ایم جے اکبر پریا رمانی کے خلاف ہتکِ عزت کا کیس ہار گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

'میں بہت اچھا محسوس کر رہی ہوں۔ میرے سچ کو عدالت نے قبول کیا ہے۔ یہ اصل میں بڑی بات ہے۔'

انڈین صحافی پریا رمانی نے سابق وفاقی وزیر ایم جے اکبر کے خلاف کیس جیتنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری جیت سے دیگر خواتین کو کھل کر بولنے کا حوصلہ ملے گا اور طاقتور لوگ متاثرین کو عدالت میں گھسیٹنے سے پہلے دو بار سوچیں گے۔‘

2018 میں انڈیا میں سرگرم #MeToo تحریک کے دوران صحافی پریا رمانی نے ایم جے اکبر پر انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا جس کے بعد ایم جے اکبر نے خاتون صحافی کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ کیا تھا۔

عدالت نے فیصلے میں کیا کہا

رمانی کی وکیل ریبیکا جان نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی موکلہ کو اس معاملے میں بری کر دیا جائے جبکہ اکبر کی وکیل گیتا لوتھرا نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ رمانی کے الزامات کے سبب اکبر کی معاشرے میں پہچان کو نقصان پہنچا ہے۔

بدھ کو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سے ’خوداری اور خود اعتمادی پر فرق پڑتا ہے اور وہ اس میں کمی آتی ہے۔‘

عدالت نے کہا ‘کسی شخص کی شان کی حفاظت کسی کی عزت کی قیمت پر نہیں کی جا سکتی ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

وزیر کا #MeToo کا الزام لگانے والی خاتون پر جوابی دعویٰ

ایم جےاکبر جنسی ہراسانی کے الزام کے بعد مستعفی

اب مردوں کا بچ پانا آسان نہیں ہوگا

عدالت نے کہا کہ خواتین کے پاس واقعے کے دہائیوں بعد بھی اپنی بات سامنے لانے کا حق ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاشرے میں مقبول شخص بھی جنسی زیادتی کر سکتا ہے۔

صحافی پریا رامانی کی جانب سے ایم جے اکبر کے خلاف الزام لگائے جانے کے بعد متعدد خواتین نے ایم جے اکبر کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کے بارے میں بتایا تھا۔

جج رویندر کمار پانڈے نے کہا ‘معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنسی زیادتی اور تشدد کا متاثرین پر کیا اثر ہوتا ہے۔’

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں اگر کوئی اپیل دائر کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

انڈیا میں خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے ٹوئٹر گروپ ’می ٹو انڈیا‘ نے ٹویت کیا ہے ‘ہم نے یہ لڑائی جیت لی ہے۔ ابھی کہنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ صرف آنکھوں میں آنسو ہیں، رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں اور یکجہتی کا احساس ہے۔ ہم پریا رمانی کی ہمت کے شکر گزار ہیں۔’

https://twitter.com/IndiaMeToo/status/1361975750933368834

سینیئر صحافی برکھا دت فیصلے کے وقت عدالت میں موجود تھیں۔

انھوں نے ٹویٹ کیا ‘ہاں پریا رمانی، ہاں۔ اکبر کا ہتک عزت کا مقدمہ مسترد ہو گیا۔ اس سے خواتین کو خاموشی توڑ کر آواز اٹھانے کے لیے ہمت ملے گی۔ آج میں عدالت میں تھی اور اس بارے میں خوش بھی ہوں۔’

https://twitter.com/BDUTT/status/1361973910254669824

صحافی نیلانجنا رائے نے ٹویٹ کیا ‘پریا رمانی اس مقدمے میں صاف دل سے اور عدلیہ میں پورے یقین کے ساتھ ڈٹی رہیں۔ پریا رمانی نے ایک اچھی لڑائی لڑی۔’

https://twitter.com/nilanjanaroy/status/1361979496962818053

صحافی اور مصنف رانا ایوب نے لکھا ‘پریا تم نے ہم سب کی لڑائی لڑی ہے۔’

https://twitter.com/RanaAyyub/status/1361975981246873602

وہیں سینیئر وکیل پرشانت بھوشن نے ٹویٹ کر کے کہا ‘پریا رمانی آخر کار ایم جے اکبر کی جانب سے ہتک عزت کے مقدمے میں بری ہو گئی ہیں، جنسی ہراساں کے بعد پریا رمانی کو عدالتی کارروائی میں ہراساں ہونا پڑا۔ اکبر کو اس کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔’

https://twitter.com/pbhushan1/status/1361981001728225280

پریا رمانی کا الزام

پریا رمانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ممبئی کے اوبرائے ہوٹل میں دسمبر 1993 میں نوکری کے لیے انٹرویو کے دوران ایم جے اکبر نے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

پریا رمانی نے #MeToo تحریک کے دوران اُس دور کے وفاقی وزیر ایم جے اکبر پر انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور ان پر ایسا الزام عائد کرنے والی وہ پہلی خاتون تھیں۔

می ٹو تحریک کے تحت 20 خاتون صحافیوں نے اکبر پر اس نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔

اکبر نے ان الزامات کے بعد 17 اکتوبر 2018 کو وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اکبر پر سب سے پہلا الزام عائد کرنے والی صحافی پریا رمانی نے اس موقعے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

پریا رمانی نے ٹویٹ کیا تھا ‘اکبر کے استعفے سے ہمارے الزامات صحیح ثابت ہوئے ہیں۔ ہمیں اب اس دن کا انتظار ہے جب ہمیں عدالت سے انصاف ملے گا’۔

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے میں سب سے پہلے ایم جے اکبر کا نام پریا رمانی نے ہی لیا تھا۔ انھوں نے ووگ انڈیا میگزین کے لیے ‘ٹو دا ہاروی وائنسٹائنز آف دا ورلڈ’ کے نام سے لکھے اپنے ایک مضمون کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے پہلے تجربے کو شیئر کیا تھا۔

انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ اکبر نے نیوز روم کے اندر اور باہر ان کے ساتھ غیر مناسب ہرکتیں کی تھیں۔

استعفیٰ دینے کے بعد اکبر نے بیان جاری کیا تھا کہ وہ ذاتی طور پر ان الزامات کے خلاف لڑیں گے۔ اس کے ساتھ ہی اکبر نے رمانی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17713 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp