پہاڑوں سے علی صد پارہ کا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے عزیزو!
دنیا کی چھت پر بیٹھ کر دنیا والوں کی باتیں سن کر مجھے ذرا بھی عجیب نہیں لگ رہا۔
پتا ہے کیوں؟

اس لیے کہ انسانوں نے تو محبت کو لین دین کا رشتہ بنا دیا ہے۔ جب تک کسی سے کوئی فائدہ مطلوب ہو تو محبت ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔

اور آپ لوگ تو جانتے ہیں ناں کہ میری تو پہلی اور آخری محبت پہاڑ تھے اور پہاڑوں سے محبت کو عام انسان نہیں سمجھ سکتا۔ پہاڑ جب آپ سے محبت کرنے لگیں تو وہ واپس نہیں جانے دیتے۔

اور میں تو جس کی زندگی میں خواہش کی، اب بھی ادھر ہی ہوں اور یہ تو غالب صاحب بہت عرصہ پہلے کہہ کے گئے تھے ناں کہ

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

مجھے معلوم ہے فتوی بازی بھی ہو رہی ہے، کوئی اسے خود کشی کہہ رہا ہے اور کوئی جہالت لیکن ان لوگوں کو کیا معلوم کہ محبت تو جلتے کوئلوں پر ”احد احد“ کی صدا کا نام ہے۔
محبت تو پوری رات بچھو کے ڈنگ کو برداشت کر کے اپنے محبوب کی نیند میں خلل نہ آنے دینے کا نام ہے۔
محبت کی خاطر تو رب نے پوری دنیا تخلیق کر ڈالی۔
محبت تو کشتیاں جلا کر واپسی کے راستے ختم کرنے کا نام ہے۔
محبت نے تو فرہاد کے تیشے سے پہاڑوں کو کٹوا کر نہریں بنا دی تھی۔

لیکن میں یہاں اس لیے سکون میں ہوں کہ اس دنیا میں آپ جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس جذبے کو سمجھتے ہیں۔

سلائی مشین پر کمر جھکائے دیوی نے تو مجھے پہاڑوں کے ساتھ قبول کیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ میری محبت کی شدت میرے محبوب پہاڑوں جیسی بلند ہے اور یہ شدت اس کے لیے کافی ہے۔

آپ دونوں نے 14 فروری کا ذکر کیا لیکن ایک التماس ہے کہ آپ لوگ 14 فروری کو بے شک محبت مناؤ لیکن میری تو ساری زندگی پہاڑوں سے محبت میں گزری ہے، اس لیے محبت کو اپنی پوری زندگی میں پھیلا دو۔ پھر دیکھنا جیسے مجھے میرے محبوب پہاڑ واپس نہیں آنے دے رہے، ایسے ہی آپ لوگ بھی ہمیشہ کے لیے اپنے محبوب کو پا لو گے۔ وہ محبوب چاہے مجازی ہو یا حقیقی۔

دور پہاڑوں کی چوٹیوں سے
آپ کا اپنا علی صدپارہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply