تیزی سے بڑھتی مہنگائی، ایک سنگین انسانی مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی تک کورونا ویکسین کا مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوا۔ متعدد ناموں والی ویکسینز کی منظوری کی خبریں تو آئے دن آتی رہتی ہیں، لیکن کون سی کھیپ کب کہاں سے میسر آ رہی ہے اور وہ خواص کے حلقوں سے نکل کر کب عوام تک پہنچتی ہے، یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکی ہوں، ہمارے ہاں حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کبھی بھی زیادہ مضبوط نہیں رہا۔ اس بے اعتمادی یا کم اعتمادی کے ساتھ ساتھ ناخواندگی، جہالت اور ذہنی پسماندگی کی بیماریاں بھی جڑی ہوئی ہیں۔

ان بیماریوں کو ہوا دینے والوں کی بھی کمی نہیں۔ بڑے بڑے مقدس اور معتبر نعروں کے ساتھ لوگوں کو باور کرا دیا جاتا ہے کہ غیروں کے دیس سے آنے والے یہ ٹیکے ہمارے لئے کتنے مضر ہیں۔ بعض اوقات تو اسے ایمان اور کفر کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پسماندہ ترین ممالک سمیت ساری دنیا پولیو سے نجات پا چکی ہے جب کہ پاکستان اور افغانستان ابھی تک پولیو کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔ اللہ خیر کرے۔ اگر کورونا ویکسینز کے ساتھ بھی ہمارا اجتماعی قومی رویہ ایسا ہی رہا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

یہ مسئلہ تو وبا اور اس کے علاج یا اس سے بچاؤ کا ہے۔ بے شمار اور مسائل ہیں جو پہلی بار پوری شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ مہینوں تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ اساتذہ اپنے گھروں میں بیٹھے، اپنے اپنے گھروں میں مقیم طلبا کو تعلیم دیں گے۔ آن لائن ایجوکیشن کی ایک نئی روایت قائم ہو گی۔ نرسری کے بچوں سے لے کر یونیورسٹی کے طلبا تک ایک بالکل اچھوتے تجربے سے گزریں گے۔ ہم مہینوں اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ جائیں گے۔

پاس پڑوس سے رشتہ منقطع ہو جائے گا۔ سماجی تقریبات ختم ہو جائیں گی۔ شادی ہالوں کی رونقیں ویرانیوں میں بدل جائیں گی۔ عزیز رشتہ دار میل جول سے گریز کرنے لگیں گے۔ ہاتھ ملانا معیوب ٹھہرے گا۔ سماجی فاصلہ زندگی کے جمے جمائے نظام کو درہم برہم کر دے گا۔ کورونا کے مریض کو کسی کمرے میں یکہ و تنہا چھوڑ دینا مجبوری ہو جائے گا۔ جنازے میں شرکت سے پہلو بچایا جانے لگے گا۔ عیادت کی روایت مر جائے گی۔ سیر و سیاحت کا سلسلہ کم ہو جائے گا۔

بیرون ملک سفر پر قدغنیں لگ جائیں گی۔ بڑی بڑی فضائی کمپنیوں کے بیڑے لمبے عرصے کے لئے ہوائی اڈوں پر پارک ہو جائیں گے۔ بے روزگاری کی ایک نئی لہر اٹھے گی۔ معیشت کی گرما گرمی ماند پڑ جائے گی۔ بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ ہونے کو آئیں گی۔ انسانوں کے رویے بدل جائیں گے، معاشروں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہو جائے گا اور گھروں کا سکون بھی پامال ہونے لگے گا۔

کورونا کے منفی اثرات کا سلسلہ ناقابل تصور حد تک پھیلا ہوا ہے۔ لیکن ایک معاملہ ایسا ہے جو شاید سب سے زیادہ شدید ہے لیکن اس پر نہ معاشرے کے سنجیدہ طبقات کی توجہ ہے، نہ میڈیا کے لئے وہ کوئی ایسا قابل توجہ مسئلہ ہے اور نہ حکومت ہی اس کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ یہ مسئلہ ہے غربت کا۔ دو سال پہلے تک ہمارے ہاں غربت کی لکیر سے نیچے افراد کی تعداد سات کروڑ کے لگ بھگ تھی جو گزشتہ دو برس میں بڑھ کر 9 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ چالیس فیصد پاکستانی اس وقت غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ صحیح اعداد و شمار تو مشکل ہیں لیکن ایک بڑی تعداد ایسے افراد یا خاندانوں کی ہے جوغریب ہی نہیں، ناداری کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ کورونا کی سب سے شدید ضرب کم آمدنی والے لوگوں، محنت کشوں، مزدوروں اور دیہاڑی دار لوگوں پر لگی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیریں متوسط گھرانے کے افراد بھی متاثر ہوئے ہیں جو بڑی مشکل سے گھر کے خرچے چلاتے تھے۔

ایک تو یہ کہ ان افراد کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور دوسرا یہ کہ مہنگائی کی شدید لہر نے ان کی زندگی حرام کر دی ہے۔ صرف بجلی اور گیس کے بلوں میں ہونے والا اضافہ اتنا ہوشربا ہے کہ اب اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے بھی اس کی تاب نہیں لا رہے۔ ان لوگوں کی اپنی ترجیحات بدلنا پڑ رہی ہیں۔ کیا وہ اہل خانہ کی ادویات کم کر دیں؟ کیا وہ بچوں کو معیاری اسکولوں سے اٹھا کر سرکاری سکولوں میں ڈال دیں؟ کیا وہ تین کمروں والا مکان چھوڑ کر دو کمروں والے مکان میں چلے جائیں؟

غربت نے گھروں کے ماحول میں بھی زبردست تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ افراد کے خون کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ خانگی کشمکش اور کشیدگی کے واقعات میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے۔ طلاق کی شرح بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ ایک برس میں خلع لینے والی خواتین کی تعداد گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے بعد بچوں کی تحویل کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ سلسلہ دن بدن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں سرکاری سطح پر سماجی تحفظ کی کوئی سکیم نہیں۔ انکم سپورٹ یا کفالت کی سکیمیں کوئی واضح اور قابل ذکر اثرات نہیں رکھتیں۔ سو جو غریب ہیں انہیں غربت سے خود ہی لڑنا ہے یا مر جانا ہے۔ ان حالات میں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ معاشرہ از خود اس سنگین مسئلے کی شدت کو سمجھے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے لوگ صدقات، خیرات، عطیات میں سر فہرست ہیں۔ لیکن یہ سرگرمیاں منتشر ہیں۔ جہاں کہیں بھی انہیں کسی خاص نظم و ضبط میں سمویا گیا ہے وہاں حیران کن اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ اس کی ایک روشن مثال ”اخوت“ کا ذکر میں پہلے بھی کر چکی ہوں۔

کیا یہ ممکن نہیں کہ ”اخوت“ ہی کی طرز پر چھوٹی چھوٹی تنظیمیں گلی محلے کی سطح پر قائم ہو جائیں۔ نوجوان ان تنظیموں کے رضا کار بنیں۔ فہرستیں تیار کی جائیں کہ گلی یا محلے میں کون سے لوگ غربت و ناداری کے کس درجے میں آتے ہیں؟ ان کی سب سے اہم اور بنیادی ضروریات کیا ہیں؟ ایسا تو نہیں کہ فاقوں کی نوبت آ گئی ہے؟ اسی طرح گلی محلے ہی کی سطح پر ایسے افراد کی فہرستیں تیار کی جائیں جو آسودہ حال ہیں۔ جو کسی بھی سطح پر دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ پھر ایسا نظم بنا لیا جائے کہ چھوٹی سطح پر ہی امداد باہمی کے تحت ایک دوسرے کے مسائل حل کیے جائیں۔

یہ کام بلدیاتی اداروں سے بھی لیا جا سکتا تھا جو حکومت نے ختم کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ کی تلقین کے باوجود نئے بلدیاتی انتخابات ابھی تک غیر یقینی ہیں۔ ان حالات میں معاشرے کو خود ہی اپنے زخموں پر مرہم رکھنے کا انتظام کرنا پڑے گا۔

کورونا کے وار ابھی تک جاری ہیں اور اس کے منفی اثرات کا سلسلہ بھی جلدی ختم ہونے والا نہیں۔ کاش! ہمارا میڈیا اور سنجیدہ طبقات سیاسی کھیل تماشوں سے ہٹ کر اس انسانی مسئلے کی سنگینی کا احساس کریں۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply