EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ایک کشمیری کا خواب اور قصہ چند ملاقاتوں کا(حصہ دوم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر کے ‘کاز’ پر کام کرنے والوں میں میرے سب سے معتمد ساتھی، پروفیسر ڈاکٹر راجہ محمد عارف خان تھے، جو تھوڑا عرصہ پہلے گورنمنٹ کالج میرپور سے پرنسپل کی حیثیت میں ریٹائر ہوئے ہیں اور آج کل یہاں برطانیہ میں ہی ہوتے ہیں۔ ہم دونوں نے کشمیر پر ایک ایسی کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا جس میں جذباتیت اور مبالغہ آمیزی کی بجائے صرف حوالہ جات کے ساتھ حقائق ہوں۔

1979 ء میں جب میں آرمی میں تھا اور عارف گورنمنٹ کالج میرپور میں لیکچرر تھا۔ میں نے مشورہ دیا کہ وہ کتاب کا مواد جمع کرے، میں اسے تحریری شکل دوں گا۔ ہم نے کتاب کے بنیادی ڈھانچے اور نکات پر سیر حاصل بحث کی اور اس کا ایک تصوراتی سا خاکہ مرتب کر لیا۔ کتاب کے مکمل ہونے پر ہم دونوں میں سے کوئی بھی کتاب پر اپنا نام نہیں لکھ سکتا تھا، کہ ان دنوں زبان و بیان پر ہی نہیں، سوچوں پر بھی پہرے تھے۔ مواد جمع ہونے میں دو تین سال لگ گئے۔ میں اس دوران ایف آر سی ایس کے سلسلے میں آئرلینڈ چلا گیا۔ اس وقت ذرائع مواصلات اور رسل و رسائل کی سہولت آج جیسی نہیں تھی، چنانچہ اس کتاب کا مواد مجھ تک نہ پہنچ پایا۔ 1986 ء میں جب میں واپس گیا اور راولپنڈی میڈیکل کالج میں سرجری میں اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوا تو عارف نے مجھے کتاب کے سارے حوالہ جات دیے، لیکن وہ انہیں اپنی ہی تحریر میں کتابی شکل بھی دے چکا تھا۔ تحریر بے جان تھی، میں نے اسے پھر سے لکھنا چاہا۔ عارف نے بتایا کہ وہ اس کتاب کی آدھی سے زیادہ کتابت بھی کروا چکا ہے۔ چنانچہ پہلی مرتبہ یہ کتاب اسی طرح، ایم اے خان کے نام سے چھاپی گئی۔

1987 ء میں جب میں واپس برطانیہ آیا تو کتاب اور اس کے لوازمات بھی ساتھ لے آیا۔ اس کتاب کی کسی حد تک نوک پلک درست کی، کچھ ترامیم کیں اور کچھ اضافے کیے اور 1991 ء میں اسے ذرا بہتر شکل میں چھاپا گیا۔ اب اس کا تیسرا ایڈیشن آ چکا ہے۔ دوسری کتاب جس سے مجھے بہت مدد ملی وہ محمد یوسف صراف کی کتاب "Kashmiris Fight for Freedom” ہے۔ محمد یوسف صراف نے یہ کتاب اپنی ملازمت کے دوران (جب وہ چیف جسٹس ہائی کورٹ آزاد کشمیر تھے، نومبر 1977 ء میں) لکھی۔

یوسف صراف 1923 ء میں بارہ مولہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایم اے ہسٹری اور ایل ایل بی کی ڈگریاں علی گڑھ یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ 1943 سے 1945 تک شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس میں رہے اور اگست 1945 ء میں چوہدری غلام عباس کی مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ 1959 ء میں کے ایچ خورشید کی لبریشن لیگ کے اجراء پر اس کے بانی ممبر بنے۔ یوسف صراف کی یہ کتاب، ایک کتاب نہیں، یہ کشمیر پر 1363 صفحات اور دو جلدوں پر مشتمل ایک تحقیقی مقالہ ہے۔ اس کتاب کے ہر پیرے کا حوالہ ساتھ دیا گیا ہے۔ یوسف صراف چونکہ شیخ عبداللہ اور چوہدری غلام عباس دونوں کے قریب رہے، ان کی سیاست اور شخصیات کو بہت قریب سے دیکھا اور پر کھا اور بہت سے واقعات کے وہ خود چشم دید گواہ ہیں، لہٰذا بلا خوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے لکھا، وہ بے لاگ اور سچ ہے۔
میں نے علی محمد پیر کے پی ایچ ڈی کے تھیسس "British Policy Towards Jammu & Kashmir 1846۔ 1947” سے بھی استفادہ کیا ہے۔ بالخصوص اس کے تیسرے چیپٹر "Legal Position” سے۔ ? )
کشمیر کے مسئلہ پر بحث سے پہلے ریاست کشمیر کے پس منظر اور اس سے متعلقہ حقائق کو جاننا ضروری ہے۔ لہٰذا کشمیر کی تاریخ کا مختصر سا جائزہ ایک خاکے کی صورت میں پیش کر رہا ہوں۔

مختصر تاریخ
بحیثیت آزاد ریاست (قبل مسیح۔ 1585 ء)

ریاست کشمیر کی تاریخ 5 ہزار سال سے زیادہ پر محیط ہے۔ ہندو راجاؤں کے 21 خاندانوں نے اس ریاست پر 4594 سال حکومت کی ہے۔ راجہ سہدیو، راجگان ہنود کا آخری حکمران تھا۔ اس کا دور حکومت 1324 ء کو اختتام کو پہنچا۔ رنچن شاہ، جو تبت کے والی کا بیٹا تھا اور مذہباً بدھ تھا، کشمیر میں آیا تو پہلے راجہ سہدیو کا وزیر بنا اور آخر کار ریاست کا حکمران مقرر ہوا۔ اسی رنچن شاہ نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام تبدیل کر کے صدر الدین رکھ لیا۔ زین العابدین ( 1420 ء۔ 1470 ء) ، جسے بڈ شاہ بھی کہا جاتا ہے، کا دور کشمیر میں خوش حالی اور امن و امان کے لحاظ سے زریں دور شمار کیا جاتا ہے۔ مسلم خاندانوں کی حکومت 1585 ء تک قائم رہی۔

دور محکومی

مغل دور حکومت ( 1585۔ 1752 ) اکبر کے دور میں کشمیر کی آزاد ریاست پر 1585 ء میں مغلیہ سلطنت کا قبضہ ہو گیا اور انہوں نے اپنے گورنروں کے ذریعے کشمیر پر 1752 ء تک حکومت کی۔ کشمیریوں کے لئے محکومی کے بعد میں آنے والے ادوار کے مقابلے میں یہ دور نسبتاً قابل برداشت تھا۔ اس دور میں کشمیر میں تعمیر و ترقی کے کچھ کام بھی ہوئے۔ مذہبی شعائر کی بجا آوری پر کوئی قدغن نہیں تھی۔

افغانوں کا دور استبداد ( 1752۔ 1891ء)

ہندوستان پر، لوٹ مار کی غرض سے افغان وقتاً فوقتاً حملہ آور ہوتے تھے اور لوٹی ہوئی دولت افغانستان لے جاتے تھے۔ یہ جو کچھ بھی کیا جاتا تھا، کسی اسلامی جذبے کے تحت نہیں، محض دنیوی اغراض اور مال و دولت کے حصول کے لئے ہوتا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کا کشمیر پر 1752ء میں حملہ کامیاب رہا اور اسے محض دولت بٹورنے کے لئے افغان سلطنت کا حصہ بنا دیا گیا۔ یہ ایک سخت گیر دور تھا، جس میں مقامی لوگوں کا بلا امتیاز مذہب و ملت و نسل، معاشی استحصال کیا گیا۔ مسلمانوں کو اگر کوئی سہولت اس دور میں حاصل تھی تو صرف اتنی کہ وہ اپنے مذہبی شعائر اور رسم و رواج پر عمل کرنے پر پوری طرح آزاد تھے۔

سکھوں کا دور سکھا شاہی ( 1819 ء۔ 1846 ء)

مہاراجہ رنجیت سنگھ، پنجاب کے حکمران نے ریاست کشمیر، 1819 ء میں افغانوں سے چھین کر اپنی راجدھانی میں شامل کر لی۔ کشمیری گویا چولہے پر چڑھی کڑاہی سے نکل کر آگ میں آ گرے تھے۔ اگر افغانوں کی غلامی تلخ گھونٹ کے مشابہہ تھی تو خالصہ بہادر کی سکھا شاہی، زہر میں بجھے اس تیر کی مانند تھی جو ریاست کے جسم کے آر پار ہو گیا تھا۔ خالصہ فوج کے ریاست میں داخل ہوتے ہی قانون کی حکمرانی، اگر کوئی تھی تو وہ تہ و بالا ہو گئی۔ اس فوج کا ہر سپاہی، اپنے اعلیٰ عہدہ داروں کی دیکھا دیکھی کشمیریوں کا آقا بن بیٹھا۔ مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہو گیا، یہاں تک کہ سری نگر کی جامع مسجد بند کر دی گئی۔ معاشی استحصال بد سے بدتر ہو گیا۔

ڈوگروں کا دور غلامی گلاب سنگھ جس کا تعلق جموں سے تھا۔ یہ رنجیت سنگھ کی فوج میں ایک اہم سالار تھا۔ اس کا زیادہ وقت ریاست کشمیر کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی راجدھانیوں پر چڑھائی اور انہیں خالصہ ریاست میں شامل کرنے میں گزرا۔ گویا یہ شخص ریاست کشمیر کو انگریزوں سے خریدنے سے پہلے ہی اس کا عملی طور پر حکمران بن چکا تھا۔

رنجیت سنگھ کے 1839 ء میں فوت ہو جانے کے بعد، سکھ دربار سازشوں کی آماج گاہ بن گیا۔ گلاب سنگھ کا ایک بھائی دھیان سنگھ انہی سازشوں میں قتل کر دیا گیا اور اس کا دوسرا بھائی سوچیت سنگھ اپنے ہی بھتیجے ہیرا سنگھ، جو دھیان سنگھ کا بیٹا تھا کے ہاتھوں مارا گیا۔ گلاب سنگھ کے بھی خالصہ دربار سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ اس نے انگریزوں اور سکھ فوج کے درمیان دسمبر 1845 ء کی جنگ میں انگریزوں کے خلاف خالصہ دربار کی مدد سے گریز کیا، جو خالصہ دربار کی شکست پر منتج ہوئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صفحات: 1 2 3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے