فضا قریشی کی شاعری، موضوعات کے دھنک رنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ایک اور بری عورت“ کی نظمیں، خیال، سوچ اور تجرید، سب سماج کو بار بار یہ احساس دلا رہے ہیں کہ عورت اب ان دقیانوسی، رجعت پسند اور عورت دشمن عقائد اور نظریات کو من و عن قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

عورت جب گھر میں رہ کر اپنے مجازی خدا کی خدمت میں مصروف ہے تب بھی سماج اس سے خوش نہیں ہے، جب وہ گھر کی دہلیز گزر کر اپنے گھر کی معاشی خوشحالی کے لئے باعزت روزگار کو جاتی ہے تب وہ مزید بری ہو جاتی ہے، لیکن جب وہ یہ تمام ذمہ داریاں پوری کر کے کسی سماجی عمل، سیاسی کام یا تخلیقی کام کو اپنے روزمرہ زندگی میں شامل کرتی ہے تو وہ واقعی بری کیوں نہ ہو؟ وہ سماج کے رجعت پسند، عورت دشمن رویوں کو بدلنے کے لئے جب اپنے قلم، عمل، علم، سوچ کے جھنڈے گاڑتی ہے تو کند ذہنوں، سماجی ناہمواری اور مد بھید کے برج ہلنے لگتے ہیں۔ ”ایک اور بری عورت“ بھی ایک پتھر کی مانند ہے جو ایسے دقیانوسی، چالو، عورت دشمن خیالوں کو اپنی جانب آتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

فضا قریشی کے ساتھ میری شناسائی دہائیوں پہ مشتمل ہے، جب پہلی بار سندھ یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی کے میدان میں ”لطیف کی سورمیاں“ کے عنوان سے ایک تقریری مقابلہ ہوا تھا جس میں انہوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ تب سے وہ عورت ایکٹیوسٹ، سیاسی کارکن اور فیمینسٹ خیالوں سے روشناس ہوئیں اور انہیں خیالوں کی پذیرائی کے لئے وہ سرگرم رہیں۔ ”ایک اور بری عورت“ کی کتھا کے سارے عنوان وہ ہیں جو اس جدوجہد میں اس نے سیکھے ہیں۔

میں ”فضا ہوں، میں مارئی ہوں“ نظم میں وہ کہتی ہیں:
جس کوکھ سے جنما ہوں میں ”
اس کوکھ کو رنڈی کہتا ہوں
فضا ہو یا ماروی سرمد
اونچا بول جو بولے ہے
میرے پاؤں کی جوتی ہے
حق کی بات جو کرتی ہے
شلوار میری اترتی ہے۔ ”

یہ وہ اظہار ہے یا احتجاج کا علم ہے جو اس نے کسی مولوی کی طرف سے سماجی کارکن محترمہ ماروی سرمد کے ساتھ ہوئی بدتمیزی پہ کیا اور ان سخت الفاظ کے احتجاج نے سماج کو ایک آئینہ دکھا دیا۔ ایک اور نظم میں بھی وہی سختی اور احتجاج کا رنگ دکھتا ہے:

عورت آزاد تب ہو گی
جب اس کے ہاتھ میں بھی
اس وقت کھجلی ہو گی
جب اسے دیکھتے ہی
مخصوص قسم کے مردوں کے
عضو خاص میں
کھجلی ہوتی ہے۔

”ایک اور بری عورت“ کے سارے نظم ”اعتماد، بھائی، چوکیدار، رپورٹ، سب آرڈینیٹ، فٹبال، کماؤ عورت، کالی بلی“ وغیرہ وہ نظیں ہیں جن کے سارے عنوان، سارے الفاظ، سارے درد، ساری کتھا، عورت کی آزادی، عورت کی جدوجہد، عورت سے شروع ہو کر عورت پر ختم ہوتی ہے۔ فضا کے قلم کی نوک، دل کی آواز، ذہن کی سوچ، قلم کی سیاہی کاغذ پر اترتے، سماج کے عزت اور غیرت کے خود ساختہ حصاروں میں نہیں جکڑتی اور وہ الفاظ تیز دھار کی مانند، عورت دشمن سوچ کو کاٹتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔

اوپر دیے گئے حوالوں سے صاف پتا چلتا ہے کہ اسے لکھنے کے بعد ایڈٹ نہیں کیا گیا کیوں کہ وہ الفاظ نہیں سوچ کا سفر ہے اور سوچ کے پر کاٹ کر اسے ایڈٹ نہیں کیا جاتا۔ فضا کی سوچ مجھے بے باک اور نڈر محسوس ہوتی ہے جو کسی سے نہیں ڈرتی بلکہ تلوار کی دہار کی مانند جو نظر آتا ہے اس کو کاٹتی ہوئی گزر جاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم جیسے مردوں کو اب سنبھل کے ان کی سامنے بات کرنی چاہیے ورنہ ہم بھی کسی نظم کا عنوان بن کر اگلی کتاب میں ہی نہ پبلش ہو جائیں۔

گو کہ فضا کی اپنی مادری زبان سندھی ہے لیکن اس کے پاس اردو سمیت باقی زبانوں میں بھی وہی الفاظ اور انداز بیان موجود ہے جس سے لگتا ہے کہ اردو میں بھی انہوں نے بہت اچھی طبع آزمائی کی ہے۔ کہیں نہیں لگتا کہ اردو، مادری زبان نہ ہونے کی وجہ سے الفاظ کے چناؤ میں انہیں کوئی رکاوٹ پیش آئی ہو۔ ان کی سندھی شاعری بھی انہی خیالوں کے گرد گھومتی ہے لیکن اردو شاعری موضوع کے حوالے سے صرف عورت اور ان کے مسائل کے گرد گھومتی ہے یا احتجاج کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے، لیکن ان کی سندھی شاعری میں اور بھی رنگ ہیں، جیسے محبت، پیار، رومانس اور دہرتی کے رنگ۔

مجھے لگتا ہے کہ اردو شاعری میں طبع آزمائی کرتے ہوئے، فضا کی شاعری کے موضوعات کے رنگوں میں قوس قزح کے اور رنگ بھی ڈھل جائیں گے اور ان کی شاعری کا کینوس نکھرتا جائے گا اور ہر سو وہ رنگوں کی بہار نظر آئے گی۔ جس میں ہر رنگ، چاہے وہ نکھرتے پھولوں کا رنگ ہو، پیار کی دھنک کا رنگ ہو، احتجاج کا رنگ ہو، عورت کے مسائل ہوں، سماج میں ظلم کی سرکوبی ہو، بارش کی بوندوں کا تصور ہو، کھلے آسمان میں اڑتے پرندوں کی چہچہاٹیں ہوں، لہلاتے کھیت ہوں، ندیوں کے پانی کی روانی ہو، جھیلوں میں رواں کشتیوں کے گیت ہوں، جوانی کی ان کہی داستانیں ہوں، کھلے آسمانوں میں تیرتی ہوئی چاند کی سفیدی ہو ، چمکتے ستاروں کا جھرمٹ ہو، آمد بہار کی نوید ہو، خزاں کے سرد پتوں کی زردی ہو، گاؤں کی خاموشی اور پرسکون زندگی ہو یا شہر کا شور، کسان کی بھوک اور افلاس کا درد ہو یا مزدور کی پیشانی کے داغ ہوں۔ یہ سارے رنگ اور درد اپنے آپ، شاعری کی ٹوکری میں سجدہ ریز ہوتے جائیں گے۔

”ایک اور بری عورت“ شائع ہونے پر میں فضا کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں جو کہ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ہے۔ میں قوی امید کرتا ہوں کے یہ کتاب قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرے گی اور پڑھنے والوں کی سوچوں میں نئے خیالوں کی شمع کو منور کرے گی۔

مجھے دکھ دو
جی بھر دو
یہ دکھ
سکھ سے عظیم تر ہے
یہ دکھ
میری طاقت و زر ہے
یہ دکھ
جلا ہے بخشے مجھے
یہ دکھ
ضیاء ہے بخشے مجھے
یہ دکھ ہے
جو قلم اٹھاتا ہے
یہ دکھ ہی
تو علم اٹھاتا ہے
آؤ زور بازو آزماؤ
تم بھی
دکھ دے کر اور ستاؤ
تم بھی
آؤ در بام نظریں ملاؤ
تم بھی
آؤ سر عام قسمیں کھاؤ
تم بھی
تم جو میرا سکھ بھی ہو
تم جو میرا دکھ بھی ہو
تم جو خدا ٹھہرے
سر بازار آؤ
ڈگمگاو تم بھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply