عالمی تعلقات میں حقیقت پسندی کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاست میں ”حقیقت پسندی“ کیا ہے؟ سیاسی و سفارتی میدان میں حقیقت پسندی کے تقاضے کیا ہیں؟ کیا ہماری خارجہ پالیسی متروک اخلاقی ضابطوں، فرسودہ فلسفوں اور آئیڈیلزم کا شکار ہے۔ ان تلخ سوالات کا جواب حکمران اشرافیہ اور ان کے سفارتی ماہرین دینے کے لیے تیار نہیں، لیکن خارجہ پالیسی کی مخدوش حالت زار میں ان سوالات کے جوابات پوشیدہ ہیں۔ ان سوالات کا مزید تفصیلی جواب ڈھونڈنے والوں کو یہ جواب ایک پرانی کتاب میں مل سکتا ہے۔

”قوموں کے درمیان سیاست“ نظریہ حقیقت پر مبنی ایک کتاب ہے۔ حقیقت پسندوں کا ماننا ہے کہ انسان خود غرض اور انا پرست ہے، اور اس کا حتمی مقصد اس کے اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ اس کتاب کا مصنف ہنس جے مورجینٹھا ایک امریکی شہری تھا۔ اس نے پچھلی صدی کے سیاسی و سفارتی حالات میں یہ کتاب لکھی، مگر یہ کتاب آج بھی دلچسپی سے پڑھی جاتی ہے۔ امریکہ کے سفارتی حلقوں میں مصنف کو سیاسی حقیقت پسندی کا جد امجد سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں بین الاقوامی سیاست کا نیا نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ اس نظریہ نے سفارتکاری کے میدان میں امریکی سوچ میں عالمی جنگ کے بعد ایک نئے ماڈل کو متعارف کروایا۔

جو ماہرین امریکی سرد جنگ کے دور میں عالمی امور پر مامور تھے۔ جو پالیسیاں بناتے تھے، انہوں نے اس کتاب سے بڑے پیمانے پر استفادہ کیا۔ اور اس سے واضح رہنمائی لی۔ اس کتاب کی اشاعت سے پہلے دنیا کی تمام ریاستوں میں سفارتی محاذ پر آئیڈیلزم کا نظریہ غالب تھا۔ لیکن اس کتاب کی اشاعت کے بعد حقیقت پسندی کے تصور کو جلا ملی۔ اور سفارت کاری کی دنیا میں سیاسی حقیقت پسندی کی نئی جہتوں کو اجاگر کیا گیا۔ اس تلخ حقیقت کو واضح کیا گیا کہ اس دنیا میں تعلقات اخلاقی اصولوں اور اخلاقی اقدار پر قائم نہیں ہوتے، بلکہ طاقت اور مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔

حقیقت پسندی کا یہ نیا نظریہ کسی بھی قوم یا زمانے کے اخلاقی اصولوں کو کائنات پر حکمرانی کرنے والے مجموعی اخلاقی قوانین کے طور پر تسلیم کرنے یا ان پر عمل کرنے سے انکار کرتا ہے۔ ان اخلاقی قوانین میں زیادہ تر مذہبی قوانین و روایات شامل ہیں، جن کو روایتی طور پر بیض ممالک میں سیاسی تعلقات کا تعین کرنے میں ایک اہم عنصر کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔

اس کتاب کے دو مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد ان قوتوں کا پتہ لگانا اور ان کو سمجھنا ہے، جو اقوام کے مابین سیاسی تعلقات کا تعین کرتی ہیں۔ اور دوسرا ان حالات کو سمجھنا ہے، جس میں وہ قوتیں بین الاقوامی سیاسی تعلقات کی تشکیل اور بگاڑ میں کردار ادا کرتی ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ داخلی سطح پر سیاست طاقت کی جنگ ہے۔ بالکل اسی طرح بین الاقوامی سیاست بھی طاقت کی ہی جنگ ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے حتمی مقاصد جو بھی بیان کیے جاتے ہوں، حقیقت میں طاقت و اختیار ہی ہمیشہ اس سیاست کا فوری مقصد اور محور ہوتا ہے۔

عالمی سیاست میں اثر و رسوخ کے استعمال اور اس کی نوعیت کا دار و مدار دو ملکوں کے درمیان رشتے پر ہے۔ اثر استعمال کرنے والوں اور جن پر یہ اثر و طاقت استعمال کی جاتی، ہے ان کے مابین ایک نفسیاتی رشتہ ہوتا ہے۔ یہ طاقت استعمال کرنے والوں کو استعمال ہونے والوں پر کنٹرول دیتا ہے۔ وہ طاقت کے زیر اثر آنے والوں کے ذہنوں پر اثر ڈالتا ہے۔ یہ اثر قبول کرنے کی تین وجوہات ہوتی ہیں۔ پہلی وجہ غالب قوت سے فائدے کی توقع، دوسری وجہ اس کے ہاتھوں نقصان کا خوف، اور تیسری وجہ غالب قوم کے لیڈروں اور اداروں کا احترام یا محبت شامل ہے۔

ہنس جے کی رائے ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت و اختیار کے لیے عموماً تین پالیسیاں اختیار کی جاتی ہیں۔ ان میں سٹیٹس کو کی پالیسی، سامراجی پالیسی اور وقار کی پالیسی شامل ہے۔ سٹیٹس کو یا جمود ایک سفارتی اصطلاح ہے۔ یہ اصطلاح امن معاہدوں میں ان شقوں کا حوالہ دیتی ہے، جو دشمن فوجوں کا علاقے سے انخلا اور جنگ سے پہلے کی صورت حال کی بحالی کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ حقیقت پسندوں کے لئے طاقت بین الاقوامی تعلقات کی کرنسی ہے، اور اسے سامراجی طاقت کے ذریعہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سامراجیت کے لفظ کو ہر قسم کی نوآبادیاتی توسیع کے مترادف استعمال کیا جاتا ہے۔ سامراج کا مطلب نوآبادیاتی آقاؤں کے نزدیک یہ ہے کہ وہ دیگر ممالک اور قوموں کے ساتھ جو بھی سلوک اور برتاؤ کرتے ہیں، وہ صحیح ہے۔ اور دوسری ریاستوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اس سلوک کو قبول کریں، یہ غور کیے بغیر کہ یہ ان کے لئے موزوں ہے یا نہیں۔ جدید سیاسی ادب میں وقار کی پالیسی بین الاقوامی منظر نامے میں اقتدار کی جدوجہد کا بنیادی مظہر ہے۔

ہنس جے نے قومی طاقت کے تصور کو سمجھنے پر زور دیا ہے۔ اس نے قومی طاقت کے جوہر اور اس کے عناصر واضح کیے ہیں۔ ان عناصر میں جغرافیہ، آبادی، قدرتی وسائل، صنعتی صلاحیت، فوجی تیاری، قیادت اور مسلح قوتوں کی تعداد وغیرہ شامل ہے۔ ہر ملک کے پاس کوئی نہ کوئی غیر معمولی عنصر ہوتا ہے، جس سے وہ استفادہ کر سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جاپان ایک چھوٹا سا ملک ہے، جس میں قدرتی وسائل کی کمی ہے، لیکن پھر بھی یہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے کیونکہ اس کی آبادی اچھی طرح سے تربیت یافتہ اور ہنر مند ہے۔

چین دنیا کا سب سے بڑا آبادی والا ملک ہے۔ اس نے اپنی آبادی کو دانشمندی سے استعمال کیا ہے۔ امریکہ اپنی فوج طاقت، تربیت، ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی وجہ سے بین الاقوامی امور میں ایک اسٹیک ہولڈر ہے۔ کچھ ممالک ان تمام عنصر کی کمی کی وجہ سے اپنا الگ کردار اپناتے ہیں۔ جس میں وہ طاقت کے بغیر عالمی سفارت کاری میں نام بناتے ہیں۔

مثال کے طور پر ر دنیا میں کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو کینیڈا اور ناروے جیسے ممالک رضاکارانہ طور پر آگے آتے ہیں اور ثالث کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ ان کی اس قومی شبیہ اور اس طرز عمل کو ان کی قومی طاقت سمجھا جاتا ہے۔

اپنی کتاب کے اگلے حصے میں مصنف نے قومی طاقت کی حدود و قیود کے بارے میں بات کی۔

مصنف کے خیال میں طاقت کے توازن کے لیے کئی عناصر ہیں، ان میں عالمی رائے عامہ ایک بڑا عنصر ہے۔ بین الاقوامی اخلاقیات اور عالمی رائے عامہ بھی قومی طاقت کے غلط اظہار کی راہ میں رکاوٹ کا بھی کام کرتی ہے۔

رائے عامہ کی طرح مصنف بین الاقوامی قانون کو بھی قومی طاقت کے غلط استعمال میں رکاوٹ اور حد سمجھتا ہے۔ قومی طاقت کے استعمال سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا پڑتا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی روح کے خلاف نہیں ہے۔

اپنی کتاب کے آخری حصے میں مصنف نے زیادہ تر امن پر بحث کی ہے۔ گزشتہ صدی کے دوران ایک ہی نسل کے اندر دو عالمی جنگیں ہوئیں۔ جوہری جنگی صلاحیتوں اور خطرات نے بین الاقوامی نظم و ضبط کا قیام اور بین الاقوامی امن کا تحفظ، مغربی تہذیب کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا دیا ہے۔ اس صدی میں بھی انسان کو اس مسئلے سے واسطہ ہے۔ ہتھیاروں کی جنگ جاری ہے۔ تخفیف اسلحہ کے میدان میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ انسان آج بھی عملی طور جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔

دنیا میں امن کے سوال پر ابھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ سوالیہ نشان پاکستان بھارت کے تعلقات پر مستقل طور پر موجود ہے۔ اس سوالیہ نشان کی وجہ سے مسئلہ کشمیر جیسے گمبھیر مسائل دن بدن پیچیدہ تر ہوتے جا رہے ہیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ دونوں ممالک روایتی سوچ سے نکل کر ”حقیقت پسندی“ جیسے نظریات کی روشنی میں اپنے تعلقات کو از سرنو دیکھنے کی کوشش کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply