پی ڈی ایم کا چور پنکچر کون ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چور پنکچر، وہ کیا ہوتا ہے؟ ایسا پنکچر جو ٹیوب سے ہوا بغیر کسی چس کے خارج کرتا رہتا ہے یعنی صبح کے وقت ٹیوب خالی ملے گی جبکہ دن بھر ہوا موجود رہے گی لیکن جب چیک کروائیں گے تو پنکچر لگانے والے کو نہیں ملے گا۔

پھر اس کا علاج کیا ہے؟

ساتھ پمپ رکھیں، ٹیوب چینج کروا لیں یا پھر خود بند ہونے کا انتظار کریں۔ کیچڑ وغیرہ یا پھر کوئی تنکا سامنے آنے سے یہ خود بھی بند ہو جایا کرتا ہے۔

آٹھویں میں سائیکل ملنے پر مکینک کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں قطعاً ایسا خیال نہیں تھا کہ یہ کبھی تجزیے کے لیے بھی استعمال ہو سکے گی۔

اس وقت اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی جو حالت ہے اس کی مناسبت سے کئی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں مثلاً اس کے وعدے ناکام کیوں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں؟ شیخ رشید کی پیش گوئیاں سچ کیسے ثابت ہو رہی ہیں؟ بلند بانگ دعوؤں کے باوجود استعفے کیوں نہیں دیے گئے؟ سینیٹ الیکشن پر آمادہ کیسے ہو گئی؟ مولانا کی جانب سے راولپنڈی کی طرف مارچ کرنے کی بات اب کیوں نہیں کی جا رہی؟ پیپلز پارٹی واقعی سرد مہری کا شکار ہے یا صرف تأثر ہی ہے؟ احتجاجی جلسوں میں ویسی تیزی کیوں نہیں رہی؟

مشکوک ٹرانزیکشنز کیس میں آصف علی زرداری کی ضمانت کا پی ڈی ایم تحریک سے کیا تعلق بنتا ہے؟

کیا براڈ شیٹ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بننے کے بعد صورت حال تبدیل ہوئی؟

ان کے علاوہ بھی کچھ سوالات ہیں لیکن دو لفظی جواب ہے، چور پنکچر، یہ اور بات کہ کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ پی ڈی ایم کی ٹیوب پٹاکہ مار گئی ہے لیکن بہرحال ایسا نہیں ہے۔

یہ سوال اب بھی قائم ہے کہ چور پنکچر اگر ہے تو وہ ہے کون؟
اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے شروع سے ہی معاملے کو دیکھنا پڑے گا۔

2018 کے الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور اٹھا تو سہی تاہم تقریباً ایک سال تک معاملہ دھیما ہی رہا، مریم نواز کے ٹویٹر اکاؤنٹ کی وہ کاٹ نہیں تھی جو بعد میں شروع ہوئی۔اس دوران نواز شریف اور مریم نواز واپس آئے، ان کو قید کیا گیا، نواز شریف کی طبعیت خراب ہوئی، ان کو باہر بھجوایا گیا۔

اس دوران مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف دھرنے کا اعلان کیا جس میں ان دونوں جماعتوں نے بھی ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور یوں مولانا اسلام آباد پہنچے ، اگرچہ ان جماعتوں نے ساتھ دیا مگر ہومیو پیتھک سا، دھرنے میں شہباز شریف سے لے کر بلاول بھٹو تک نے شرکت کی بھی تو تقریروں کی حد تک اور پھر صورت حال نے وہ موڑ بھی لیا کہ مولانا کو ’احتجاج ملک بھر میں پھیلائیں گے‘ کا موقف اختیار کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنا پڑا۔

اس کے بعد کچھ عرصہ یونہی گزرا لیکن پھر اچانک اپوزیشن جماعتوں نے ستمبر 2020 میں کل جماعتی کانفرنس کر ڈالی جس میں اتحاد تشکیل دیا گیا، اس کانفرنس میں نواز شریف بھی بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔ اس کے بعد اتحاد نے سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔

ایک کے بعد ایک جلسہ اپنا اثر دکھاتا گیا کیونکہ مہنگائی اور دوسرے مسائل کے مارے عوام کی جانب سے اس کو پذیرائی ملتی رہی، تشویش حکومت کے طرزعمل اور وزیراعظم کے چہرے سے ظاہر ہونا شروع ہوئی جس کو وہ ’این آر او نہیں دوں گا‘ کے پیچھے چھپاتے رہے۔ سخت سے سخت تقریریں ہوئیں، میڈیا ایک طرف ہو گیا اور حکومتی موقف لے کر چلتا رہا لیکن اس کے باوجود بھی پی ڈی ایم عوام کے ذہنوں میں ہلچل مچاتی رہی۔

سب سے بڑا دعویٰ استعفے دینے کا تھا جس کے جواب میں حکومت نے کہا کہ ضمنی الیکشن کروا دیے جائیں گے تاہم مریم نواز نے موقف اپنایا کہ ڈیڑھ سو ضمنی الیکشن کروانا خالہ جی کا گھر نہیں ہے۔اس وقت بھی بعض اطراف سے کہا گیا کہ چونکہ پی پی کی سندھ میں حکومت ہے ، اس لیے وہ استعفے نہیں دے گی لیکن بلاول کے اس بیان ’استعفے ہمارا ایٹم بم ہیں‘ کے بعد امید تھی کہ شاید ایسا ہو جائے مگر نہیں ہوا۔

بد قسمتی سے پاکستان میں اَن سپانسرڈ احتجاجوں کی کامیابی کی روایت نہیں لیکن اس کے بغیر بھی پی ڈی ایم نے جس حد تک اس کا سلسلہ بڑھایا ، وہ متأثر کن تھا اور لگ رہا تھا کہ کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے، مگر پھر کچھ گڑبڑ ہو گئی۔

بات چونکہ سائیکل سے چلی تھی اس لیے آگے بھی اسی اصطلاح میں بات کرتے ہیں جو پطرس بخاری کی ’مرحوم کی یاد میں‘ والی سے تو بہتر ہے لیکن وہاں تک پہنچے گی، اس کی کوئی گارنٹی نہیں۔

مولانا فضل الرحمان کی حیثیت اس وقت سیٹ کی سی ہے وہ جتنا بھی چاہ لیں اس کو بھگانا موڑنا یا روکنا ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ مریم نواز کو اس کا ہینڈل قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ چاہیں تو کسی بھی وقت اس کا رخ موڑ سکتی ہیں، رہ گئے بلاول بھٹو تو ان کو بریک کہا جا سکتا ہے۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری اگلے اور پچھلے پہیے ہیں لیکن انہوں نے بھی ظاہر ہے تبھی چلنا ہے جب پیڈل چلیں گے اب سوال یہ ہے کہ پیڈل کون ہے؟

پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا طریق کار مزے کا تھا، مریم نواز کی تگنی کا ناچ نچانے والی بات بھی درست اور زبردست تھی، حکومت بیک فٹ پر جاتی نظر آ رہی تھی اور ولی خان کا ایک ’قول‘ سچ ہوتا نظر آنا شروع ہو گیا تھا لیکن اب لگ رہا ہے کہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔

اگرچہ پی ڈی ایم کا سٹینڈ نیلا گنبد سے ملنے والے ’سٹینڈ‘ سے قدرے بہتر ہے تاہم جتنا ہے اب اس سے بات نہیں بنے گی۔ اگر استعفوں کا کہا تھا تو دینے چاہیے تھے، حیرت ہے کہ پی ڈی ایم وہاں جا کر مصلحتوں کا شکار ہو رہی ہے جہاں ’دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا‘ والی بات تھی۔

اگر آپ کو 2018 کے سینیٹ الیکشن اور ایکسٹینشن کے معاملات یاد ہوں تو آپ کے خیال میں ’یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں‘ والا مصرعہ آئے گا تاہم ان کو پھر سے آزمانے میں مضائقہ صرف اسی صورت میں نہیں جب وہ ایسی کمند استعمال نہ کریں جو ہمیشہ بے موقع ٹوٹتی ہے۔

ایک اتحاد میں رہ کر بھی ’زرداری سب پہ بھاری‘ اور ’دیکھو دیکھو کون آیا‘ جیسے الگ الگ نعرے الگ الگ سوچ اور اپروچ کے ساتھ لگانے والوں کو بچوں کی دو کہانیاں ضرور پڑھنا چاہئیں، جن میں سے ایک میں گدھا بوجھ کم کرنے کے لیے پانی میں بیٹھتا تھا اور دوسری میں چرواہا شغل کے لیے ’شیر آیا‘ کی آواز لگاتا تھا۔

پی ڈی ایم لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے، وقت آ گیا ہے دوٹوک بات اور فیصلے کرنے کا، کیونکہ چور پنکچر اس کو نشانہ بنا چکا ہے۔ پمپ ساتھ اس لیے نہیں رکھا جا سکتا کہ وہ کسی اور کے پاس ہے، ٹیوب بدلنا پڑے گی، چور پنکچر کے خود بند ہونے کا انتظار کیا گیا تو شاید شیخ رشید کی ایک اور پیشن گوئی بھی سچ ثابت ہو جائے۔

آج ہی ایک بڑے امید پرست کالم نگار نے لکھا ہے ’مختصر الفاظ میں بین السطور یہی کہا جا سکتا ہے کہ بساط الٹ دینے کا آپشن اس دفعہ تاریخ میں پہلی بار پی ڈی ایم کو بھی میسر ہے‘ میں اس میں اتنا اضافہ کروں گا کہ آپشن تب تک آپشن ہی رہتا ہے جب تک استعمال نہ کر لیا جائے بہ الفاظ دیگر وہ مکا جو لڑائی کے بعد یاد آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply