ایک کشمیری کا خواب اور قصہ چند ملاقاتوں کا(حصہ دوم)


ریاست جموں کشمیر میں مسلم اور غیر مسلم آبادی کا تناسب 76 : 24 فی صد کا تھا۔ پہلی باقاعدہ مردم شماری 1891 ء میں ہوئی، جس کے مطابق ریاست کی کل آبادی پچیس لاکھ تینتالیس ہزار نو سو بانوے تھی۔ اگرچہ مردم شماری 1901 ء میں بھی ہوئی لیکن جغرافیائی محل وقوع اور نسل اور مذہب کے اعتبار سے، پہلے اعداد و شمار 1911 ء کی مردم شماری سے ملتے ہیں۔ اس کے مطابق مسلمان % 76، ہندو % 22، بدھ، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ 2 فی صد تھے۔

کشمیر کی وادی میں مسلم اور غیر مسلم کا تناسب 95 : 5 کا اور جموں کے صوبے میں یہ تناسب 60 : 40 کا تھا۔ ہندو ڈوگرہ کے حکمران ہونے کے باعث، ہندو رعایا بشمول کشمیری پنڈت ریاست میں قدرے مراعات یافتہ قرار پائے، البتہ مسلمان زیر عتاب آ گئے۔ ہندوؤں کی نچلی ذاتوں کے ساتھ بھی مسلمانوں جیسا سلوک روا رکھا گیا۔ مسلمانوں کی معاشی حالت جو پہلے ادوار بالخصوص افغان اور خالصہ دور میں ابتر ہو چکی تھی، بالکل ناگفتہ بہ ہو گئی۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور حکومتی اہل کاروں کے ظالمانہ رویے نے ان کے لئے عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ حکومت کے اہل کار ٹیکسوں کے نام پر کسانوں کے غلے کا تین چوتھائی حصہ اٹھا کر لے جاتے۔ کچھ ایسا ہی رویہ چھوٹے بڑے صنعت کاروں کے ساتھ روا رکھا جاتا۔ چنانچہ زراعت و صنعت زوال پذیر ہو گئیں۔ عام لوگوں کو سینکڑوں کے حساب سے حکومت کے کارندے، بیگار میں پکڑ کر لے جاتے۔ ان میں سے چند ہی خوش قسمت مہینوں کی بلامعاوضہ مشقت کے بعد بھوکے اور تار تار لباس کے ساتھ گھر لوٹ پاتے۔ زیادہ تر مشقت، بھوک، ننگ اور موسم کی شدت کے مقابلے میں اپنی جانیں ہار بیٹھتے۔

‘کشمیری ہاتو’ کی اصطلاح اسی دور اسیری کی اختراع ہے۔ 1877 ء میں رنبیر سنگھ (گلاب سنگھ کے بعد، اس کے بیٹے) نے بہت سے قحط زدہ کشمیریوں، جو قحط سے مجبور ہو کر ہندوستان بالخصوص پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنا چاہتے تھے، کو بھوک سے نجات دلانے کے لئے زبردستی کشتیوں میں بھر کر وولر جھیل میں غرق کر دیا تھا۔ اس صورت حال میں، کشمیری جو اپنے آپ کو ایک کال کوٹھری میں بند تصور کرتے تھے، ہندوستان جو انگریزوں کی غلامی میں جکڑا ہوا تھا، کو اپنے لئے نسبتاً آزاد فضاء سمجھتے تھے۔

آزادی کی تحریک کا آغاز

گلاب سنگھ ( 1846 ء۔ 1856 ء ) کے بعد، زمام ریاست یکے بعد دیگرے نسل در نسل (رنبیر سنگھ 1856 ء۔ 1885 ء، پرتاب سنگھ 1885 ء۔ 1925 ء، ہری سنگھ 1925 ء۔ 1952 ء) منتقل ہوتی رہی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مسلمان اکثریت، معاشی بدحالی پر نالاں تھی اور کڑھتی تھی اور کبھی کبھی چھوٹے موٹے احتجاج کی صورت میں ان کا رد عمل بھی سامنے آ جاتا تھا، البتہ دینی معاملات میں مداخلت ان کے لئے نا قابل برداشت ہوتی تھی۔ مسلمان، بالعموم اپنے مسلسل معاشی استحصال پر دل برداشتہ تو تھے ہی، لیکن جب کچھ نوجوان، جن میں شیخ عبد اللہ اور غلام عباس بھی شامل تھے، پر سرکاری ملازمت کے دروازے بند کیے گئے تو نوجوانوں میں بالخصوص بے چینی پھیلی۔ معاملہ کچھ اس طرح کا ہوا کہ جب بہت سے مسلمان نوجوان ہندوستان سے اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس آئے تو ریاست نے انہیں ملازمت سے محروم رکھنے کے لئے سول سروس ریکروٹمنٹ بورڈ (Civil Service recruitment Board) کے ذریعے، بھرتی کے قوانین میں فوراً ترامیم کر ڈالیں۔ اس سے ان کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ (M۔ Yusuf saraf۔ Kashmiris Fight for Freedom) ۔ اس کے اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔

سری نگر میں 1930 ء میں شیخ محمد عبداللہ اور دوسرے اصحاب کے اشتراک سے ریڈنگ روم پارٹی (Reading Room Party) کا ڈول ڈالا گیا۔ جموں میں ینگ منز مسلم ایسوسی ایشن (Young Men ‘s Muslim Association) اگرچہ پہلے سے قائم تھی اور چوہدری غلام عباس 1922 ء میں اپنے کالج کے زمانے سے ہی اس میں شمولیت اختیار کر چکے تھے، ان کے 1931 ء میں فارغ التحصیل ہونے پر یہ تنظیم بھی اب فعال ہو کر منظر عام پر آ گئی تھی۔ اسی سال پے درپے دینی معاملات میں ریاستی اداروں کی مداخلت کے کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے کہ حالات اور زیادہ خراب ہو گئے۔

1۔ اودھم پور میں ایک معروف زمین دار کے اسلام قبول کرنے پر سرکاری طور پر اس کی زمین اس سے چھین کر اس کے ہندو بھائی کے نام کر دی گئی۔

2۔ 29 اپریل 1931 ء کو جموں کے ضلع سانبا کے ایک گاؤں، دیگور، میں ایسی جگہ پر عید کی نماز کی ادائیگی روک دی گئی جہاں مسلمان پچھلے کئی سالوں سے نماز ادا کرتے چلے آ رہے تھے۔

3۔ اسی دن جموں شہر میں میونسپل کمیٹی کے باغ میں عید کی نماز کا خطبہ ایک پولیس سب انسپکٹر نے صرف اس بناء پر روک دیا کہ اس میں قرآن کی ایسی آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں فرعون کو ظالم اور جابر حکمران کہا گیا ہے

4۔ 4 جون 1931 ء کو جموں جیل میں ملازم پولیس کے ایک کانسٹیبل فضل داد کو جس کا تعلق میرپور سے تھا، اس کے ہیڈ وارڈر بالک رام نے ڈیو ٹی میں دیر کرنے پر سرزنش کی۔ اسی دوران سب انسپکٹر لبھو رام بھی وہاں آ گیا۔ اس نے طیش میں آ کر فضل داد کا بستر اس کی چارپائی سے اٹھا کر زمین پر پھینک دیا۔ جب فضل داد نے بستر میں قرآن کی موجودگی کا ذکر کیا تو لبھو رام نے بستر کو لات دے ماری۔

5۔ 20 جون 1931 ء کو قرآن کے کچھ صفحات، سری نگر میں عوام الناس کے استعمال کے ایک بیت الخلاء میں پائے گئے۔ ان واقعات پر کشمیر کے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور بھرپور احتجاج کرنا لازمی امر تھا، جو ہوا بھی۔ پھر اسی احتجاج کے نتیجے میں جنم لینے والے واقعات، زنجیر کی کڑیوں کی طرح آپس میں ملتے چلے گئے اور کاروان آزادی بنتا چلا گیا۔ اگرچہ یہ کاروان آزادی راستے میں کہیں بھٹک گیا اور آج تک منزل کی تلاش میں سر گرداں ہے۔

(میں نے کشمیر کی تاریخ کا اجمالی خاکہ، لکھنے میں بہت سی کتب سے استفادہ کیا ہے۔ ان میں سرفہرست ‘کشمیر تاریخ کے آئینے میں’ ہے۔ اس کتاب کے تین ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔ پہلا ایڈیشن 1986 ء میں شائع ہوا تھا اور تیسرا 2008 ء میں۔ اس کتاب کی تدوین اور تحریر میں خود میرا اپنا بھی ہاتھ ہے۔)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3