زندہ لاش(افسانہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قندھار شہر کے آسمان میں سرمئی بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ وقفے وقفے سے بجلی ایسے کوندتی گویا شہر جلا کر راکھ کر دے گی۔ تیز ہوا نوجوان بیوہ کی مانند سسک رہی تھی۔ اچانک بادلوں نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ تیز بارش سے یوں سڑک پر جگہ جگہ پانی کے بلبلے بننے لگے تھے جیسے کوئی مریض جان دینے سے قبل اپنے لبوں پر آکسیجن کے آخری گھونٹ مانند بلبلے چھوڑ رہا ہو۔ بیس سالہ سپوژمئی ہسپتال میں، ایک کمرے کی کھڑکی کے شیشے پر ماتھا ٹکائے باہرسڑک پر جھانک رہی تھی جہاں بنتا ہر بلبلہ انسانوں کی نکلتی روح کا منظر پیش کر رہا تھا۔

سپوژمئی کی عمر ابھی بارشوں میں بھیگنے، بازو پھیلا کر ہر بوند کو اپنے جسم کی خوشبو سے معطر کرنے کی تھی مگر انسان کی سوچ ہی جب پریشان ہو تو پھر کائنات کے سب رنگ پھیکے، ہر خوشبو سرانڈ اور ہر پھول کانٹوں بھرا ببول کا پھول لگتا ہے۔ چند ماہ سے وہ ہسپتال میں ڈبل ڈیوٹی کر رہی ہے کیونکہ طالبان کی جانب سے سڑک کنارے نصب ایک بم دھماکے میں اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید زخمی ہو کر بستر سے آ لگے تھے۔ والدہ پہلے ہی بیمار رہتی تھیں۔ اب والد کے ساتھ پیش آئے اس حادثے نے انھیں معاشی طور پر بدحال کر دیا تھا جس کی وجہ سے اب سپومئی دن میں صرف چند گھنٹے ہی گھر پر گزار پاتی تھی۔

دن کو وہ اس معروف پرائیویٹ ہسپتال کے وارڈ میں کام کرتی اور رات کو اسی ہسپتال میں موجود ایک صاحب ثروت خاتون کی تیمارداری کرتی جس کے اسے نہ صرف اچھے پیسے مل جاتے بلکہ چند گھنٹے اس خاتون کے ساتھ گپ شپ لگانے کے بعد جب وہ خاتون سو جاتیں تو سپوژمئی بھی آرام کر لیتی، مگر نہ جانے آج کی رات میں ایسی کیا بات تھی کہ سپوژمئی باوجود کوشش کے ایک پل نہ سو پائی۔ جن بادلوں کی سرمئی رنگت دیکھ کر اس کا من قوس قزح کی طرح رنگوں سے بھر جاتا۔ کڑکٹی بجلیوں کی جلترنگ پر اس کا تھرکنے کو من کرتا تھا ، آج وہی بجلیاں وہی بادل اسے موت کا پیغام سنا رہے تھے۔

کچھ دیر کو بارش تھمی تب اسے آسمان پر ہر سو بڑے بڑے آگ کے الاؤ تیرتے نظر آنے تھے۔ پھر سار اشہر شدید دھماکوں سے گونج اٹھا تھا۔ قبل اس کے کہ وہ ان دھماکوں کی وجہ سمجھ پاتی ہسپتال کی عمارت کسی تھکی ہاری بوڑھی عورت کی طرح زمین پر آ گری۔ پھر اس کی آنکھ مہاجر کیمپ کے ایک ہسپتال میں کھلی تھی جہاں ہر طرف دھماکوں سے ہوئے زخمی مرد و زن بھرے ہوئے تھے۔ اسے بتایا گیا کہ طالبان نے شہر پر شدید حملہ کیا تھا اور اب وہ قندھار شہر کا کنڑول سنبھال چکے ہیں۔

اس کے والدین اور شہر کے دیگر کئی لوگ ان حملوں میں لقمہ اجل بن گئے تھے ، ایک این جی او بڑی مشکل سے ہسپتال کے مریضوں کو نکالنے میں کامیاب ہو پائی تھی۔ یوں وہ بھی ہسپتال کے دیگر مریضوں کے ساتھ بچا کر اس مہاجر کیمپ میں لائی گئی تھی۔ اب قندھار واپس جانا ناممکن تھا۔ اللہ کا کرم رہا کہ وہ زیادہ زخمی نہ تھی ، اس نے دو چار دن آرام کیا اور زخموں کے کچھ مندمل ہوتے ہی اٹھ کر زخمی خواتیں کی تیمارداری میں مصروف ہو گئی تھی۔

۔ ۔ ۔

وقت کا پہیہ گھومتا رہا وہ بیس سالہ حسین خوبرو جوان سپوژمئی اب ادھیڑ عمر خاتون کے روپ میں کوئٹہ شہر میں ایک اپنی ہم عمر نرس امینہ گل کے ہاں ملازمہ ہے۔ سپوژمئی نے آج سے کوئی چوبیس پچیس سال قبل اس گھر میں بطور ملازمہ کام کرنے کی ہامی اس لیے بھری تھی کہ اس کی پشتون مالکن اور اس کے حالات زندگی کافی ملتے جلتے تھے۔

امینہ گل افغانستان اور پاکستان کے بارڈر پر موجود ایک انتہائی پسماندہ گاؤں کی پہلی نرس تھی۔ اس نے قوم قبیلے کی روایات سے بغاوت کر کے نرسنگ کا کورس کیا تھا۔ اس گستاخی پر قوم والے اس کی جان کے دشمن ہو چکے تھے ، اس لیے وہ ملازمت کے بعد سے اپنے علاقے واپس نہیں گئی۔ دونوں کے درد اور پروفیشن مشترک تھا تو کام کے ساتھ ساتھ دنیا والوں کے سلوک، ہسپتالوں کے مسائل، مریضوں کی نفسیات اور نت نئی بیماریوں اور جدید طریقہ علاج کے بارے میں بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ امینہ گل نے بھی اس کی طرح زندگی تنہا گزارنے کا فیصلہ کیا تھا اور اب تک شادی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے سپوژمئی کو اس کے ہاں کام کرنے میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہوتی۔

چند روز سے اس کی مالکن امینہ گل بتا رہی تھی کہ چین میں فلو کا ایسا وائرس آیا ہے جو اس سے قبل انسان نے نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کا کوئی علاج موجود ہے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے ایران سے یورپ تک ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سپوژمئی حیرت سے اس وائرس کی تباہ کاریوں کے بارے میں سنتی اور سوچتی کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ خدا کی سب سے ذہین مخلوق ایک معمولی وائرس کے سامنے بے دست و پا ہو۔ وہ سارا دن کام گھر کا کام کرتی رہتی جبکہ مالکن ہسپتال سے واپسی پر ٹی وی لگائے اس وائرس کی تباہ کاریاں سن سن کر خوف زدہ رہنے لگی تھی۔

کام کاج سے فارغ ہو کر سپوژمئی کچی بستی میں ایک کمرے کے مکان پر مشتمل اپنے گھر چلی جاتی۔ ویسے اس کا زیادہ وقت اپنی مالکن امینہ گل کے گھر گزر جاتا اور رات خدا سے اپنے دکھ درد بیان کرتے بیت جاتی تھیں۔ آج رات میں نہ جانے ایسا کیا تھا کہ اس کے ذہن پر قندھار میں گزری زندگی اور بیتے دنوں کی فلم خودبخود چلنے لگی تھی۔

آج پھر ویسی کی رات تھی۔ ویسی کی خنک ہوائیں شہر کی گلیوں میں بین کر رہی تھیں، بادل جوان بیوہ کی سرمئی مست آنکھوں کی مانند برسنے کو تیار تھے۔ بجکیاں ایسے کڑک رہی تھیں جیسے شہر میں کسی گناہ گار کا گھر خاکستر کرنے کو بے تاب ہوں۔ ساری رات وہ خدا کے سامنے گڑگڑاتی رہی کہ مولا اب اپنی مخلوق پر رحم کرنا ان پر کوئی عذاب مسلط نہ کرنا۔

خدا خدا کر کے صبح ہوئی اور وہ ایک پیالی سبز چائے پی کر اپنی مالکن کے گھر جا پہنچی۔ مالکن وائرس کو بددعائیں دیتے ہوئے ہسپتال جانے کی تیاری کر رہی تھی۔ سپوژمئی نے اس کے بتائے طریقے کے مطابق اچھی طرح رگڑ رگڑ کر صابن سے منہ ہاتھ دھویا پھر اس کے لیے ناشتہ تیار کر کے میز پر رکھا مگر پریشانی اور خوف نے سسٹر امینہ گل کی بھوک و پیاس اڑا دی تھی۔ اس نے بے دلی سے چند لقمے لیے پھر وائرس سے بچاؤ کیلئے دی گئی کٹ پہنی، ماسک اور چشمہ لگایا اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔

”کیسا میک اپ کیسے کپڑے؟ اس کٹ میں انسان خلائی مخلوق لگتا ہے۔ انسانوں نے اپنی پہچان ہی کھو دی ہے۔ اب جنوں بھوتوں کی نسبت انسان ایک دوسرے سے ڈرنے لگا ہے۔ خدا غارت کرے اس کورونا کو۔“ وہ بڑبڑاتے ہوئے ٹی وی لاؤنج میں لگے قد آدم آئینے کے سامنے سے ہٹی اور ہسپتال جانے کو گھر سے نکل گئی۔ سپوژمئی نے سارا گھر ڈیٹول ملے پانی سے خوب اچھی طرح دھویا اور گھر کے دیگر کاموں میں مصروف ہو گئی۔

شام کو امینہ گل ہسپتال سے آئی تو شدید غصے میں تھی۔ آتے ہی اس نے اپنا ماسک، دستانے اور حفاظتی کٹ غصے سے جلدی جلدی اتارنے کی کوشش کی۔ اس کے گلے میں لٹکا ہوا سروس کارڈ بالوں کی لٹ میں الجھ گیا۔ اس نے منہ بھر بھر کر اس وائرس اور اپنے ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر کو بد دعائیں دیں ، پھر زور لگا کر کارڈ سمیت حفاظتی کٹ، دستانے ماسک اتار کر دروازے کے پاس پھینکے اور سپوژمئی سے کہا کہ انھیں اٹھائے اور باہر لے جا کر دھوپ میں پھینک دے۔ سپوژمئی نے احتیاط سے سارا سامان اٹھایا اور صحن میں پھیلی دھوپ میں رکھ دیا۔ واپس آ کر اچھی طرح ہاتھ منہ دھویا اور مالکن کے لیے ٹیبل پر کھانا لگا دیا۔ مگر امینہ گل آج شدید غصے میں تھی اس نے ایک لقمہ نہ لیا ، وہ مسلسل ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر کو کوس رہی تھی۔ سپوژمئی نے ڈرتے ڈرتے اس سے غصے کی وجہ پوچھی۔

”یہ ایڈمنسٹریٹرسخت قوم پرست، ٹھرکی اور متعصب انسان ہے۔ اپنی ایک دوست نرس کو میری جگہ لگا کر میری پوسٹنگ کورونا وارڈ میں کر دی ہے۔ میری جوتی کرتی ہے اس حکم کی تعمیل۔ تیس سال سروس ہو رہی ہے میری۔ مجھے کیا گولی ماریں گے؟ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا ، مجھے ریٹائرمنٹ لینی پڑ جائے گی، میں وہ لے لوں گی مگر اس کا حکم نہیں مانوں گی۔“ وہ غصے سے پیر پٹختے ہوئے اٹھی، کاغذ قلم اٹھایا، چند روز کی اتفاقیہ رخصت کی درخواست لکھ کر سپوژمئی کے سامنے رکھی ، پھر جلدی جلدی دو چار لقمے کھانے کے بعد اٹھی اور اپنا بیگ تیار کرنے لگی۔

”سسٹر آپ کہیں جا رہی ہو۔“ سپوژمئی نے پریشانی سے پوچھا۔

”ہاں میں چند دن کی رخصت لے کر اپنی ایک بلوچ سہیلی کے گاؤں جا رہی ہوں ، وہاں نہ لائن فون اور نہ موبائل کام کرتا ہے۔ بجلی بھی نہیں۔ یہاں تو کورونا وارڈ میں ڈیوٹی دینے اور اس منحوس کورونا کی خبریں سن سن کر تو میں پاگل ہو جاؤں گی یا مر جاؤں گی۔ ویسے بھی ان کے گاؤں میں صرف چند گھر ہی ہیں ، یوں اس بیماری کے وہاں تک پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ تم نے میرا ہسپتال“ گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ فار چیسٹ ڈیزیز ”تو دیکھا ہے ناں؟ میری یہ درخواست وہاں دے دینا ، میں ہرگز اس کورونا کے دفع ہونے سے قبل واپس شہر آنے والی نہیں۔“ اس نے سامان پیک کرتے ہوئے کہا۔

”سسٹر میرا کیا بنے گا ابھی تو پہلی تاریخ میں کافی دن ہیں۔ پھر آپ کے ساتھ میرا وقت اچھا گزر جاتا ہے ، اکیلی تو میں ویسے ہی مر جاؤں گی۔“ سپوژ مئی روہانسی ہو گئی۔

”تنخواہ کی تم فکر نہ کرو ، میں تمہیں دو ماہ کی ایڈوانس تنخواہ دے دوں گی۔ اگر میرے لیے ممکن ہوتا تو تمہیں لازماً اپنے ساتھ لے جاتی مگر کسی کے گھر ان دنوں یوں رش بنانا اچھا نہیں لگتا۔ تم یہ پیسے لو۔ باہر موجود میری کٹ لے جا کر کچرا کنڈی میں ڈال دینا اور کل یہ درخواست میرے ہسپتال دے دینا۔“ یہ کہہ کر اس نے پرس سے پیسے نکالے اور سپوژمئی کی جانب بڑھا دیے۔ سپوژمئی نے درخواست اٹھائی، پیسے لیے، صحن سے حفاظتی کٹ اٹھائی اور اپنے آنسو پونچھتے ہوئے گھر سے باہر نکل کر پیدل ہی اپنے گھر کے راستے میں موجود کچرا کنڈی کی جانب روانہ ہو گئی۔ ابھی وہ گلی کے کونے تک ہی پہنچی تھی کہ اسے سسٹر امینہ گل بیگ اٹھائے رکشے میں بیٹھتی اڈے کی جانب جاتی نظر آئی۔

۔ ۔

پاکستان بھر میں کورونا کے وار جاری تھے ہر انسان خوف و پریشانی کا شکار تھا۔ پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز نے اپنے کلینکس بند کر دیے تھے۔ اکثر سینئر ڈاکٹرز نے چھٹیاں لے لی تھیں یا ریٹائرمنٹ اپلائی کر دی تھی۔ ٹی وی شب و روز کورونا کے مریضوں اور ہلاک شدگان کے بارے میں بتاتا جس سے عوام میں مزید خوف و ہراس پھیلنے لگا تھا۔ انسان انسانوں سے خوف کھانے لگے تھے۔ تاجروں نے حفاظتی اشیاء سو گنا مہنگی کر دی تھیں۔

اشیائے خور و نوش کے نرخوں کو پر لگ گئے تھے۔ ہر رات چھتوں پر چڑھ کر بے وقت دی جانے والی اذانیں انسانوں کو نفسیاتی مریض بنانے لگی تھیں۔ رمضان کا مقدس ماہ بنا تراویح کے گزر گیا تھا۔ جمعہ نماز کے ساتھ ساتھ شادی ہال، سکولز، پارک، سینما سب بند تھے، غرض کہ دنیا منجمد سی ہو کر رہ گئی، عید نمازوں میں بھی نمازیوں کی چند صفیں ہی بن پائیں تھی۔ ہر طرف سے اموات کی خبریں سننے کو ملنے لگی تھیں۔ فیس بک ٹیوٹر اورالیکڑونک میڈیا پر دن بھر فوت شدگان کے بارے میں اعلانات اور پوسٹس لگتی رہتیں۔

بیماروں کو اچھوت کی طرح سمجھا جانے لگا تھا۔ مریضوں سے سگے بھائی تک ملنے سے کترانے لگے تھے۔ گھر آئے مہمان کو دیکھ کر لوگوں کے چہرے خوف سے پیلے پڑ جاتے تھے۔ امراء کئی ماہ کا راشن لے کر اپنے وسیع عریض فارم ہاؤسز میں منتقل ہو چکے تھے۔ غرباء مہنگائی ، بے روزگاری اور تنگ دستی کی وجہ سے گھر کا سامان بھیجنے لگے تھے تاکہ بچوں کو دو وقت کا کھانا کھلا سکیں۔ چھینکنے یا کھانسنے پر ہمسائے ایک دوسرے کو کورونا ہیلپ لائن پر رپورٹ کرنے لگے تھے۔ ہلاک شدگان کو رشتہ داروں کے حوالے نہ کیا جاتا تھا۔ انھیں ہسپتال انتظامیہ خود ہی غسل دے کر اور نماز جنازہ پڑھ کر شہر میں کہیں دفنانے لگی تھی۔ تعزیت کو کوئی کسی کے گھر نہ جاتا اور نہ مرنے والوں کی فاتحہ یا نذر نیاز کی جاتی تھی۔

اس خطرناک ماحول میں کئی نرسیں ، ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف فرشتے بن کر سامنے آئے ۔ وہ خود کو حفاظتی کٹ میں مکمل چھپائے دن رات کورونا وارڈز میں خوف سے پیلے چہرے لیے ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ اسٹاف کی حاضری کیلئے لگی بائیو میڑک مشینیں بند کر دی گئی۔ ڈاکٹر نرسیں اور دیگر میڈیکل اسٹاف کاؤنٹر پر اپنا سروس کارڈ شو کرتیں جسے سیکورٹی گارڈز ہاتھ لگانے سے بھی کتراتے اور دور سے ہی دیکھ کر جانے کا اشارہ کرتے۔ ہسپتال میں بھی ڈاکٹرز اور نرسیں ایک دوسرے سے دور دور رہتے، کوئی کسی کے وارڈ میں نہ جاتا بلکہ بات تک کرنے سے بھی گھبراتے۔دور دور سے ایک دوسرے کو ہاتھ اٹھا کر سلام کیا جاتا اور پھر سب اپنے اپنے کاموں میں جٹ جاتے۔

وہ پہلے والا ماحول اب نہ رہا تھا ، نہ ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پی جاتی نہ گپ شپ ہوتی۔ ہر انسان کی کوشش ہوتی کہ صرف اپنے کام تک محدود رہے اور دیگر لوگوں سے میل جول نہ رکھے۔ اس پریشانی ، خوف اور بے یقینی کے ماحول میں ڈاکٹرز اور دیگر میڈیکل اسٹاف نے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا اور لوگوں کی جانیں بچائیں ، جب بیوی شوہر سے اور بھائی بھائی سے دور رہنے لگے تھے۔ ڈاکٹرز اور نرسوں نے بیمار اور تنہائی کے شکار لوگوں کا دکھ درد بانٹا ،انہیں بیماری سے لڑنے کا حوصلہ اور انسان ہونے کا احساس دلوایا۔

کوئٹہ شہر میں کورونا کے مریضوں کے لیے مخصوص کیے گئے ہسپتال گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ فار چیسٹ ڈیزیز میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ منگوائے گئے اضافی بیڈ بھی کم پڑ چکے تھے۔ مریضوں کو فرش پر لٹا کر ان کا علاج کیا جا رہا تھا۔ ڈاکٹروں اور دیگر میڈیکل اسٹاف کی انتھک محنت اور ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے خدا کا کرم ہوا ، پھر دو چار ماہ بعد کورونا کا زور ٹوٹنے لگا۔ زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر آنے لگی۔ حکومت نے اس وبا پر کامیابی سے قابو پانے کی خوشی میں کورونا وارڈز میں جانفشانی سے ڈیوٹی دینے اور اپنی زندگیاں ہارنے والے میڈیکل اسٹاف کے ورثاء کے لیے چودہ اگست کو خطیر رقوم اور پاکستان کے اہم اعزازات دینے کا اعلان کیا۔

۔ ۔

چار پانچ ماہ پہاڑی گاؤں میں گزارنے کے بعد کل ہی سسٹر امینہ گل واپس کوئٹہ آئی تاکہ اگلے دن چودہ اگست کی چھٹی پر گھر کی صفائی وغیرہ کروانے کے علاوہ راشن و دیگر ضروری اشیاء بھی خرید سکے۔ اسے اندازہ تھا کہ اس کے یوں ہسپتال سے غیر حاضر رہنے پر ہسپتال انتظامیہ بہت ناراض ہو گی۔ ممکن ہے اسے معطل کر دیا گیا ہو یا اس کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر رکھی ہو جس کی وجہ سے وہ پریشانی کا شکار ہو گئی مگر اسے خوشی تھی کہ اس نے خود کو وبا سے محفوظ رکھا تھا۔

وہ پریشانی اور خوف کے عالم میں گھر سے گئی تھی ، اس لیے گھر کی اکثر کھڑکیاں کھلی رہ جانے کی وجہ سے گھر گرد سے اٹا ہوا تھا۔ اس نے دراز میں رکھا اپنا موبائل نکال کر چارجنگ پر لگایا، آن کیا اور سپوژمئی کو فون ملانے لگی۔ مگر سپوژمئی کا موبائل مسلسل بند جا رہا تھا۔

”مر تو نہیں گئی کہیں۔ کیا معلوم کورونا سے بچنے کو افغانستان اپنے علاقے واپس چلی گئی ہو“ اس نے بڑبڑاتے ہوئے خود ہی صفائی شروع کی اور تھک ہار کر سو گئی۔ اگلے دن اس نے اپنی یونیفارم دھوئی، استری کر کے ہینگر کی، مگر باوجود کوشش کہ وہ اپنا سروس کارڈ نہ ڈھونڈ پائی۔ پھر اسے یاد آیا کہ وہ تو اس نے کورونا یونیفارم کے ساتھ کچرے میں پھینکوا دیا تھا۔

”چلو نیا بن جائے گا۔“ یہ بڑبڑاتے ہوئے اس نے ٹی وی لگایا تاکہ خبریں سن کر تسلی کر سکے کہ واقعی کورونا کی شدت پاکستان میں کم ہو چکی ہے۔

ہر چینل پر یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب براہ راست دکھائی جا رہی تھی۔ صدر پاکستان تمغوں کا اعلان کر رہے تھے۔ جنہیں تمغے مل رہے تھے ، وہ شادمان چہروں سے آ کر اپنے ایوارڈز وصول کر رہے تھے۔ جن کے پیارے کورونا کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی زندگیاں ہار گئے تھے ، ان کے وارث آنسوؤں سے تر چہرے لیے لرزتے ہاتھوں سے تمغے اور خدمات کے عوض ملے امدادی چیک وصول کر رہے تھے۔

”انسان کی جان گئی پیسے کو کیا کرنا ہے، انسان مر کر واپس تو نہیں آ سکتا ناں۔“ اس نے بڑبڑاتے ہوئے اپنے کمرے میں بے ترتیب پڑی چیزوں کو ترتیب سے رکھنا شروع کیا ہی تھا کہ اناؤنسر کے منہ سے اپنے ہسپتال کا نام سن کر وہ چونک گئی۔

اناؤنسر نے اپنے پرتجسس انداز میں ان کے ہسپتال میں کام کرتی کسی نرس کے بارے میں بتانا شروع کیا کہ کیسے ایک نرس نے کورونا وارڈ میں دن رات ڈیوٹی دیتے ہوئے اپنی جان کی بازی ہاری۔ اس کے جذبے اور فرض شناسی کو دیکھتے ہوئے صدر پاکستان کی جانب سے ان کے ہسپتال گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ فار چیسٹ ڈیزیز کو اس نرس کے نام سے منسوب کرنے، نشانِ پاکستان دینے اور ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔ امینہ گل نے ریموٹ سے ٹی وی کی آواز کچھ بلند کی اور صوفے پر بیٹھ کر دلچسپی سے اعلان سننے لگی۔

”انھیں ملنے والا نشان پاکستان گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ فار چیسٹ ڈیزیز کی عمارت میں آویزاں کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں لوگ یہ جان سکیں کہ اس ہسپتال میں کیسی بہادر خاتون ہوا کرتی تھی اور ان کے حوصلہ بڑھانے والا دیگر عملہ بھی بہادری اور فرض شنانی میں اپنی مثال آپ تھا۔ اس بہادر نرس کے کسی وارث نے گزشتہ دو ماہ میں رابطہ نہیں کیا۔ حاصل کی گئی معلومات کے مطابق ان کا تعلق بلوچستان کے قبائلی علاقے سے تھا اور انہوں نے نوجوانی میں خاندانی اور قبائلی روایات سے بغاوت کرتے ہوئے نرس جیسے عظیم پیشے کو اپنایا تھا۔

اس عظیم پیشے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے بہت بڑی قربانی دی ، وہ اس ملک کی نوجوان بچیوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کا کفن دفن بھی پورے اعزاز کے ساتھ فلاحی فاؤنڈیشن کوئٹہ نے کیا تھا۔ اس لیے انہیں ملی انعام کی رقم اسی فلاحی ادارے کو دی جائے گی۔ اب میں محترم وزیر اعظم صاحب سے درخواست کروں گی کہ وہ تشریف لائیں اور اس بہادر خاتون سسٹر امینہ گل کا ایوارڈ وصول کریں۔

امینہ گل کے ہاتھ سے ریموٹ چھوٹ کر فرش پر گرا۔ وہ زندہ لاش کی مانند پھٹی پھٹی نگاہوں سے ٹی وی اسکرین دیکھ رہی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply