بینک کا سود حرام نہیں ہے (حصہ دوم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے ہفتے شائع ہونے والی دو تحریروں میں تفصیل بیان کی گئی تھی کہ قرآن و سنت کا منع کردہ ربا کیا ہے اور آج کے دور کے انٹرسٹ کی کیا حقیقت ہے۔ یہاں ہم ربا اور انٹرسٹ کا تقابلی جائزہ لے کر ان کا باہمی فرق واضح کریں گے کہ ربا اور انٹرسٹ کے عناصر ترکیبی نہ صرف مختلف بلکہ کئی صورتوں میں تو متضاد ہیں۔

1۔ قرآن وسنت میں جس ربا کی ممانعت کی گئی ہے وہ عموماً محتاج اور غریب لوگوں کے ذاتی ضروریات کے لئے لیے گئے قرضوں پر انتہائی زیادہ شرح اضافہ (اضعافاً مضاعفۃ 3، 130) تھا اور اس ظلم (لا تظلمون و لا تظلمون 2، 279) کا شکار لوگ خیرات اور صدقے (یمحق اللہ الربا و یربی الصدقات 2، 276) کے مستحق تھے۔ لیکن آج کے دور میں بینکنگ کے قرض کا مقصد عمومی طور پر تجارتی، کاروباری اور صنعتی ضروریات کے لیے سرمائے کی فراہمی ہے جس میں حکومت اور مرکزی بینک کی مداخلت سے، انٹرسٹ کی ایسی شرح متعین ہوتی ہے کہ کسی فریق پر ظلم بھی نہ ہو اور اور وہ شرح اجتماعی معاشی بہتری کے نقطۂ نظر سے بھی مناسب ہو۔

2۔ جدید مالیاتی نظام کے ارتقاء سے پہلے قرضے مہیا کرنے کے عمل پر امیر افراد اور کچھ گروہوں کی اجارہ داری ہوا کرتی تھی جس وجہ سے وہ عموماً اپنی شرائط اور مرضی کی شرح اضافہ منوا سکتے تھے۔ لیکن آج کی مالیاتی مارکیٹیں انتہائی حد تک مسابقتی اور ریگولرائزڈ ہیں اور یہ ایک ناممکن امر ہے کہ انٹرسٹ کی شرح یا قرضے کی شرائط کوئی ادارہ یا افراد اپنی مرضی سے ناجائز طور پر طے کر سکیں۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ مسابقتی مارکیٹوں میں صارف کو اشیا اور خدمات کم قیمت اور بہتر شرائط پر دستیاب ہوتی ہیں۔

3۔ سیرت کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر لیے گئے قرض سے زیادہ واپس کیا۔ صحیح ترمذی (کتاب البیوع) میں روایت ہے کہ رسول اللہ نے ایک اونٹ کے بدلے میں دو اونٹ واپس کیے اور ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو ادائے قرض میں بہتر ہے۔ اگرچہ اس قرض پر کوئی اضافہ ابتدائی طور پر طے نہیں کیا گیا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کی نظر سے یہ امر پوشیدہ نہیں تھا کہ قرض دینے والا فرد اس مال سے خود بھی فائدہ اٹھا سکتا تھا لیکن اسے قرض پر دے کر اس نے اپنے ممکنہ منافع کی قربانی دی۔ اس لیے واپسی پر کچھ زیادہ واپس کرنا ایک احسن عمل ہے۔

موجودہ مالیاتی نظام میں مارکیٹ کی قوتوں کے باہمی توازن سے انٹرسٹ کی ایسی شرح متعین ہوتی ہے جو قرض کی رقم مہیا کرنے والے کو اپنی رقم سے براہ راست فائدہ نہ اٹھا سکنے کی تلافی کرتی ہے اور یہ اضافہ قرض لینے والوں کے عمومی متوقع منافع سے بھی کم ہوتا ہے۔ یوں دونوں فریقوں کی رضا مندی سے باہمی طور پر فائدہ مند اضافہ لیا اور دیا جاتا ہے۔

4۔ جن معاملات میں شریعت کی کوئی واضح ہدایات موجود نہ ہوں اور کوئی خاص قاعدہ مقرر نہ کیا گیا ہو وہاں ’معروف‘ کی پیروی کرنا ایک جائز عمل ہے۔ ’معروف‘ کا لفظ قرآن میں کئی جگہ آیا ہے اور اس کا مطلب وہ درست طرزعمل ہے جو ایک معاشرے میں عمومی طور پر قابل قبول ہوتا ہے اور جس کے متعلق کوئی بھی غیرمتعصب شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ رویہ عین عدل اور انصاف پر مبنی ہے۔ اب اگر انٹرسٹ کی مطلوبہ شرح کے حوالے سے شریعت میں کوئی رہنمائی نہ ہو اور انٹرسٹ کو یکسر ختم کرنا بھی ناقابل عمل ہو تو ہمیں اس معاملے میں یقیناً ’معروف‘ کے قاعدے کا سہارا لینا ہو گا اور شرح کے تعین کے ایسے عمل کو تسلیم کرنا ہو گا جو انصاف پر مبنی ہو اور ہماری اجتماعی معاشی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہو۔

5۔ آج کے دور میں جہاں بینکوں سے قرض لینے والے اور انٹرسٹ دینے والے عمومی طور پر محتاج اور غریب لوگ نہیں ہیں بلکہ کاروباری افراد اور کمپنیاں ہیں، وہیں قرض کے لیے پیسہ فراہم کرنے والے لوگ زیادہ تر معاشی طور پر متوسط اور نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں یا ریٹائرڈ افراد ہیں جو اپنی بچتوں کا کوئی بہتر مصرف نہ پا کر بینک سے معمولی لیکن یقینی انٹرسٹ وصول کرتے ہیں۔ بہتر معاشی وسائل رکھنے والے افراد کے لیے سرمایہ کاری کے دیگر بہتر آپشنز مثلاً شیئرز، پراپرٹی اور شراکت داری وغیرہ موجود ہیں، لیکن کم بچتوں کے حامل افراد کے لیے آسان ترین ذریعہ بینک انٹرسٹ ہی ہے۔ یوں اس انٹرسٹ کے لینے اور دینے والے عامل، ربا کے تعامل سے بالکل متضاد ہیں جہاں با اثر اور امیر لوگ محتاجوں اور ضرورت مندوں کو بلند شرح پر قرض دے کر ربا وصول کرتے تھے۔

6۔ ربا اور انٹرسٹ کے معاشی اور معاشرتی اثرات میں بھی زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ ربا ایک طرف ایسے استحصالی طبقے کو جنم دیتا ہے جو اپنے پیسے کو یوزری کی بلند شرح پر قرض دے کر غریبوں کا خون نچوڑتا ہے اور دوسری طرف ربا دینے والے افراد قرض در قرض کے ایسے چکر میں پھنس جاتے ہیں جس سے نجات کی انہیں کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ یہ عمل اجتماعی بہبود کے لیے انتہائی مضر ہے۔ بینک انٹرسٹ کے معاملے میں ایسے کوئی ظالم اور مظلوم طبقات وجود میں نہیں آتے بلکہ غربت کے خاتمے کی حکمت عملی میں غریب لوگوں کو بینکنگ کے نظام تک رسائی دینا اور انٹرسٹ کی عمومی شرح پر قرضوں کی فراہمی کو آسان بنا کر انہیں یوزری کا کاروبار کرنے والوں سے نجات دلانا ایک ضروری امر سمجھا جاتا ہے۔

غرض یہ کہ بینکنگ انٹرسٹ کو وہی شخص حرام قرار دے سکتا ہے جو محض اس ظاہری مماثلت کو سامنے رکھے کہ ربا اور انٹرسٹ دونوں میں اصل زر سے زیادہ رقم دی جاتی ہے، لیکن ان دونوں کے تشکیلی عناصر، خصوصیا ت اور اثرات کو نظرانداز کر دے۔ انٹرسٹ کو حرام قرار دینا بلاشبہ ایک تقلیدی اور جامد طرزعمل اور محض ایک اجتہادی غلطی کی اندھی پیروی ہے۔

بینک کا ادارہ اور سرمائے کی فراہمی کا عمل آج کے دور میں انسان کی بنیادی معاشی ضرورت ہے۔ چاہے علماء حضرات ’میں نہ مانوں‘ کی رٹ لگائے رکھیں لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انٹرسٹ کے بغیر مالیاتی مارکیٹیں کام نہیں کر سکتیں اور ان مالیاتی اداروں اور مارکیٹوں کے بغیر جدید تہذیب اور مادی ترقی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ نتیجتاً انٹرسٹ کو ربا کے مترادف سمجھ کر حرام قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے احکامات آج کے دور میں نا قابل عمل ہیں (نعوذ باللہ) ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یقیناً علماء نے اس مسئلے کو سمجھنے میں ایسی سنگین اجتہادی غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا ان کی پیروی کرنے والے اپنے معاشی نقصانات کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے یورپ میں سولہویں صدی میں علم کے پھیلاؤ میں انقلاب برپا کر دیا لیکن علماء نے اس فقہی دلیل کی بنا پر 300 سال تک اس کے استعمال کو روکے رکھا کہ قرآن کے مطابق اسلام میں علم کی تحریری ترویج کا ذریعہ قلم ہے (الذی علم بالقلم۔ 96، 4) ۔ نتیجہ علمی اور سیاسی پسماندگی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ انٹرسٹ کو حرام قرار دینے والی غلطی بھی اپنے حجم اور اثرات میں پرنٹنگ پریس کی مخالفت سے کم درجے کی نہیں ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جدید مالیاتی نظام کے ممکنہ معاشی ثمرات سے پوری طرح مستفید نہیں ہو پاتی۔

علماء تو چند دہائیوں یا شاید کچھ صدیوں میں اپنی اس رائے سے ضرور رجوع کر لیں گے، لیکن اس وقت تک مسلم امہ کا عظیم انفرادی اور اجتماعی معاشی نقصان ناقابل تلافی حد تک ہو چکا ہو گا۔ اس دوران میں جو لوگ ان کی اس فاش اجتہادی غلطی کی وجہ سے مسائل کا شکار رہے، ان کے ناحق نقصان کے ازالے کی کوئی صورت نہ ہو گی.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply