پڑھا لکھا جاہل کون ہوتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں تعلیم کا نقطۂ نظر بہت محدود ہے ۔ ہماری تعلیم کا محور صرف اور صرف سرکاری ملازمت کا حصول ہوتا ہے۔ جس دن سرکار کی کرسی مل جاتی ہے ، اسی دن تعلیمی پراسس کو گڈبائے کہہ کر ایک روبوٹک لائف کا آغاز ہو جاتا ہے۔ بنیادی وجہ ہمارا نظام تعلیم و امتحانات ہیں جو ایک طالب علم کی حقیقی صلاحیتوں کو واضح اور اجاگر کرنے میں ناکام رہتا ہے، اس روایتی تعلیمی پراسس میں وہی طلبا اچھے مارکس اور گریڈ حاصل کرتے ہیں جن میں رٹا لگانے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ جو اس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں انہیں ”گدھا، کند ذہن اور نکھٹو“ اور اس کے علاوہ نہ جانے اور کتنے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

حالانکہ گریڈ اور اچھے مارکس کسی طالب علم کی ذہنی صلاحیت کو ماپنے کا کوئی اچھا معیار نہیں ہے۔ تخلیقی صلاحیتیں ان سب معیارات سے اوپر ہوتی ہیں اور یہ ہمارے امتحانی نظام کی بے بسی اور لاچارگی ہے کہ اس کی چھلنی میں رٹو طوطے اوپر آ جاتے ہیں جبکہ اعلیٰ صلاحیت کے طلبا پیچھے رہ جاتے ہیں، اساتذہ بھی ایسے طلبا کو ترجیح دیتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ مارکس لینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس کلاس کو پروان چڑھانے کے لیے شارٹ کٹ طریقے استعمال کر کے سمارٹ سٹڈی کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ مارکس کے لیے تگ و دو کی جاتی ہے ، اس ریس میں زیادہ سے زیادہ پوزیشنز حاصل کرنے کے لیے مختلف پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہزاروں جتن کرتے ہیں، رٹے کی صلاحیت رکھنے والے طلبا پر زیادہ توجہ دے کر ٹارگٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، انہی پوزیشنز کی بنیاد پر یہ تعلیمی ادارے ہر سال اپنے کلاس رومز بھر لیتے ہیں۔

یہ سارا مکروہ چکر ایک طالب علم کی تخلیقی صلاحیتوں کو بنجر بنا دیتا ہے اور ایک ایسے طبقے کو جنم دیتا ہے جن کے پاس اعلیٰ مارکس اور ڈگری ہوتی ہے مگر پریکٹیکل وزڈم اور شعور سے وہ محروم ہوتے ہیں۔ زندگی کے مسائل کو جاننے کے لیے محض ڈگری ہولڈر ہونا کافی نہیں ہوتا، ڈگری تو محض سسٹم کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہوتی ہے جو کچھ مخصوص پروسس کی مشق کرنے کے بعد مل جاتی ہے، اصل تعلیم تو کلاس روم سے باہر ہوتی ہے، اصل دانائی تو پڑھنے کے بعد ڈسکس کرنے سے آتی ہے، مکالمے کے عمل سے ہمارے اندر لاپروائی یا سستی کی وجہ سے جو کچھ چھپا رہ جاتا ہے وہ آشکار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

زندگی کے رازوں کو سمجھنے کے لیے زندگی کا طالب علم بننا بہت ضروری ہوتا ہے، زندگی کا گیان رکھنے والے کچھ بڑے کہتے ہیں کہ ”لفظ کی حقیقت ہر ایک پر نہیں کھلتی“ لفظ ہمیشہ اپنی حقیقت و گہرائی اس پر آشکار کرتے ہیں جو لفظ کے دامن میں اتر جاتے ہیں لیکن یہ چیزیں سیکھنے سے آتی ہیں۔ ہمارے سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں اس قسم کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا اورطلبا کو یہ سکھانے کا کوئی انتظام ہی نہیں کیا جاتا کہ ”سوچا“ کیسے جاتا ہے؟

سوچنے کے لوازمات کیا ہیں؟ کیا معلوم جو ہم سنتے اور پڑھتے آ رہے ہیں وہ درست اور سچ بھی ہے یا نہیں؟ ہو سکتا ہے وہ بار بار بولی جانے والی وہ باتیں ہوں جنہیں بعد میں سچ کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہو؟ اگر سب کچھ پہلے سے سچ ہوتا تو پھر بڑے بڑے اذہان کو اپنے سچ کی بھاری قیمت کیوں چکانا پڑی؟ مگر المیہ یہ ہے کہ ہماری درسگاہیں یہ بنیادی باتیں سکھانے کی بجائے دہائیوں سے قائم شدہ گھسے پٹے نصاب کے گرد کولہو کے بیل کی طرح  طلبا کا طواف کروانے میں مصروف رہتی ہیں اور ہر سال ایک ایسی کھیپ تیار کرتی ہیں جو تنقیدی شعور یا کریٹیکل تھنکنگ سے بالکل معذور ہوتی ہے، رٹے کی مہارت کی بنیاد پر یہ کھیپ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہو جاتی ہے اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد بزرگی کا چولا پہن کر شہاب نامہ جیسی موٹی کتاب لکھ ڈالتے ہیں تاکہ سند رہے، یہی تلقین بابے ہمارے نوجوانوں کے رول ماڈل بن جاتے ہیں، یہ بابے روحانیت اور عقیدت کا منجن بیچ کر جان بوجھ کر شعوری بانجھ پن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نوجوانوں کو یک سمتی سوچ کے دائرے میں دھکیل دیتے ہیں۔

ہمارے رول ماڈل ایسے ہونے چاہئیں جو ہمارے اندر جرأت تحقیق کے جذبے کو ابھاریں، کچھ نیا سوچنے پر اکسائیں ، مونولاگ کی بجائے ڈائیلاگ کلچر کو فروغ دیں کیونکہ علم آج صرف ایک بندے کی جاگیر نہیں رہا بلکہ یہ ہر ایک کی پہنچ میں ہے اور صرف ایک کلک پر جہانِ دانش ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ اب وہ دور ختم ہو چکا ہے جب ایک شخص بڑی کرسی پر بیٹھ کر گفتگو کیا کرتا تھا اور باقی سب خاموشی سے سن لیا کرتے تھے۔ آج ہر کوئی اپنا جہانِ دانش خود قائم کر سکتا ہے۔

طالب علم آل راؤنڈر ہوتا ہے اور خود کو کبھی بھی ایک فیلڈ یا ایک دائرے میں قید نہیں کرتا، میرے خیال میں ایک طالب علم کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو باہر نکالنے کے لیے اپنے ”گڈلک چارم یا گڈلک سمبلز“ کا پتہ ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے intellectualizing process میں نکھار پیدا کر کے ایک شعوری انسان بنے نہ کہ ”اندھا پیروکار یا رٹو طوطا“ ۔ کیونکہ شعور کی منزلوں کو پانے کے راستے میں کوئی چمتکار نہیں ہوتا بلکہ ذہن کو سوچنے پر آمادہ کرنا پڑتا ہے، جس کا بھی دماغ کھل جاتا ہے وہ بیٹھ کر سوچنے لگ جاتا ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم کو جو بتایا جاتا ہے ہم اسی کو من و عن تسلیم کر لیتے ہیں۔ کیا خبر جس بات سے آپ مطمئن ہیں وہ سچ ہی نہ ہو۔ شعوری مچان تک پہنچنے کے لیے ایک طالب علم کے اندر ان باتوں کی پرکھ کی صلاحیت کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اور یہ معیارات مختلف بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ کچھ بھی بنا بنایا نہیں ہوتا بلکہ شعوری طور پر بنایا جاتا ہے۔

1۔ کریٹیکل تھنکنگ کسے کہتے ہیں اوراس کامفہوم کیاہے؟
2۔ تشکیکیت کیا ہوتی ہے اورکیوں ضروری ہے؟
3۔ Between the lines مفہوم کسے کہتے ہیں؟
4۔ Placebo effect کسے کہتے ہیں؟
5۔ Devil ’s advocate پراسس کیا ہوتا ہے؟
6۔ ٹیکسٹ بک وزڈم اور پریکٹیکل وزڈم کیا ہوتی ہے؟
7۔ ان ڈاکٹرینیشن اور برین واش پراسس میں کیا فرق ہوتا ہے؟
8۔ لرن، ری لرن اور ان لرن پراسس کیوں ضروری ہوتا ہے؟

میری نظر میں یہ سب مراحل ایک طالب علم کا زیور یا گڈ لک سمبلز ہیں جن کی بدولت ایک طالب علم شعوری سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے۔ مینٹل جمناسٹک کو سمجھنے کے لیے ایک طالب علم کے پاس بہترین تخلیقی اوزاروں کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ حقیقی تعلیم تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتی ہے اور زندگی کا گیان عطاء کرتی ہے، معاشرتی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سسٹم کی ضروریات کو ضرور پورا کیجیے مگر محض رٹو طوطے بن کر یا روایتی تعلیم پر قانع رہ کر پڑھا لکھا جاہل مت بنیے بلکہ ذہنی طور پر جدوجہد کر کے ایک باشعور انسان بنیے ، ورنہ تو جگالی کا یہ روایتی سسٹم نہ جانے کب سے جاری ہے اور کب تک جاری رہے گا۔

ہر طالب علم اپنی بصیرت و فہم کو پالش کرنے کے لیے اپنا گڈ لک چارم خود تشکیل دے سکتا ہے اسی شعوری پائیدان کی بدولت ہم ڈس انفارمیشن، مس انفارمیشن، مس لیڈنگ انفارمیشن اور falsification کی چین کو سمجھ سکیں گے۔ ان چیزوں کے فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے طالب علمانہ رویے کو بہتر بنانا ہو گا، طالب علمانہ رویے میں رائے اور ڈسکشن کو اہمیت دی جاتی ہے اور کٹر پن کو جاہلانہ روش تصور کیا جاتا ہے، سیکھنے، جاننے، آگے بڑھنے اور شعوری بالیدگی کے لیے عاجزانہ روش بہت ضروری ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply