنے اندر ایک قوت محسوس کرتے ہیں، گو کہ آپ بہت چھوٹے ہیں۔ میں اب بھی چھوٹی ہوں میں صرف پانچ فٹ کی ہوں۔’

وہ پلیٹو اور لپ بام کی بڑی شوقین ہیں

جب یہ پوچھا گیا کہ آپ اور کیا ریتیلے جزیرے پر لے جانا پسند کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی میں پلیٹو کی بڑی مداح بن گئیں اور اس کا تمام کام اپنے ساتھ لے جانا چاہیں گی۔

‘میں لپ بام کے بغیر بھی نہیں رہ سکتی تو میں لپ بام بھی کر جاؤں گی جو کہ ہلکا سے رنگین لپ بام ہے تو یہ خوبصورت رنگ دیتا ہے۔ میں اس کے ساتھ ہمیشہ خوش رہ سکتی ہوں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17683 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp