جوہری چیلنج اور قوم پرستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آئیے ہم انسانیت کے روگ یعنی جوہری جنگ سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں۔ جب گل داؤدی والا اشتہار 1964 میں نشر ہوا (کیوبن میزائل بحران سے دو سال بعد ) جوہری طور پر فنا ہو جانے کا واضح خطرہ تھا۔ عام لوگوں اور پنڈتوں کا بھی یہی خیال تھا کہ انسان اتنے عقل مند نہیں ہیں کہ جنگ کی تباہی کا رخ موڑ سکیں اور یہ محض اس وقت کی بات تھی جب سرد جنگ جھلسا دینے والی تباہی میں بدل گئی۔ دراصل، انسانیت نے جوہری چیلنج کا کامیابی سے سامنا کیا۔

امریکہ، روس، یورپ اور چین نے برسوں سے مروج سیاست کے طور طریقوں کو بدلا۔ اس لیے سرد جنگ تھوڑی بہت خون ریزی کے بعد ختم ہو گئی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئے عالمی نظم و ضبط نے بے مثال امن کو فروغ دیا۔ نہ صرف ایٹمی جنگ کو روک دیا گیا بلکہ ہر طرح کی جنگ میں کمی آئی۔ 1945ء سے لے کر اب تک صرف کچھ نئی جگہوں پر ہی نئی سرحد بندی کی گئی ہے۔ اکثر ممالک نے جنگ کو بطور ایک سیاسی آلے کے استعمال کرنے کو ترک کر دیا ہے۔

2016ء میں شام، یوکرائن اور متعدد دیگر جنگوں میں موٹاپے، حادثات یا خودکشی کی نسبت کم اموات ہوئی ہیں۔ یہ ہمارے دور کی سب سے بڑی سیاسی اور اخلاقی کامیابی ہو سکتی ہے۔

بدقسمتی سے ان واقعات کے ہم اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ ہم انہیں روزمرہ کا معمول سمجھتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ لوگ کیوں خود کو آگ میں جھونکتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں امریکہ اور روس نے جوہری ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ کا آغاز کیا ہے، جس سے مشینی قیامت کا نیا دور نمو پا رہا ہے، جو گزشتہ دہائیوں میں مشکل سے حاصل ہونے والے فوائد کو کالعدم قرار دینے اور ہمیں تباہی کے دہانے پر لے جانے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اسی لیے لوگوں نے پریشان ہونا چھوڑ کر بم سے پیار کرنا سیکھ لیا ہے (جیسا کہ ”ڈاکٹر اسٹرینج لو“ میں تجویز کیا گیا ہے) یا پھر اس کے وجود کو بھی بھول گئے ہیں۔

اسی طرح برطانیہ میں بریگزٹ بحث (ایک بڑی جوہری طاقت) بنیادی طور پر معاشیات اور امیگریشن کے گرد گھومتی ہے، جبکہ یورپی یونین کی پوری اور عالمی امن میں اہم شراکت کو نظر انداز کیا گیا۔ صدیوں کی خونریزی کے بعد فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور برطانوی عوام نے ایسا طریقہ کار تیار کیا ہے جو براعظموں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔

جوہری جنگ کو روکنے اور عالمی امن کو محفوظ رکھنے والی بین الاقوامی نظام حکومت کی تشکیل کرنا انتہائی مشکل تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمیں دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس طرز حکومت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ پر انحصار کم کر کے غیر مغربی طاقتوں جیسا کہ چین اور انڈیا کو کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ سچ ہے کہ انیسویں صدی میں ممالک نے انسانی تہذیب کو تباہ کیے بغیر قوم پرستی کا کھیل کھیلا۔ لیکن یہ بات ہیروشیما پر کیے گئے ایٹمی حملوں سے پہلے کی ہے۔ تب سے، جوہری ہتھیاروں نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ اس نے جنگ اور سیاست کی بنیادی نوعیت کو بد ل دیا ہے۔

جس وقت سے انسان نے یورنییم اور پلاٹینیم کی افزدوگی سیکھی ہے، تب سے انسان کی بقاء کا انحصار کسی بھی قوم کے مفادات کے دفاع کی بجائے جوہری جنگ سے دور رہنے میں ہے۔ وہ تمام تر پرجوش قوم پرست جو نعرہ لگاتے ہیں کہ ’ہمارا ملک سب سے پہلے ہے‘ وہ اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا ان کا ملک بین الاقوامی تعاون کے مضبوط نظام کے بغیر ( حتیٰ کہ خود کو بھی) جوہری تباہی سے بچا سکتا ہے۔

کتاب:اکیسویں صدی کے اکیس سبق

مصنف: یوول نوح حراری
ترجمہ: زبیر لودھی

اس سیریز کے دیگر حصےعالمی مسائل کے عالمی جواب درکار ہیںیوول نوح حراری اور ماحولیاتی چیلنج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments