سیاسی کارکن رہنماؤں کی کہہ مکرنیوں کے تابع نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل ایک سفر سے واپس آ رہا تھا کہ کھانا کھانے کی غرض سے ہائی وے پر بنے ایک ہوٹل پر گاڑی روکی۔ جہاں ایک کونے میں زمین پر چھ سات سال کا بچہ سویا ہوا تھا، اتنے میں ایک لڑکا جس کی عمر دس بارہ سال ہو گی آیا اور اس نے سوئے ہوئے بچے کے بال کھینچ کر اٹھایا اور تھپڑ مار کر لوگوں کی جانب بھیک مانگنے کے لیے دھکیل دیا۔ اس بچے کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں اور وہ بمشکل لڑکھڑا کر چل رہا تھا ، دو مرتبہ اس نے دوبارہ لیٹنے کی کوشش کی اور دونوں بار اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔

اس قسم کے ان گنت مناظر ہمارے بازاروں چوک چوراہوں اور سڑکوں عام ملتے ہیں اور کوئی ایسے بچوں کو مدد کے لائق یا قابل توجہ نہیں سمجھتا۔ ہاں اگر کسی کی ویڈیو وغیرہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے تو اور بات ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کچھ عرصہ قبل شدید سردی سے کانپتے کوئٹہ کے ایک بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ وہ بچہ سڑک پر جوتے پالش کرنے کا سامان رکھے اپنے اور اپنے کنبے کی روزی روٹی کا بندوبست کرنے کے لیے بیٹھا تھا لیکن سردی کی شدت اتنی تھی کہ وہ بے چارہ کام کرنے کے بجائے کونے میں دبکا کانپ رہا تھا۔

یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو لوگوں نے وقتی طور پر اس پر افسوس کا اظہار کیا جس کے بعد بلوچستان حکومت کو بھی اس بچے کا احساس ہو گیا اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے حکم دیا کہ بچے کو ڈھونڈ کر اس کی ضروریات پوری کی جائیں۔ بعد ازاں اس بچے کو کتابیں راشن اور کچھ نقدی دے دی گئی۔ سوال لیکن یہ ہے کتنے خوش نصیب ایسے ہیں جن کی ویڈیو وائرل ہوتی ہے اور ان کی ضروریات کا بندوبست ہو جاتا ہے؟

ایک رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں اڑھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے۔ اسی طرح ایک کروڑ پچیس لاکھ بچے چائلڈ لیبر کی دلدل میں دھنسے ہیں۔ یہ بچے اینٹوں کے بھٹوں ، ورکشاپس اور ہوٹلز پر کام کرنے یا گداگری پر مجبور ہیں۔ ان میں سے بیشتر بچوں کی عمریں دس سال سے کم ہیں اور یہ کل ملکی آبادی کا پانچ فیصد بنتا ہے یعنی ہر سو پاکستانی بچوں میں سے کم از کم دس اسی قسم کی اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یونیسیف کی اس رپورٹ پر مزید نظر ڈالی جائے تو پانچ سے نو سال کی عمر کے جو بچے اسکول نہیں جا رہے ان کی تعداد پچاس لاکھ ہے، جبکہ دس سے چودہ سال کے ایک کروڑ چار لاکھ بچوں نے کبھی کسی اسکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔

غربت و پسماندگی کے باعث تعلیم سے دور رہنے والے 52 فیصد بچوں میں 58 فیصد بچیاں شامل ہیں۔ انتہائی دکھ ، افسوس اور شرم کی بات ہے کہ دنیا میں نائیجیریا کے بعد ”ایٹمی صلاحیت کا حامل پاکستان“ وہ بد قسمت ملک ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کرنے کی عمر والے بچے اس حق سے محروم ہیں۔ حالانکہ ملکی آئین کے آرٹیکل 25 کی شق الف ریاست کو اس بات کی پابند کرتی ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔

ہمارے ہاں مگر بنیادی حقوق کی نہ ریاست ذمہ دار ہے نہ سیاسی جماعتوں کو اس کی فکر اور نہ ہی لکھاری ان موضوعات پر اپنا وقت برباد کرنے کو تیار ہیں۔ لکھنے والے ایسے حقیقی مسائل پر کیوں نہیں لکھتے ، کئی بار عرض کر چکا مگر ہنر کی کمی کی وجہ سے اپنی بات درست بیان نہیں کر سکا۔ استاد وجاہت مسعود صاحب نے خوبصورتی سے یہ وجہ بیان کر دی ۔ میری حسرت ہے کہ تمام عمر میں ان جیسی ایک تحریر ہی قلم سے برآمد ہو جائے ، وہ لکھتے ہیں:

”ریاست اور حکومت میں گٹھ جوڑ ہو جائے تو نہتے شہریوں کے لئے عدالت آخری امید ہوتی ہے۔ عدالت کا اعتبار اٹھ جائے تو ریاست کی بنیاد میں تزلزل آ جاتا ہے۔ ایسے مرحلے پر آنکھ سیاسی کارکن، ادیب اور صحافی کی طرف اٹھتی ہے۔ ہمارا ادیب کسی کانفرنس میں ادب کی نو آبادیاتی تفسیر بیان کرنے گیا ہے۔ لمحہ موجود کے نو آبادیاتی سوال سے اسے غرض نہیں۔ صحافت پر ایسا پیغمبری وقت آیا ہے کہ صحافی کو اپنی ہی خبر کے سچ جھوٹ سے غرض نہیں رہی۔ اور سیاست دان؟ محترم آصف علی زرداری پی ڈی ایم سے تحریک عدم اعتماد کے لئے جوڑ توڑ اور گٹھ جوڑ کا مینڈیٹ مانگتے ہیں۔ اگست 2008ء کے تجربے کی سند دکھاتے ہیں۔ مارچ 2018ء اور اگست 2019ء کی ناکامیاں نہیں بتاتے۔ 20 ستمبر کی اے پی سی کے اعلامیے کی روشنائی ابھی خشک نہیں ہوئی۔ اگر چارٹر آف ڈیموکریسی کے اصول سے فریب ہی کرنا تھا تو ایک اور نسل کو مایوسی کیوں بخشی؟ زرداری صاحب پارینہ سیاست کے کہنہ مشق کھلاڑی ہیں، سیاسی کارکن نہیں ہیں۔ سیاسی کارکن ایک نصب العین کے ساتھ جیتا ہے، رہنماؤں کی کہہ مکرنیوں کے تابع نہیں ہوتا“ ۔

استاد کے سوال میں مزید اضافے کا حوصلہ یا ان کے زاویۂ نظر سے روگردانی کا حوصلہ راقم میں نہیں۔ کچھ عرصہ قبل یہی سوال پی ڈی ایم میں شامل نون لیگ کے ایک سینئر رہنما سے میں نے پوچھا۔ ان کا جواب تھا کہ ہم عوامی مفاد کی خاطر سختیاں برداشت کرتے ہیں ، عوام ہمارے لیے ترکی کی طرح کب سڑکوں پر نکلے؟ عرض کیا کون سا عوامی مفاد؟ تسلیم کر لیتے ہیں کہ ملکی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی بجٹ کی نذر ہو جاتا ہے ، اس لیے صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولیات پر خرچ کرنے کے لیے رقم باقی نہیں رہتی۔

یہ بھی درست ہے کہ مملکت خداداد نصف سے زائد عرصہ طالع آزماؤں کے پنجے میں رہی، سوال مگر یہ ہے کہ بقیہ مدت میں بلدیاتی اداروں کی مضبوطی سے جمہوریت کے نام لیواؤں کا ہاتھ کس نے روکا؟ بلدیاتی ادارے فعال ہوں تو صرف عوامی مسائل ہی دہلیز پر حل نہیں ہوں گے بلکہ جمہوریت کی حقیقی روح سے عوام روشناس ہوں گے۔ جمہوریت کے ثمرات عوام کو اپنی زندگیوں میں آسانی کی صورت محسوس ہوں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ غیر آئینی اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوں۔ اس میں تو کوئی مالی تنگ دستی یا غیبی ہاتھ آڑے نہیں۔ کیا یہ درست نہیں کہ اس کی وجہ یہ خوف تھا کہ بنیادی جمہوریت اگر مضبوط و فعال ہو گئی تو موروثی سیاست کو اس کی پہلی ضرب لگے گی۔

ہم ایسوں نے طنز و تشنیع اور دھونس دھمکیاں کیا چند خاندانوں کو کیسز میں ریلیف دلانے کے لیے برداشت کی تھیں۔ ہمارا نصب العین جمہوریت، آئین و قانون کی بالادستی اور ایسی ریاست کا قیام تھا جس میں تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت حاصل ہو۔ کہنے دیجیے آج اگر سیاست دان نیب کیسز بھگت رہے ہیں تو وہ بھی ان کی ماضی کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد بھی سیاست دان نے کیا سبق حاصل کیا؟ ایوان بالا میں دو سال حزب اختلاف اکثریت میں رہی کیا تیر مار لیا؟

حالیہ انتخاب میں چند نشستیں ادھر یا ادھر ہو جائیں تو بھی کیا قیامت آ جائے گی، جس کی خاطر انہی غیبی ہاتھوں سے جن کے خلاف جمہوریت پسندوں کی چار سال سے جدوجہد استوار تھی ، ضمانت مانگی جا رہی ہے اور وہی جوڑ توڑ کے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں جس کی دوسروں سے شکایت تھی۔

یاد رکھیں! جمہوریت جمہور کے مفادات کی حفاظت کا نام ہے جب تک وہ اپنے اصل مقصد سے بھٹکتی رہی گی ، اسی طرح ذلیل ہوتی رہے گی۔ جمہوریت کے نام لیوا اگر واقعی سیاست میں غیبی مداخلت روکنے میں سنجیدہ ہیں تو عوام کے مفاد کو ترجیح بنانا پڑے گا ورنہ یاد رکھیں ”سیاسی کارکن اپنے نصب العین کے ساتھ جیتا ہے رہنماؤں کی کہہ مکرنیوں کا تابع نہیں ہوتا“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply