سپریم کورٹ پر ’خود کش حملہ‘ نہ کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیف جسٹس گلزار احمد نے سینیٹ ووٹنگ کے سوال پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کرتے ہوئے آئین کو ’سیاسی دستاویز ‘ قرار دیا ہے۔ اس طرح خود اپنا اور سپریم کورٹ کا سیاسی کردار متعین کرتے ہوئے ایک بیباکانہ سیاسی رائے دی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت میں سینیٹ میں اوپن ووٹنگ متعارف کروانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب دونوں پارٹیاں اس سے منحرف ہوگئی ہیں جو افسوسناک ہے۔
ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ کا یہ رویہ دراصل سپریم کورٹ کو متنازعہ بنائے گا ۔ اس کی غیر جانبداری مشکوک ہو گی اور یہ اصول پس منظر میں چلا جائے گا کہ عدالتیں آئین و قانون کی مقررہ حدود کے اندر رہتے ہوئے فیصلے کریں اور ججوں کی ذاتی پسند ناپسند کو ان کے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہو۔ سپریم کورٹ کو آئینی معاملات پر مشورہ دینے کا اختیار ضرور دیا گیا ہے اور اسی حوالے سے صدر عارف علوی نے سینیٹ کے انتخاب میں ووٹنگ کے طریقہ کو تبدیل کرنے کے لئے ایک بنیادی سوال سپریم کورٹ کو بھیجا ہے۔ صدر نے استفسار کیا ہے کہ کیا الیکشن قواعد میں تبدیلی کے ذریعے سینیٹ میں اوپن ووٹنگ کا طریقہ متعارف ہوسکتا ہے یا نہیں۔
اس ایک سوال کا جواب دینے کے لئے ملک کے چیف جسٹس آئین کو سیاسی معاملہ قرار دے کر اب سپریم کورٹ کے سیاسی کردار کی نشاندہی کررہے ہیں۔ امید کرنی چاہئے کہ خود چیف جسٹس بھی اپنے اس تبصرے پر ٹھنڈے دل و دماغ سے نظر ثانی کریں گے اور بنچ میں شامل دیگر فاضل جج بھی بنچ کے سربراہ کی رہنمائی کا فریضہ ادا کریں گے۔ چیف جسٹس کی یہ آبزرویشن اگر ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہوئی تو اسے ملکی عدلیہ پر ’خود کش حملہ‘ کہا جائے گا۔ یعنی عدالت کے جج خود اپنے ہی ہاتھوں سے اس ادارے کو بے توقیر کرنے کا سبب بنیں گے جو ملک میں انصاف کی فراہمی اور سیاست سے بالا تر ہوکر آئین کی قانونی تفہیم کا ذریعہ ہے۔
بلاشبہ ملکی آئین سیاست دانوں کی محنت اور جد و جہد کا نتیجہ ہے۔ اسے کسی عدالتی بنچ یا ججوں کے گروہ نے تحریر نہیں کیا بلکہ سیاست دانوں نے باہمی مشاورت سے اس پر اتفاق رائے کیا تھا۔ آئین کو سیاسی پسند و ناپسند سے محفوظ رکھنے کے لئے ہی آئینی ترمیم کے واسطے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت ضروری سمجھی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے باب میں آئین یہ نہیں کہتا کہ سپریم کورٹ کے جج مل کر اس بارے میں تجویز تیار کریں اور اسے پارلیمنٹ کو بھیج دیں تاکہ وہ اسے منظور کرکے مناسب رد و بدل کرلے۔ قانون سازی کی طرح آئینی ترمیم کا حق و اختیار صرف ملک کی پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ اس حق کو کسی بھی قیمت پر سلب نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی میں جب بھی کسی فوجی سربراہ نے آئین کو معطل کرتے ہوئے اس میں رد و بدل کا طریقہ اختیار کیا تو بدنصیبی سے اسے ملک کی سپریم کورٹ نے تعاون فراہم کیا۔ اس طریقہ کو قوم سیاسی اور نظریاتی طور سے مسترد کرچکی ہے۔ پرویز مشرف کو آئینی ترمیم کا خصوصی اختیار دینے والے جج ارشاد حسن خان اب اپنے اس فیصلہ کے بارے میں مختلف حجتیں سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ملک کی رائے عامہ اس قسم کی ہر عذر خواہی کو مسترد کرچکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کو بھی اس حوالے سے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن آج اسی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے سیاسی کردار کو اجاگر کرنے کی افسوسناک کوشش کی ہے۔
آئین پر دست درازی کی کسی بھی عدالتی یا عسکری کوشش کے خلاف 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس تحریک کے نتیجے میں بحال ہونے والے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بعد میں متعدد بار یہ اعلان کیا تھا کہ ’نظریہ ضرورت‘ اب دفن ہوچکا ہے۔ اب مستقبل میں کوئی بھی عدالت اس حجت کے تحت ملک میں لاقانونیت کی سرپرستی نہیں کرسکے گی۔ تاہم افتخار چوہدری کے کردار کا یہ پہلو بھی افسوسناک ہے کہ اپنی نوکری اور پوزیشن بحال کروانے کے لئے تو انہیں آئینی وقار اور اس کی اہمیت اہم دکھائی دینے لگی تھی لیکن اس سے پہلے وہ پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف لے کر ایک فوجی حکومت کے خدمت گزار جج کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔
عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجے میں افتخار چوہدری کو قومی ہیرو کی حیثیت ضرور حاصل ہوئی تھی لیکن ازخود نو ٹسز کی بھرمار، عدالت کے ذریعے پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنے کی خواہش اور آئینی طریقہ کو مسترد کرنے کے لئے جوڈیشل ایکٹوازم کے مظاہرے نے انہیں بے توقیر کردیا۔ انہوں نے ایک منتخب وزیر اعظم کو ضرور نااہل کیا لیکن اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کا طریقہ اختیار کرکے انہوں نے ملک میں عدالتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ پاکستان کا عدالتی نظام ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل سکا۔ پانامہ کیس میں عدالت کا طرز عمل، طاقت ور اداروں کے خلاف رائے دینے والے اپنے ہی ساتھی ججوں کو نشانہ بنانے کا طریقہ اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے مقبولیت پسندانہ طرز انصاف نے دراصل ملکی عدالتی نظام کی جڑیں کمزور کی ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی سیاسی ترجیحات یا پسند و ناپسند کی ذاتی تحدیدات کی وجہ سے ملک میں زیریں عدالتوں کے انتظامی معاملات کی اصلاح، بدعنوانی کے خاتمے اور انصاف میں تاخیر کی روک تھام کا کام بھی مناسب طریقے سے سرانجام نہیں دیا جاسکا۔ عام لوگوں کے مقدمات نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک پہنچنے اور اور ان پر فیصلہ کی نوبت آنے تک کئی نسلیں دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں اور کئی بے گناہ جیل میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔
اعلیٰ عدالتیں اپنے سیاسی ایجنڈے ہی کی وجہ سے اصلاح احوال میں مؤثر کردار ادا نہیں کرسکیں۔ کسی حد تک سیاسی پارٹیوں، قانون سازی میں تساہل اور وسائل کی کم یابی کو بھی ان عوامل کا سبب قرار دیا جاسکتا ہے لیکن ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ پر عدالتی نظام کو مؤثر و فعال بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے سربراہ بوجوہ اس طرف توجہ نہیں دے پاتے۔ اس کی بجائے وکلا گردی کا ایک نیا عنصر عدالتی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔ وکلالیڈر ججوں کے ساتھ بدکلامی کے علاوہ تشدد کا راستہ بھی اختیار کرتے رہے ہیں۔ وکلا تنظیموں کے علاوہ اعلیٰ عدالتوں نے بھی اس رجحان کی بروقت روک تھام پر غور نہیں کیا جس کے نتیجے میں گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے دفتر پر وکیلوں کے ہجوم نے دھاوا بول دیا اور ایک فٹ بال گراؤنڈ پر قبضہ کرکے وہاں اپنے چیمبر بنا لئے۔
چیف جسٹس سے بہتر کسی کو اس حقیقت کی تفہیم نہیں ہو سکتی کہ ججوں کی سیاسی رائے ضرور ہوسکتی ہے لیکن اس کا علی الاعلان اظہار یا سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلہ سازی عدالتی منصب و وقار کے منافی ہے۔ ملک کا آئین جب تشریح کے لئے عدالت عظمی کے روبرو لایا جاتا ہے تو اس سے اس کے قانونی ابہام کو دور کرنے کی استدعا کی جاتی ہے۔ نہ تو کوئی صدر سپریم کورٹ کو سیاسی رائے دینے کے لئے ریفرنس بھیج سکتا ہے اور نہ ہی کوئی جج یا بنچ آئین کو سیاسی دستاویز قرار دے کر اپنی سیاسی تفہیم کے مطابق اس کی تشریح کرسکتا ہے۔ کسی آئینی پہلو کو اگر سیاسی طور سے طے کرنا مقصود ہو تو اسے پارلیمنٹ میں لے جانا ضروری ہوتا ہے جہاں صرف اکثریتی پارٹی ترمیم نہیں کرسکتی بلکہ اسے دو تہائی اکثریت کو یقینی بنانا ہوتا ہے تاکہ آئینی ترمیم میں وسیع تر سیاسی اتفاق شامل ہوسکے۔ عدالتی تعاون سے فوجی آمروں کی ترامیم سے قطع نظر سیاسی پارٹیوں نے عام طور سے کوشش کی ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کے لئے اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاکہ ملک میں وسیع تر سیاسی افہام و تفہیم کی فضا پیدا ہوسکے۔
حیرت ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد اس بات پر تو ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کو مطعون کررہے ہیں کہ وہ میثاق جمہوریت سے منحرف ہوگئیں اور سینیٹ انتخاب اوپن بیلیٹ کے ذریعے کروانے کی تجویز پر عمل نہیں کیا گیا لیکن انہوں نے اٹارنی جنرل سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ حکومت نے آئینی ترمیم کے لئے سیاسی مفاہمت کیوں پیدا نہیں کی ؟ نہ ہی انہوں نے یہ نوٹ کرنے کی کوشش کی کہ اٹارنی جنرل کے علاوہ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے ایڈووکیٹ جنرلز نے وہی مؤقف اختیار کیا جس کا چرچا عمران خان اور مرکزی حکومت ڈیڑھ دو ماہ سے کررہے ہیں۔ صرف سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے آئین کی شق 226 کی اہمیت اور تقاضے کو اجاگر کیا اور سپریم کورٹ کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ گویا مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے قانونی نمائیندوں نے اپنی سیاسی حکومتوں کی نمائیندگی کی۔ ایسے میں چیف جسٹس میثاق جمہوریت کا ذکر کرکے دراصل حکمران جماعت کے حلیف کا کردار ادا کرنے کا سبب بنے ہیں۔
میثاق جمہوریت نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان طے پانے والا ایک وسیع معاہدہ تھا۔ یہ معاہدہ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان ہؤا تھا، اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کہ عدالت عظمیٰ میں اسے زیر بحث لایا جائے۔ اس کے باوجود چیف جسٹس اگر اس بحث کو اہم سمجھتے ہیں تو انہیں متعلقہ سیاسی پارٹیوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کی دعوت بھی دینی چاہئے۔ اس کے باوجود یہ طریقہ ایک سیاسی معاملہ میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو ملوث کرنے کے مترادف ہوگا۔ کسی عدالت کو سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہونے والے معاملات میں رائے زنی سے گریز کرنا چاہئے۔ ایسا کرنے سے ایک تو جج اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کریں گے اور دوسرے سیاسی معاملات میں ملوث ہوکر وہ متنازعہ ہوں گے اور ان کے بارے میں سیاسی رائے بھی ظاہر کی جائے گی۔ یہ طریقہ عدالتی وقار اور مقام و مرتبہ کو تباہ کردے گا۔
ترقیاتی فنڈ کیس میں جسٹس گلزار احمد کے طرز عمل کے بعد ان سطور میں چیف جسٹس سے خود کو ریفرنس کیس سے علیحدہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ آج ان کی باتوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ ایک خاص سیاسی نظریہ کے تحت معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد ان کا اس بنچ کا حصہ بنے رہنا، خود احتسابی سے خوفناک گریز ہے جو انصاف کو دفنانے کا سبب بنے گا۔ ریفرنس میں سپریم کورٹ کا بنچ جو بھی فیصلہ دے ، اس میں کسی نہ کسی طرح ججوں کی سیاسی شیفتگی کو تلاش کرلیا جائے گا۔ ملک کے موجودہ آئینی انتظام میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا یہ کردار ناقابل قبول پیچیدگیاں پیدا کرے گا ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1773 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply