یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


”حصول تعلیم ہر بشر کا حق ہے۔‘‘ اکثر و بیشتر یہ جملہ سماعتوں سے ٹکراتا ہے۔ مگر نہایت دکھ کی بات یہ ہے کہ ہر طبقہ تعلیم جیسی نایاب دولت سے مستفید نہیں ہو پاتا۔ خاص طور پر غریب طبقہ جو ہمہ وقت زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں مصروف رہتا ہے، تاحیات پیٹ بھرنے کے لیے تگ و دو کرتا ہے، روٹی کے حصول کے لیے جیتا ہے اور آخر کار زندگی کی سانسیں پوری کر کے اس جہاں سے کوچ کر جاتا ہے۔

عموماً ہر غریب شخص کی کہانی روٹی کے گرد ہی منڈلاتی نظر آتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ غریب طبقہ وسائل کی کمی کا شکار ہوتا ہے، خود بھی علم سے محروم ہوتا ہے، علم کی اہمیت سے آگاہی نہیں ہوتی، جس کے باعث اپنی اولاد کو تعلیم حاصل نہیں کروا پاتا۔ مگر غریب طبقے کے بچوں کا غربت کی وجہ سے تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ ہونا، ریاست، حاکم وقت اور صاحب حیثیت افراد کے منہ پر طمانچہ ہے ، کیوں کہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے، اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کا خیال رکھے۔ ان کے روشن مستقبل کے لیے فکر مند رہے۔ اسی طرح صاحب حیثیت اشخاص اور اہل علم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نادار لوگوں کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں مستحکم بنانے کے لیے ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں۔

گلی، محلوں اور بازاروں میں پھرتے جھگیوں میں رہنے والے بچوں کی طرف دیکھ کر اکثر اوقات میرے ذہن میں یہ خیال گردش کرتا تھا کہ جو بچے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس، در در جا کر چند سکوں کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں، ان کے نزدیک زندگی کیا ہوتی ہو گی؟ کیا وہ زندگی کے معنی سے واقف ہوں گے؟ کیا ان کی ننھی آنکھوں میں بھی روشن مستقبل کے خوابوں نے بسیرا کیا ہو گا؟ کیا وہ علم حاصل کرنا چاہتے ہوں گے؟ یا ان کے نزدیک حیات بے معنی شے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ؟

ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے اور جھگیوں میں مقیم افراد کو علم کی ماہیت سے آگاہ کرنے کے لیے ایک دن ہم چند دوستوں نے مل کر جھگیوں میں جانے کا فیصلہ کیا۔

حقیقت میں ہمیں ان کے پاس جاتے ہوئے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ بچپن سے لے کر جوانی تک ہم اس مفروضے پر یقین کرتے رہے ہیں کہ یہ لوگ غیر اخلاقی کاموں میں ملوث ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس بات میں سچائی صرف اتنی ہے کہ یہ لوگ آگاہی سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ جھگیوں کے قریب پہنچتے ہی لاتعداد وسوسوں نے ہمیں الجھن کا شکار کر دیا مگر ہم اپنے خیالات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھ گئیں۔ ایک سانولے مگر پرکشش رنگ کی عورت ہمارے پاس آئی، اس کے تاثرات سے واضح تھا کہ وہ جاننا چاہ رہی تھی کہ ہم کون ہیں اور ہمارے آنے کا کیا مقصد ہے۔

سلام دعا کے بعد ہم نے عورت سے عرض کیا کہ ہمیں یہاں پر رہنے والے تمام افراد سے ملنا ہے، مہربانی فرمائیں اور سب کو ایک جگہ اکٹھا کر دیں۔ مختصراً یہ کہ چند منٹوں میں تقریباً 20 لوگ ہمارے آس پاس جمع تھے۔ ہم نے اپنا تعارف کروایا اور انہیں تعلیم کی اہمیت بارے بتایا۔ جب ہم نے انہیں یہ بتایا کہ ہم ان کے بچوں کو پڑھانے کے لیے ان کے پاس خود آیا کریں گے، ان کی آنکھوں میں یک دم چمک پیدا ہوئی۔ اس سے پہلے کہ ہم مزید کچھ بولتے، ایک مرد نے کہا: کیا آپ حکومت کی طرف سے آئے ہیں؟ ابھی اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا تھا کہ دوسری عورت بولی: ”باجی کیا ہمارے بچے وردی پہنیں گے؟“

ایک اور عورت اٹھی اور کہنے لگی کہ باجی میرا بہت دل ہے کہ میرا بچہ افسر بنے۔ ان کی باتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ سب لوگ کسی مسیحا کے منتظر ہیں جو انہیں جہالت سے نکال کر روشنی کی طرف روانہ کر دے۔ باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ہم نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ ان کے بچوں کو تعلیم ہم دیں گے۔ گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔

آخر میں کچھ رسمی کلمات ادا کیے اور ہم لوگ واپس آ گئے مگر تعلیم کے نام پر ان کی چمکتی آنکھیں، جذبات سے بھرپور تاثرات میرے دماغ میں نقش ہو گئے۔ میں یہ دیکھ کر ششدر رہ گئی کہ جنہیں لوگ گنوار سمجھتے ہیں، وہ خود کو جہالت سے نکالنے کے لیے کس قدر بے تاب ہیں۔ جنہیں ہم حقیر جانتے ہیں، ان کی آنکھیں ہماری منتظر ہیں۔

ان کے تأثرات مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر گئے کہ آخر کیا وجوہات ہیں کہ ہم ہر روز لاتعداد لوگوں کو پسماندہ زندگی گزارتے دیکھتے ہیں مگر ہمارے سینے میں دھڑکتا دل کسی پہ رحم نہیں کھا رہا؟

آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ہر شے سے بے نیاز فقط اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے زندگی کے دن بسر کیے جا رہے ہیں؟

اس بے حسی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم سب نے اپنے اندر خواہشات کے بتوں کو جنم دے دیا ہے، دن چڑھتے ہی ہم ان بتوں کو خوش کرنے کے لیے جدوجہد شروع کر دیتے ہیں، سارا دن اپنی خواہشات کے بتوں کو پوجتے ہیں۔ جیسے ہی رات ہوتی ہے ہم گمنامی کی نیند سو جاتے ہیں یا اس سوچ میں ہماری راتیں گزر جاتی ہیں کہ اگلی صبح کن طریقوں سے خواہشات کے بتوں کو خوش کرنا ہے۔ خود غرضی کے ان بتوں نے ہمیں ایک دوسرے سے کوسوں دور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم انسانیت کے دکھ کے احساس سے محروم ہو چکے ہیں ۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا شمار عظیم انسانوں میں ہو، ہمارا معاشرہ معتبر ہو تو سب سے پہلے ہمیں بت شکن بننا ہو گا کیوں کہ دور حاضر کسی براہیم کی تلاش میں ہے جو ہمارے اندر جنم لینے والے بتوں کو توڑ سکے تاکہ ہم ایک ڈوری میں بندھ جائیں، علم کی مشعل کو ہاتھ میں پکڑ کر ہر جگہ روشنی بکھیریں، معاشرے کو تنزلی کا شکار ہونے سے بچائیں۔ اسی میں ہماری بقاء ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سدرہ کمال کی دیگر تحریریں

Leave a Reply