زچگی کی پیچیدگیاں اور عورت کی زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“کیا ماں بننا ہر عورت کے لئے اتنا ہی عذاب ناک ہوا کرتا ہے؟”

اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی رخساروں کو بھگوتے ہوئے نیچے کو پھسل رہی تھی،

“میری زچگی گھر میں لیڈی ہیلتھ وزیٹر کی مدد سے ہوئی۔ اس وقت اس نے کچھ نہیں بتایا۔ کچھ دنوں بعد مجھے محسوس ہوا کہ میرا اپنے جسم پہ اختیار ختم ہو چکا ہے۔ موقع محل کی نزاکت کا خیال رکھے بنا ریح خارج ہو جاتی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پاخانے کا خروج ٹوائلٹ پہنچنے سے پہلے ہی ہو جاتا۔ اکثر سو کے اٹھتی تو کپڑے غلاظت میں لتھڑے ہوتے۔ایک ڈاکٹر کے پاس گئی، جس نے آپریشن کے ذریعے کچھ ٹانکے لگائے لیکن کچھ افاقہ نہیں ہوا۔ ڈاکٹر پلیز، میری مدد کیجیے، میں یہ زندگی کس طرح سے گزاروں”

وہ چوبیس پچیس برس کی خوش شکل لڑکی پھپھک پھپھک کے رو رہی تھی۔

اور ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیسے اسے چپ کروائیں اور کیسے بتائیں کہ اس غم میں تم اکیلی نہیں ہو۔ جسے تم یہ سب کچھ سنا رہی ہو، وہ ڈاکٹر ہونے کے باوجود ان مراحل سے گزر چکی ہے۔

معائنہ کاؤچ پہ ہمارا دل دھک سے رہ گیا۔ اندام نہانی اور مقعد کی درمیانی جگہ غائب ہو کے اسے ایک ہی رستے میں بدل چکی تھی۔ زچگی کے دوران یہ حصہ کٹ پھٹ کے نارمل انسانی ہیت کو خوفناک حد تک کریہہ صورت کر چکا تھا!

یہ تھی زچگی کی سب سے بڑی پیچیدگی جو ریح و براز پہ سے انسانی کنٹرول ختم کر دے، اور دلخراش بات یہ کہ اس کے متعلق تفصیلی معلومات نہ تو زچہ کو ہوں اور نہ زچگی میں مدد دینے والوں کو۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض دفعہ تو سپیشلسٹ ڈاکٹر بھی اسے رفو کرنے کی مہارت سے عاری ہوتے ہیں اور نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ زچہ کی اپنے آپ سے گھن اور بے بسی!

اندام نہانی یا Vagina کے باہر والے سوراخ کو انٹراؤٹس (Introitus) کہا جاتا ہے. اسکے اور مقعد ( Anus) کے درمیانی حصے کو پیرینیم perineum کے نام سے پکارا جاتا ہے.

طبعی زچگی میں بچے کا سر انٹراؤٹس کے مقابلے میں بڑا ہوتا ہے تو عام طور پہ انٹراؤٹس میں دو سے تین انچ لمبا کٹ لگایا جاتا ہے تاکہ بچے کا سر آرام سے نکل آئۓ۔ یہ کٹ ( episiotomy) انٹراؤٹس کی سائڈ پہ لگایا جاتا ہے۔

یہاں تک کی بات تو طبعی زچگی کا ایک حصہ ٹھہری۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ کٹ لگانے کے باوجود انٹراؤٹس اور پیرینیم اتنے زیادہ پھٹ جائیں کہ اس میں مقعد بھی شامل ہو جائے۔

زچگی کے دوران انٹروؤٹس کو پہنچنے والے نقصان کے مختلف درجے ہوتے ہیں جن کا تعین کس عضو کو کس حد تک نقصان پہنچا؟ کی بنیاد پہ کیا جاتا ہے۔

پہلا درجہ;

‏ (First degree perineal tear )

اس درجے میں اندام نہانی( vagina)، انٹراؤٹس اور بیرونی حصے یعنی پیرینیم کی محض جلد پھٹتی ہے۔

دوسرا درجہ؛ (second degree perineal tear)

اس درجے میں مندرجہ بالا کے ساتھ جلد کے نیچے پائے جانے والے مسلز بھی پھٹ جاتے ہیں۔

تیسرا درجہ ؛ (Third degree perineal tear)

یہاں نقصان جلد اور مسلز تک محدود نہیں رہتا بلکہ مقعد تک پہنچ جاتا ہے۔ مقعد کے گرد پایا جانے والا پیچ نما عضو جو ریح اور براز کے خروج پہ کنٹرول رکھتا ہے، پھٹ کے تباہ ہو جاتا ہے۔

چوتھا درجہ؛ (Fourth degree perineal tear)

اس میں مقعد کے گرد پائے جانے والے پیچ، اور مقعد کا اوپری حصہ تباہ ہو جاتا ہے۔ نتیجتا اندام نہانی اور مقعد ایک ہی رستے میں بدل جاتے ہیں۔

پہلے اور دوسرے درجے کے Tears نہ پہچاننا مشکل ہیں اور نہ ہی مرمت کرنا کہ وہ ہر وہ ڈاکٹر یا مڈ وائف کر سکتی ہے جس نے بھلے کم تربیت حاصل کی ہو۔

لیکن سر پہ پڑنے والی مصیبت تیسرے اور چوتھے درجے کے Tears ہیں جنہیں پہچاننے اور سینے کے لئے عقابی نظر، ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی برس ہا برس کی تربیت چاہیے ہوتی ہے۔ اور یہاں پہ دلخراش بات یہ ہے کہ اکثر اساتذہ بھی اس مہارت سے محروم ہوتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اپنا علم دوسرے کو منتقل کرنا اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنا سمجھا جاتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہر بات کتاب سے پڑھ کے نہیں سیکھی جا سکتی جیسے ڈرائیونگ یا جہاز اڑانے کے لئے کسی ماہر فن سے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالکل ویسے ہی میڈیکل میں بھی کتاب بنیادی اصول تو بتا دیتی ہے لیکن انسانی عضو کے ساتھ کھیلنے کے لئے ایک عمر کی ریاضت چاہیے۔

مقعد کے گرد دو طرح کے پیچ پائے جاتے ہیں، اندرونی اور بیرونی۔

اندرونی پیچ ؛ (Internal Anal sphincter)

مقعد کے منہ کے گرد گھیرا ڈالے یہ پیچ سفیدی مائل رنگت کے مسلز سے بنا ہوتا ہے۔ اس پیچ کا کنٹرول انسانی شعور کے تابع نہیں ہوتا بلکہ یہ ان دماغی سینٹرز سے کنٹرول کیا جاتا ہے جو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ براز کا خروج ہونے کو ہے سو اسے ڈھیلا کر دیا جائے۔ جونہی فراغت ہو جاتی ہے، دماغ فوری طور پہ اسے دوبارہ کس دیتا ہے۔

بیرونی پیچ ؛

( External Anal Sphincter )

یہ پیچ سرخی مائل مسلز سے بنا ہوتا ہے جیسے گوشت کا کوئی لوتھڑا۔اس کا کنٹرول انسانی شعور کے تحت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پہ اگر غسل خانہ قریب نہیں اور ریح و براز کی حاجت ہے تو انسانی شعور اس حاجت کو بیرونی پیچ کی مدد سے اس وقت تک قابو میں رکھے گا جب تک مناسب جگہ تک پہنچ نہ جائیں۔

زچگی کے دوران ان پیچوں کے پھٹنے میں بہت سے عوامل اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ غیر تربیت یافتہ ڈاکٹر یا مڈوائف، صحت مند بچہ، پہلی زچگی، زچگی کے دوران اوزاروں کا استعمال، بچے کی غیر مناسب پوزیشن۔

ان عوامل میں بہت سے ایسے ہیں جن پہ ہمارا اختیار نہیں ہوتا جیسے پہلی زچگی، اور بچے کی پوزیشن مگر جو بات ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ ہے ان پیچوں کو پہنچنے والے نقصان کی پہچان، مناسب سلائی اور مرمت!

تیسرے اور چوتھے درجے کے نقصان کو آپریشن تھیٹر میں مریضہ کو بے ہوش کر کے رفو کیا جاتا ہے۔ اندرونی پیچ کی سلائی مختلف ہوتی ہے اور بیرونی پیچ کی اور طرح ۔ ٹانکہ کیسے بھرنا ہے؟ کونسا دھاگہ استعمال کرنا ہے؟ کتنا کس کے لگانا ہے؟ کتنے وقفے سے لگانا ہے؟ یہ وہ ترکیبیں ہیں جو کسی مشاق سے ہی سیکھیں جاتی ہیں۔ آپس کی بات ہے ہم نے بھی یہ کھیل موئے انگریزوں کے دیس جا کر ہی سیکھا۔

بات وہیں پہ آٹھہری جہاں سے ہم نے شروع کی تھی۔ مناسب تربیت کا فقدان، اپنے کام کو عشق سمجھنے والوں کی شدید کمی، راتوں رات امیر بننے کا ہوکا، اپنی صلاحیتوں کے تنقیدی جائزہ اور پروفیشنل ایمانداری کا بحران، لاکھوں عورتوں کو ایک ایسی معذوری عطا کرتا ہے جو زچگی کی ایک پیچیدگی سمجھ کے قبول کر لی جاتی ہے۔ بقول بڑی بوڑھیوں کے، ایسا تو ہوتا ہی آیا ہے برسوں سے ہر کسی کے ساتھ، تم کیا انوکھی ہو!

مگر ہمیں بتانا ہے کہ اس انوکھے پن کو انوکھا ہی سمجھنا چاہیے۔ یہ معذوری اور یہ بے بسی کہ جسم سے نکلنے والی غلاظت پہ قابو ہی نہ ہو، عورت کا مقدر نہیں ہونا چاہئے۔

ہمیں علم ہے کہ یہ مضمون پڑھنے کے بعد ہزارہا لوگ ڈاکڑز پہ لٹھ لے کے چڑھ دوڑیں گے۔ سنگباری اور لعن طعن کی کوئی کمی نہیں ہوگی مگر ہمارا سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اس حمام میں ننگا نہیں؟ کون ہے جو آج معاشرے میں اپنا کام پیشہ ورانہ ذمہ داری اور دیانت سے کر رہا ہے؟ کون ہے جس نے شارٹ کٹ کا سہارا لے کر آسمان کو چھونے کی کوشش نہیں کی؟ کون ہے جو اپنے گریبان میں منہ ڈال کے اپنی قابلیت اور اہلیت کو صحیح طور پہ جانچنا چاہتا ہے؟

جب معاشرے کا ہر شعبہ اور ہر طبقہ روبہ زوالی کا شکار ہو، ترجیحات بدل چکی ہوں تو اس میں محکمہ صحت سے یہ توقع کیونکر کہ وہاں فرشتے پائے جائیں گے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply