پریا رمانی کی فتح اور ایم جے اکبر کی شکست سے کیا بدلے گا؟

برجیش مشرا - بی بی سی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایم جے اکبر، پریا رمانی

Getty Images

دلی کی ایک عدالت نے بدھ کو سابق وفاقی وزیر ایم جے اکبر کی طرف سے ایک خاتون صحافی پریا رمانی کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پریا رمانی کو بری کر دیا ہے۔

ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ روندر کمار پانڈے نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جنسی استحصال عزتِ نفس کو ختم کر دیتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’کسی شخص کی نیک نامی کی حفاظت کسی کی عزت کی قیمت پر نہیں کی جا سکتی۔‘ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ معاشرے میں عزت یافتہ شخص بھی جنسی استحصال کر سکتا ہے۔

فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پریا رمانی نے کہا کہ ’میں بہت اچھا محسوس کر رہی ہوں، میرے سچ کو عدالت نے قبول کیا ہے۔ یہ درحقیقت بڑی بات ہے۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’میری جیت سے خواتین کو کھل کر بولنے کا حوصلہ ملے گا اور طاقتور لوگ متاثرین کو عدالت میں گھسیٹنے سے پہلے دو بار سوچیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

MosqueMeToo#: ’مقدس مقامات پر بھی ’جنسی ہراسانی‘

ہراسانی کے جھوٹے الزام پر ٹیچر کی خودکشی، قصور وار کون؟

سائیکل چلانے والی خواتین ہراسانی سے کیسے بچ سکتی ہیں؟

ایم جےاکبر جنسی ہراسانی کے الزام کے بعد مستعفی

کیس کیا تھا؟

پریا رمانی نے می ٹُو تحریک کے دوران اس وقت کے وزیرِ مملکت برائے خارجہ اُمور ایم جے اکبر پر اُنھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا اور ان پر اس طرح کا الزام لگانے والی وہ پہلی خاتون تھیں۔

پریا رمانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایم جے اکبر نے ممبئی کے اوبرائے ہوٹل میں دسمبر 1993 میں نوکری کے لیے انٹرویو میں اُنھیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔ ایم جے اکبر کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ہوٹل میں پریا رمانی سے کوئی ملاقات نہیں کی تھی۔

می ٹو موومنٹ کے تحت 20 خواتین نے ایم جے اکبر پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے۔ ان خواتین کا الزام تھا کہ دی ایشین ایج اور دیگر اخباروں کے ایڈیٹر کے طور پر ایم جے نے ان کا جنسی استحصال کیا تھا۔

ایم جے اکبر پر لگنے والے الزامات کے بعد 17 اکتوبر 2018 کو اُنھوں نے وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

’آج بہت سی عورتیں اپنے گھروں میں روئی ہوں گی‘

ایشیئن ایج کی ریزیڈینٹ ایڈیٹر سوپرنا شرما بھی ایم جے اکبر پر جنسی استحصال کا الزام لگانے والی خواتین میں شامل ہیں۔ سوپرنا شرما نے اپنے الزام میں کہا تھا کہ 1993 سے 1996 کے درمیان ایم جے اکبر ان کے باس تھے، جس دوران اُنھوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔

پریا رمانی کیس میں فیصلہ آنے کے بعد سوپرنا شرما نے بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’می ٹُو کے کسی معاملے میں انڈیا میں شاید پہلی بار کورٹ نے یہ کہا ہے کہ آپ کورٹ کے پاس 10 سال بعد آئیں، 20 سال بعد آئیں، ہم آپ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ دوسری بات جو عدالت نے کہی ہے کہ کسی ایک آدمی کی نیک نامی کسی عورت کی عزت یا عزت نفس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ خواتین کی ہمت بڑھانے والا ہے۔‘

سوپرنا شرما کہتی ہیں کہ ’آج عدالت کی اس بات کو سن کر کہ ہم آپ کی بات پر بھروسہ کرتے ہیں، چاہے آپ 10 سال بعد آئیں یا 15 سال بعد، آج بہت سی خواتین اپنے گھروں میں روئی ہوں گی۔‘

یاد رہے کہ جنسی ہراسانی اور استحصال کے مبینہ واقعات کے خلاف آواز بلند کرنے کی می ٹُو تحریک 2018 میں انڈیا میں بہت بڑی سطح پر چلی اور کئی نامور شخصیات کے خلاف الزامات سامنے آئے۔

بالی وڈ اور میڈیا کی صنعتوں میں استحصال کے بارے میں آوازیں اٹھیں اور کئی خواتین صحافیوں، اداکاراؤں نے اس پر کھل کر بات کی۔ اب ہتک عزت کے اس کیس میں ایم جے اکبر کی ہار اور پریا رمانی کے بری ہونے کے بعد انڈیا میں اس فیصلے کا اثر کس طرح ہوگا اور کیا خواتین کو اپنی کہانی بتانے کی ہمت ملے گی؟

سوپرنا شرما کہتی ہیں، ’اس فیصلے کا دو تین سطحوں پر اثر ہوگا۔ می ٹو مہم کے بعد ایک بیانیہ بنا ہے کہ جب خواتین کسی بڑی شخصیت کا نام لیتی ہیں، ان پر الزام لگاتی ہیں تو ان کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات کر دیے جاتے ہیں۔ سننے میں آتا ہے کہ سو کروڑ کا ہتکِ عزت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بیس تیس وکلا کی ٹیم لا کر اُنھیں ڈرا دو۔ مردوں کے پاس اس طرح ڈرانے کی جو طاقت ہوتی ہے، وہ شاید اب کم ہوگی۔‘

ایم جے اکبر پر الزام لگانے والی خواتین کی تعداد 20 سے زیادہ ہے۔ کورٹ کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی خوب ردعمل سامنے آیا۔ خواتین صحافیوں نے پریا رمانی کی ہمت کو سراہا ہے اور فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سوپرنا شرما کا کہنا ہے کہ ’اس فیصلے کا دوسرا اثر یہ ہوگا کہ عورتوں کو طاقت ملے گی، یہ دیکھ کر کہ کس طرح پریا رمانی نے ہمت دکھائی اور اپنے موقف پر اٹل رہیں۔ ڈھائی سال تک یہ کیس چلا ہے۔ وہ بینگلورو میں رہتی ہیں، صحافی ہیں۔ بار بار کیس کے لیے دلی آنا اور لڑنا۔ اُنھیں دیکھ کر باقی لوگوں کی ہمت بندھی کہ وہ بھی اپنی کہانی بیان کریں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ سب کو اپنی کہانی بتانی چاہیے، لیکن جو خواتین اس بارے میں بولنا چاہتی تھیں اور اب تک نہیں بول پا رہی تھیں، ان کو ہمت ضرور ملے گی۔‘

’کورٹ نے ایم جے اکبر کی اس بات کو رد کر کے بہت واضح مثال قائم کی ہے۔ عدالت کا یہ کہنا کہ جنسی استحصال کرنے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے، یہ بہت اہم بات تھی۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کوئی بہت اچھا ہے، اس لیے وہ جنسی استحصال نہیں کر سکتا، اس بات کو عدالت کی طرف سے رد کیا جانا میری نظر میں بہت اہم ہے۔ جن کے پاس طاقت ہوتی ہے وہی اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔‘

’چھوٹی چھوٹی فتوحات سے تبدیلی آئے گی‘

صحافی صبا نقوی نے الزام لگایا تھا کہ جب وہ ٹیلی گراف اخبار میں ٹرینی کے طور پر کام کر رہی تھیں، اس وقت اعلیٰ عہدے پر فائز ایم جے اکبر نے ان کا جنسی استحصال کیا تھا۔ پریا رمانی کیس میں کورٹ کے فیصلے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’ایم جے اکبر بہت بڑے ایڈیٹر تھے اور بہت ہی متحرک ایڈیٹر تصور کیے جاتے تھے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایک بڑا فیصلہ ہے کیونکہ اُنھوں نے اپنے خلاف الزامات کی روشنی میں کسی پر مقدمہ کر دیا اور وہ ہار گئے۔ وہ بی جے پی کی طرف سے راجیہ سبھا کے رکن ہیں اور بی جے پی حکومت کے سابق وفاقی وزیر بھی۔ اس فیصلے سے انڈیا کی تمام خواتین خوش ہوں گی۔‘

عدالت کے اس فیصلے کا اثر آنے والے دنوں میں می ٹُو تحریک اور انڈیا پر کیا ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں صبا نقوی کہتی ہیں کہ، ’جو عام انڈین خواتین ہیں، جو کہیں کام رہی ہیں اور ان کا کچھ مرد استحصال کر رہے ہوں، وہ شاید اب بھی نہ بولیں لیکن یہ معاملہ میڈیا کی صنعت کا ہے۔ میڈیا کی خواتین نے اس پر آواز اٹھائی۔ ایم جے اکبر پر نوجوان خواتین کے استحصال کا الزام ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتی کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ اہم فیصلہ ہے۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ می ٹو موومنٹ کے بعد پیشہ ور خواتین کے لیے کام کی جگہ پر ماحول بدلا ہے لیکن اُنھیں امید ہے کہ عدالت کی یہ بات کہ طاقت ور لوگ بھی استحصال کر سکتے ہیں، ایک نظیر بن جائے اور مستقبل میں اگر کوئی خاتون ایسی بات کہتی ہے تو اسے سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ ’یہ بھی بات ہے کہ ایم جے اکبر کے خلاف ایک نہیں، کئی خواتین نے الزامات لگائے ہیں۔‘

صبا نقوی نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ اہم ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب انڈیا میں جو خواتین کام پر جاتی ہیں، جنھیں ہراساں کیا جاتا ہے، وہ نہیں ہوگا۔ لیکن چھوٹی چھوٹی فتوحات سے ہی تبدیلی آئے گی۔

’یہ فیصلہ سنگ میل ثابت ہوگا‘

انڈیا کی سپریم کورٹ میں وکالت کرنے والی وکیل پیولی سواتیجا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک ’سنگ میل‘ ثابت ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ ’کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ ایک متاثرہ خاتون کو کٹہرے میں کھڑے ہو کر اپنا دفاع کرنا پڑا۔ یہ مقدمہ ایم جے اکبر کے خلاف نہیں بلکہ ان پر الزام لگانے والی عورت کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ تھا۔ اگر اس معاملے میں یہ فیصلہ نہیں آتا تو اس سے انڈیا میں خواتین کے حقوق کی تحریک کو بہت بڑا دھچکا لگتا۔‘

پیولی سواتیجا کہتی ہیں کہ ’عدالت کے اس فیصلے سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والی خواتین کی ہمت کچھ بڑھے گی اور وہ ایسے کیسز کو عدالت کے سامنے لانے کی ہمت کر سکیں گی۔‘

سپریم کورٹ کے ایک اور وکیل آلوک کمار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کافی اہم ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’عدالت نے پریا رمانی کو بے قصور قرار دینے کے پیچھے جو وجہ بتائی ہے اس کی اپنی اہمیت ہے اور اس کا اثر آگے بھی دیکھنے کو ملے گا۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے کے حقوق ہتک عزت کا الزام لگانے والے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔‘

’اس کا مطلب یہ ہے کہ ہتکِ عزت کا خوف دلا کر اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ یا طاقت ور لوگ جنسی استحصال کے متاثرین کی آواز کو آسانی سے نہیں دبا پائیں گے۔‘

ہراسانی

Getty Images

ہتک عزت کی اتنی فکر ہے تو ایسی حرکتیں نہ کریں

انسانی حقوق کی وکیل شکھا چھبر کے مطابق پریا رمانی کو بری کیے جانے کے فیصلے سے کام کی جگہ پر کام کرنے والی خواتین کو بڑی ہمت ملے گی۔

اُنھوں نے کہا، ’دراصل کام کرنے کی جگہ پر جن خواتین کا جنسی اور ذہنی استحصال ہوتا ہے وہ عام طور پر ڈر، معاشرتی رویوں اور انصاف نہ ملنے کے خدشے کہ وجہ سے خاموش رہتی ہیں۔ اُنھیں اپنی نوکری جانے کا بھی ڈر ہوتا ہے۔ ایسی خواتین کو بڑی ہمت ملی ہے، اُنھیں یہ احساس ہوا ہے کہ قانون ان کے ساتھ ہے اور وہ اپنی آواز اٹھا سکتی ہیں۔‘

شکھا چھبر اس پورے معاملے کو معاشرے کے لیے شرم کا باعث قرار دیتی ہیں۔

’دیکھیے اس معاملے میں خود کو متاثرہ کہنے والی، جو یہ کہہ رہی تھیں کہ میرا جنسی استحصال ہوا ہے، اُنھیں انصاف ملنے کے بجائے عدالت میں ہتک عزت کے مقدمے میں ملزم بنا دیا گیا، اُنھیں اپنا دفاع کرنا پڑا، یہ کتنی شرم کی بات ہے۔‘

شکھا چھبر کے مطابق کام کی جگہ پر جنسی استحصال کے معاملات میں قانون تو ہے لیکن اس پر عمل درآمد کس طرح سے ہو رہا ہے، اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہا: ’میں 2013 سے اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ اس قانون کے تحت کتنے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ اس بارے میں حکومت کی طرف سے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ کتنے دفتروں میں شکایات کی اندرونی کمیٹی ہے، اس بارے میں کوئی عوامی معلومات نہیں ہیں۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ استحصال کی شکایت سالوں، دہائیوں بعد بھی کی جا سکتی ہے، اس بارے میں شکھا چھبر نے کہا کہ کسی بھی عورت کے لیے ان باتوں کے بارے میں کھل کر بات کرنا آسان نہیں ہوتا ہے۔

می ٹو، ہراسانی،

iStock

’اُنھیں کئی سطحوں پر جدوجہد سے گزرنا پڑتا ہے تب جا کے وہ شکایت کرنے کے لیے سامنے آتی ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین کی باتوں کو جھٹلانے کا رواج بھی ہے۔ اس میں کمی آئے گی۔ کم سے کم خواتین میں امید تو بندھے گی کہ وہ اپنی بات کہہ سکتی ہیں۔‘

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ جو لوگ سماجی حیثیت والے ہوتے ہیں وہ بھی ہراساں کر سکتے ہیں، اس بارے میں شکھا چھبر کہتی ہیں، ’اکثر ایسا ہوتا ہے جن کے پاس سماجی حیثیت ہوتی ہے وہ ایسی چیزیں کر کے بچ نکلتے ہیں۔ اقتدار، پیسہ، نیک نامی جہاں یہ چیزیں ہوتی ہیں وہیں ان کے غلط استعمال کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ عدالت نے اس بات کو سمجھا ہے کہ معاشرے میں اعلیٰ رتبہ رکھنے والے لوگ بھی ہراساں کر سکتے ہیں۔‘

کورٹ نے یہ بھی کہا کہ کسی کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے کسی کی عزت کے حق کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔ شکھا چھبر کہتی ہیں، ’عزت کا حق آئین کے تحت زندہ رہنے کے حق میں شامل ہے۔ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ہتک عزت کی اتنی فکر ہے، تو ایسی حرکتیں تو نہ کریں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17834 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp