ہماری ماؤں کی سلائی مشین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ماؤں کی اس دولت و متاع جس کو وہ ہمیشہ سنبھالتی ہیں اس میں سے ایک سلائی مشین بھی ہوتی ہے۔ نسل نو کو اس بات کا اندازہ نہ ہو پائے گا مگر ہم جس دور سے گزرے ہیں سلائی مشین ہر گھر میں موجود ہوتی تھی، کونے میں پڑی ہوتی تھی اور اس پر کپڑا اوڑھا دیا جاتا تھا۔ اسے تیل دینے کے لئے ”کپی“ بھی مشین کے اندر یا الگ سے موجود ہوتی تھی۔

مائیں ان مشینوں کی مسلسل صفائی کرتی تھیں۔ اس کو تیل کے ساتھ رواں رکھا جاتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ سلائی مشین سے ہر شخص کی یادیں جڑی ہیں۔ بچپن میں راہ چلتے کپڑے پھاڑ یا ادھیڑ لینا تو عام سی بات ہوتی تھی۔ آسن، نیفا، بغل، پائنچہ تو بس ایسے ہی ادھڑ جاتا تھا۔ اماں بڑے چاؤ سے اسے سی دیتی تھیں۔ البتہ کبھی کبھار ہی یہ کہتے بھی سنا گیا کہ ”اس کے تو جسم پر کانٹے ابھرے ہوئے ہیں“ ۔

ادھڑے کپڑوں کی سلائی اور سلائی شدہ پرانے کپڑوں سے کوئی تھیلا، بستہ، چھوٹی ٹیبل کا کور بنانا ہو تو مشین کے اوپر پڑا ہوا کپڑا ہٹایا جاتا اور اس مشین کی رونمائی ہوتی۔

مشین چلتے چلتے دھاگہ توڑ دیتی تھی۔ اماں اکثر مجھے بلاتی تھیں۔ انگلی کو زبان سے مس کیا جاتا، دھاگے کو انگلیوں کے بیچ دبا کر گیلا کیا جاتا اور پھر اس کے سرے کو مشین کی سوئی میں ڈالا جاتا اور مشین پھر چلنے لگتی۔ کتنی ہی بیٹیوں نے اماں کے پاس بیٹھ کر کترن سمیٹی، رنگ برنگے کپڑے اکٹھے کیے اور سلائی کرتی ماؤں کو بغور دیکھا ہے۔

یہ مشینیں ماضی ہو گئی ہیں۔ پچاس سال قبل امی کے جہیز کی ’سلیقہ سلائی مشین‘ آج بھی ہمارے گھر میں موجود ہے۔ ہم نے اس کے چرخے کو بلاوجہ گھمانے، سوئی اوپر نیچے اٹھانے سے لے کر، کپی کے ساتھ لبریکینٹ، آئل لگانا، مشین کے خانے میں رکھی ”انچی ٹیپ“ سے اپنے پیر اور قد ماپنا تک کارنامے سرانجام دیے ہیں۔

میں نے اسی لئے کہا تھا کہ یہ مشین بہت سے لوگوں کا ماضی ہیں۔ گلی محلے، رشتہ داروں کے کپڑوں کی تراش خراش، سلائی اور موڈیفیکیشن تک والدہ کے ’احساس پروگرام‘ کا حصہ ہوتی تھی۔ مائیں اپنی بیٹی کو سلائی مشین لازمی جہیز میں دیتی تھیں۔

سلائی کڑھائی بنیادی ہنر تھے۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو لازمی سکھاتی تھیں۔ یہی ہنر بہت سے چولہے جلنے کی وجہ بھی تھا۔ اسی ہنر نے بہت سی بیٹیوں کو معاشی مسائل اور اقتصادی اندیشوں سے بچایا۔

ایک کپڑا برسوں پہنا جاتا تھا۔ پیوند کاری کی جاتی تھی۔ آج ڈسپوزایبل کپڑوں نے سلائی، مرمت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آپ اپنے گھر میں تلاش کیجیے گا، کسی سٹور میں رکھی سلائی مشین ضرور ملے گی۔ وہی سلائی مشین جس پر اپنی امی کو جوانی کے دنوں ہمارے بچپن کے پھٹے کپڑے مرمت کرتے دیکھا ہو گا۔ جس کی سوئی میں دھاگہ ڈالنے کے لئے اماں کی مدد کی ہو گی۔ یہ وہی مشین ہو گی جو اماں کی اماں نے بہت چاؤ سے اپنی بیٹی کو جہیز میں دی ہو گی یا شادی کے ابتدائی ایام اماں نے جیب خرچ سے خود خریدی ہو گی۔ یہ مشین یقیناً کسی سٹور میں ہو گی۔ اماں نے تو کبھی اسے اتنا میلا نہیں ہونے دیا ہو گا۔ اس کی خستہ حالی نہیں ہونے دی ہو گی۔ اسے ہمیشہ صاف شفاف رکھا ہو گا۔

آج ہماری وارڈروب، الماریوں میں سینکڑوں کپڑے ہیں۔ ہمارے کپڑوں کو سلائی، مرمت کی ضرورت نہیں رہی۔ ہم سمجھتے ہیں یہ غیر اہم سی چیز، یہ مشین اب کس کام کی رہی؟ حالانکہ یہ ہم سب کے گزشتہ سے پیوستہ ہے۔ اگر یہ مشین آپ کے گھر میں موجود ہے تو اسے صاف کر کے اسی جگہ سجا دیں جہاں اماں اسے بہت اہتمام سے رکھتی تھیں۔ اسے صاف کریں۔ ماں سلامت ہے تو اسے اس کی یادوں کا تحفہ واپس دیں۔ اس کی جوانی کی سب سے خوبصورت مشین واپس کریں۔

اس مشین کو کباڑی کو بیچنے سے چند سو روپے ہی ملیں گے مگر آپ اپنے ماضی کا کھلونا کھو دیں گے۔ یادیں بیچ ڈالیں گے۔ یہ کھلونا کوئی واپس نہیں لا کر دے گا۔ اس کھلونے پر آپ اور آپ کی والدہ محترمہ کی ہتھیلیاں چسپاں ہیں۔ یادوں کی کڑھائی کی گئی ہے۔ محبت اور انسیت کی بیلیں بنائی گئی ہیں۔

یاد رکھیں، ہر مہنگی چیز خوشی کا سبب نہیں ہو سکتی۔ کبھی کبھار پرانی چیزیں بھی ہماری زندگی میں کچھ نیا پن لا سکتی ہیں۔ ہمیں ماضی کی ہوا کے جھونکے میں چند لمحے آنکھیں موند کر سلائی کرتی اماں دکھا سکتی ہیں۔ وہی اماں جو ہمارے آرام، سکون اور اطمینان کے لیے بے آرامی، بے سکونی پسند کرتی تھیں۔ وہ اماں جو سلائی مشین چلاتے چلاتے سر اوپر اٹھا کر ہلکا سا مسکراتی تھیں یا کسی غلطی پر غصے بھری نظروں سے گھورتی تھیں۔ یقین مانیں، مشین دونوں صورتوں میں کبھی نہیں رکتی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply