بنگلہ دیشی مصنف ایوی جیت رائے کے قتل میں ملوث پانچ انتہاپسندوں کو سزائے موت سنا دی گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈھاکہ کے اینٹی ٹیررازم ٹربیونل نے بنگلہ دیشی امریکن مصنف ، بلاگر اور انسانی حقوق کے کارکن ایوی جیت رائے کے قتل میں ملوث پانچ افراد کو موت کی سزا سنا دی جب کہ ایک شخص کو عمر قید کی سزاسنائی گئی۔

بیسٹ سیلنگ کتاب Biswasher Virus سمیت دس کتابوں کے مصنف ایوی جیت رائے کو فروری 2015میں اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ بنگلہ دیش میں ایک کتاب میلے میں اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود تھے۔ اس حملے میں ان کی اہلیہ رفیدہ احمد بونیا بھی شدید زخمی ہو گئی تھیں۔

یہ واقعہ ان حملوں کی ایک کڑی تھی جو مذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے سیکولر ایکٹوسٹس کے خلاف جاری تھے۔

اس فیصلے کے خلاف ملزمان کے وکلاء اعلیٰ عدالت میں اپیل کا ارادہ رکھتے ہیں۔


ایوی جیت رائے 1972 میں بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے اور 2006 میں وہ امریکا منتقل ہو گئے اور وہاں سے انہوں نے ایتھیسٹ بلاگرز کی بنگلہ دیشی حکومت کے ہاتھوں کے  گرفتاریوں پر تنقید جاری رکھی۔

ایوی جیت رائے کی اہلیہ رفیدہ کا کہنا ہے کہ’ اس فیصلے سے مجھے سکون نہیں مل سکتا ، میں اس واقعے کی نہ صرف یہ کہ عینی شاہد ہوں بلکہ میں اس حملے میں شدید زخمی بھی ہوئی تھی لیکن بنگلہ دیش میں اس قتل کیس پر تحقیقات کرنے والے کسی بھی ادارے نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔‘

ان کے بقول ’صرف چند لوگوں کو سزا سنا کر انتہا پسندی کے اسباب نظر انداز کر دینا ایوی جیت رائے سے انصاف نہیں ہو سکتا۔‘

بنگلہ دیش میں 2013 سے 2016 کے درمیان مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے سیکولر ایکٹوسٹس ، بلاگرز اور ایتھسٹ لکھاریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ۔اس دوران بنگلہ دیشی حکومت نے انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے خصوصی اینٹی ٹیررازم پولیس بھی قائم کی تھی۔

پولیس کے چھاپوں اور کارروائیوں میں لگ بھگ 100 انتہا پسند مارے گئے اور سینکڑوں گرفتار ہوئے اور نصف درجن دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگائی گئی۔

انڈیا میں ہندوؤں کی ایک تقریب میں شرکت کی پاداش میں بنگلہ دیشی کرکٹر شکیب الحسن بھی انتہا پسندوں کے حملے کا نشانہ بن چکے ہیں ۔اس کے بعد حکومت نے شکیب الحسن کو مسلح سیکورٹی گارڈ فراہم کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply