ربا سے متعلق ناظم چوہدری صاحب کے مضمون پر تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں ”ہم سب“ میں ناظم چوہدری صاحب کا ایک مضمون بنک انٹرسٹ کے حوالے سے شائع ہوا کہ آیا وہ اس سود جسے ربوا کہتے ہیں کہ زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ ناظم صاحب نے ایک اچھا سوال اٹھایا ہے جو غور طلب ہے اور اسے کسی منطق اور دلیل سے حل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ محض کسی دلیل کے بغیر زور دیا جائے کہ انٹرسٹ دراصل ربوا کہ ہی ایک قسم ہے۔

ربوا کی حرمت سمجھنے کے لیے اس کی حکمت سمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ کوئی قانون اس وقت تک لاگو نہیں کیا جا سکتا جب تک معاشرے میں اس کے فوائد یا نقصانات کو  مدنظر نہ رکھا جائے۔

ربوا کے حوالے سے تعلیم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ربوا کو مٹاتا ہے اور صدقات کو پسند کرتا ہے ﴿ 275۔ 2 ﴾ اب اس ایک تعلیم سے ہی ربوا کے معاشرے میں نقصانات کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔ ایک شخص جو سود یا یوزری پر روپیہ لوگوں کو اس شرط پر دیتا ہے کہ وہ اسے بڑھا کر واپس کریں گے، وہ دراصل اپنی دولت کے بل بوتے پر قرض داروں کے گرد ایک ایسا جال بن دیتا ہے جسے توڑنا قرض دارکے بس میں نہیں رہتا۔

آخر قرض کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ ایک شخص کے پاس بعض اوقات اتنی رقم نہیں ہوتی کہ وہ اچانک آ پڑنے والے اخراجات ادا کر سکے۔ مثلاً بیماری ہے یا کوئی اور آفت ایسی آ گئی جس کے لیے رقم کی ضرورت ہو تو اسے قرض لینا ہی پڑتا ہے۔ ایک اچھے معاشرے میں طریق تو یہ ہونا چاہیے کہ لوگ اس کی مدد کر کے اس مشکل سے نکال لیں لیکن اگر لوگ اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اس شرط پر قرض دیں کہ وہ دس پندرہ یا بیس فی صد سالانہ منافع ادا کرنے کا پابند ہو گا تو جس بے چارے کو کسی مجبوری کے باعث اپنے پاس سے مہیا نہ ہونے کے باعث کچھ رقم کی ضرورت پڑگئی تو وہ دگنا تین گنا کس طرح واپس کر سکتا ہے۔

چنانچہ وہ ایسے شکنجے میں جکڑا جاتا ہے جس سے نکلنا مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے اور یہ قرض اس کے لیے وبال جان بن جاتا ہے ۔ اس لیے تعلیم یہ دی گئی کہ خدا صدقات کو پسند کرتا ہے اور سود کو ختم کرتا ہے۔ چنانچہ اس طرح لوگوں کی معاشرے میں ایک دوسرے کی مالی مشکلات میں مدد کی ترغیب دی گئی ہے نہ کہ ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ربوا یا یوزری بنک انٹرسٹ ہی کی طرح ہے یا کچھ فرق ہے۔ بنکنگ سسٹم سولہویں صدی میں رائج ہوا۔ اس سے قبل معیشت کی ریڈھ کی ہڈی تجارت تھی۔ تجارت کا طریق یہ تھا کہ چونکہ ان دنوں میں سفر آسان نہیں ہوتے تھے۔ ایک تجربہ کار شخص تجارتی قافلہ تیار کرتا تھا اور اس کے شہر یا قصبے کے لوگ اس میں اپنا اپنا حصہ رسد یا نقدی کی صورت میں شامل کر دیتے تھے۔ کئی ماہ کے بعد جب یہ قافلہ واپس آتا تھا تو ہر حصہ دار کو اس کے حصہ کے مطابق کل حاصل ہونے والے منافع میں سے اپنا اپنا حصہ مل جاتا تھا۔

اس طرح وہ منافع سب میں تقسیم ہو کر معیشت کا پہیہ چلتا رہتا۔ بنکنگ سسٹم میں صورت بدل گئی اور بجائے تجارت میں حصہ ڈالنے کے اکاؤنٹ ہولڈرز نے اپنی رقم ایک جگہ جمع کرنی شروع کر دی اور ایسے لوگ جن میں کاروبار کا تجربہ اور صلاحیت ہوتی ہے ، وہ بینکوں سے سالانہ ایک خاص منافع پر قرض لے کر کاروبار کرتے ہیں اور بینک ان قرضوں سے وصول ہونے والے انٹرسٹ کو اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز میں تقسیم کر دیتا ہے۔ یہ ایک طرح سود کی طرز اس لیے تو بن جاتی ہے کہ اس میں رقم کے اوپر سالانہ منافع مقرر کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا اس کی حیثیت اس قسم کے سود کی ہے جس میں کسی شخص کی مشکل میں اسے قرض دے کر باندھ لیا جاتا تھا۔

آج کل بینکنگ نظام سے صرف اسی صورت میں خلاصی حاصل کی جا سکتی ہے کہ پرانے زمانے کی تجارت کی طرز پر حصہ داری کی جائے اور بینک بجائے انٹرسٹ پر روپیہ دینے کے کاروبار میں حصہ دار بن جائے۔ مثلاً 30 : 70 کی نسبت سے اگر ستر فیصد بینک کا حصہ ہو تو منافع میں بھی ستر فیصد بینک کا ہو گا جو اس کے اکاوئنٹ ہولڈرز میں تقسیم ہو جائے۔ لیکن اس صورت میں بینک کو ایکٹو پارٹنر بننا پڑتا ہے جو بنکوں کے لیے آسان بات نہیں۔

ایک اور بات قابل غور ہے۔ جب سے پیپر کرنسی متعارف ہوئی ہے سالانہ منافع کی جو شرح بظاہر فکسڈ نظر آتی ہے وہ دراصل ہوتی نہیں۔ مثلاً اگر ایک صد روپے پر بیس فیصد کے حساب سے سالانہ بیس روپے ادا کرنے ہوں تو سال کے شروع میں بیس روپے کی جو قوت خرید تھی وہ سال کے آخر میں اکثر کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح انٹرسٹ کی شرح فکسڈ نہیں رہتی اور اگر شرح فکسڈ نہ ہو تو وہ سود نہیں رہتا۔

اب بنکنگ کا ایک نیا طریق متعارف ہوا ہے جسے مشارکہ یا مضاربہ وغیرہ کا نام دیا گیا ہے ۔ لیکن تحقیق طلب بات یہ ہے کہ ایسے بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کے ساتھ تو نفع نقصان کی بنیاد پر معاہدہ کر کے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ چونکہ اس میں سالانہ منافع فکسڈ نہیں ہے ، اس لیے یہ سود نہیں۔ مگر یہ آمدن کس طرح پیدا کرتے ہیں؟ کیا یہ اپنے کلائنٹس کو انٹرسٹ پر قرض دیتے ہیں یا ان کے ساتھ تجارت میں حصہ دار بنتے ہیں؟ کیونکہ اگر تو یہ وہی طریق اختیار کرتے ہیں جو ہر بینک کرتا ہے تو پھر تو ان کا طریق بھی مختلف نہیں صرف نام مختلف ہے۔ جس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

چنانچہ ناظم چوہدری صاحب کے مضمون پر غور کر کے متبادل راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ناظم چوہدری صاحب نہ کسی حلال چیز کو حرام قرار دے سکتے ہیں اور نہ حرام کو حلال۔ انہوں نے تو اہل علم کے سامنے بعض تحقیق طلب سوالات اٹھائے ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *