پردیس میں مسیحا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ تینوں باپ اور دو بیٹے ٹارچ کی روشنی میں ہمیں اونچی نیچی گلیوں میں سے گزار کر اپنے گھر لے جا رہے تھے۔ اور ہم رات کے گھپ اندھیرے میں دس بارہ لوگ بچوں اور سامان اٹھائے ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ اور دل ہی دل میں اپنے رب کائنات کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اس ویرانے میں، جہاں نہ کوئی ہوٹل تھا، نہ کوئی جاننے والا تھا، کس طرح یہ لوگ ہمارے لئے رحمت ایزدی بن کر آ گئے تھے۔

یہ کئی سال پہلے کی بات ہے، جب ہر سال کی طرح گرمیوں کی چھٹیوں میں سیر و تفریح کے لئے شمالی علاقوں میں پہاڑوں پر جانے کا پروگرام بنا، سو اس دفعہ کھنیاں کی خوبصورت وادی، جو کاغان اور پارس کے درمیان دریا کے کنارے واقع ہے، وہاں جانے کا پروگرام بن گیا اور اپنی فیملی کے دس بارہ لوگوں کا یہ قافلہ دو گاڑیوں میں لدا پھدا روانہ ہو گیا۔ تمام سفر بخیر و عافیت ہی کٹ گیا تھا۔ سہ پہر تین بجے کے قریب ہم پارس پہنچ گئے۔

سڑک کے اوپر ہی ایک چائے کا ڈھابہ تھا تو چائے پینے کے لئے ہم بھی رک گئے، اور بچے بھی گاڑیوں سے اتر کے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ ایک دم ہی بادل امڈ امڈ کے آنے لگے کیوں کہ ان علاقوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے، ہم بھی بے فکری سے چائے پینے اور پکوڑے کھانے میں مصروف تھے کہ اچانک شدید طوفان باد و باراں شروع ہو گیا، سب سمٹ کر گاڑیوں میں بیٹھ گئے اور بارش رکنے کا انتظار کرنے لگے، لیکن لگتا تھا آج یہ بادل اپنے جوبن پہ ہیں اور آج مینہ چھاجوں برسے گا۔ دور کہیں سے آواز آ رہی تھی

اے ابر کرم آج اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں

خیر خدا خدا کر کے بارش تھوڑی تھمی تو سوچا اب جلدی جلدی نکلا جائے، کیونکہ منزل آدھے پونے گھنٹے کی دوری پہ تھی۔ جونہی چائے والے ڈھابے سے دائیں طرف مڑے تو دیکھا کہ پانی کا ایک ریلہ ہے، جو بڑے بڑے پتھروں سمیت اوپر سے نیچے کی طرف آ رہا ہے اور لوگ کہہ رہے تھے کہ دوسری طرف جانے والا پل شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے ، اور اب آگے جانا ناممکن ہے۔ اب ہمیں بھی پریشانی لاحق ہوئی، سوچا واپس چلتے ہیں تو پتہ چلا کہ واپس جانے والا راستہ بھی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہو چکا ہے۔

اب کریں تو کیا کریں، وہاں رکنے کی کوئی جگہ نہ تھی، جو چھوٹے چھوٹے ایک دو کمرے تھے ان پہ لوگوں نے پہلے ہی قبضہ جما لیا تھا۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے، ابھی آرمی والے آرہے ہیں اور امید ہے دو گھنٹے تک رستہ کھل جائے گا۔ ہم گاڑی میں بیٹھے انہی سوچوں میں غلطاں تھے کہ ایک باریش بزرگ نے آ کر شیشہ بجایا، میاں صاحب نے شیشہ نیچے کیا اور دعا سلام لینے کے بعد اپنا تعارف کروایا، میں ادھر پارس میں ہی رہتا ہوں اور جس دکان کے آگے آپ کھڑے ہیں وہ میرے بیٹے کی ہے۔میں کافی دیر سے آپ کو دیکھ رہا ہوں، آپ پریشان ہیں، آپ لوگوں کے ساتھ چھوٹے بچے ہیں اور یہ رستہ ابھی کل شام سے پہلے تک کھلنے والا نہیں ہے۔ میرا گھر آپ لوگوں کے لئے حاضر ہے، میرے میاں نے ان کا بہت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں آج ہی رستہ کھل جائے گا، انہوں نے خلوص دل سے دوبارہ دعوت دی اور کہا بہرحال میرے گھر کے دروازے آپ کے لئے کھلے ہیں۔

وقت گزرتا جا رہا تھا اور امید کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا تھا۔ اب پریشانی بڑھتی جا رہی تھی اور ہم کشمکش میں تھے کہ اتنے سارے لوگ اس شریف انسان کو کیوں مصیبت میں ڈالیں۔

اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا اور کچھ بھی سجھائی نہ دے رہا تھا۔ اتنے میں وہی بزرگ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ دوبارہ آتے دکھائی دیے۔ اور بغیر کسی تردد کے کہا اپنی گاڑیاں ایک طرف پارک کریں اور ہمارے ساتھ چلیں۔ اب بحث کی کوئی گنجائش نہ تھی اور ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہ تھا۔ لہٰذا چار و ناچار گاڑیوں سے نکلے اور بچوں اور سامان کے ساتھ ان کے پیچھے چل پڑے۔ ہمارے گھر پہنچنے سے پہلے ہی خواتین خانہ نے دو کمروں میں چارپائیاں ڈال کر بستر بچھا دیے تھے۔

بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لالٹین جل رہی تھی۔ بچوں کے کپڑے وغیرہ بدلنے کے بعد ان کو بستروں میں لٹا دیا۔ کوئلے کی انگیٹھی کی وجہ سے کمرے گرم تھے۔ جونہی ہم تازہ دم ہو کر بیٹھے تو کھانا آ گیا، تازہ پکے ہوئے شوربے والے مرغ کے ساتھ گرم گرم روٹیاں کھانے کا لطف آ گیا، وہ اصرار کر کر کے ہمیں کھلا رہے تھے، وہ بزرگ جن کو ان کے بیٹے شاہ صاحب کہہ رہے تھے، بہت محبت اور اپنائیت کا اظہار کر رہے تھے۔ ہم اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہے تھے جس نے رحمت کا فرشتہ بنا کے شاہ صاحب کو بھیج دیا تھا۔

بہت آرام دہ رات گزارنے کے بعد صبح بہت پر تکلف ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پھر شاہ صاحب ہم خواتین کو اندرون خانہ اپنے گھر کی خواتین سے ملوانے لے گئے، وہ بھی بہت محبت اور خلوص سے ملیں، اور ہم ایک انجانے دیس میں بہت پر خلوص اور محبت کے خمیر میں گندھے ہوئے لوگوں کے درمیان بیٹھے اس ذات پاک کا شکر ادا کر رہے تھے۔ رستہ کھلنے کا تاحال کوئی پتہ نہیں تھا۔ ہم کھانا پکانے کی کچھ چیزیں ساتھ لے کر گئے تھے۔

شاہ صاحب سے اجازت لینے کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے کو ساتھ لے کر دریا کے کنارے جا کر کھایا پکایا اور خوب انجوائے کیا۔ کوئی تین بجے کے قریب نوید ملی کہ رستہ کھل گیا ہے، ہم نے بھی تیاری پکڑی اور خواتین خانہ کو ملنے گئے تو بطور اظہار محبت کے بچوں کو کچھ پیسے دینے کی کوشش کی جو اس فرشتہ سیرت انسان شاہ صاحب نے یہ کہہ کر لوٹا دیے کہ اس طرح ہم یہ پیسے نہیں لے سکتے ۔ آپ مصیبت زدہ تھے اور ہم نے آپ کو پناہ دی تھی، جب آپ اگلی دفعہ اپنی خوشی سے ہمارے گھر آئیں گے تو ہم ضرور لے لیں گے۔ ہم ان کی بے لوث چاہتوں کو سمیٹتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گئے۔

یہ واقعی سچ ہے کہ محبت کو رشتے داری کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ رشتے داری کو محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔

گھر واپس آ کر میرے میاں نے ان کو فون کر کے بہت شکریہ ادا کیا اور ہمارے پاس گوجرانوالہ آنے کا کہا، وہ ہمارے پاس تشریف لائے، ہمارے والدین نے ان کی بے مثال محبت کا بہت شکریہ ادا کیا، ان کی پارس میں کپڑے کی دکان تھی،  اس لئے انہوں نے گوجرانوالہ سے کپڑا خریدا تو ان کے پاس پیسے کم پڑ گئے۔ احمد (میاں صاحب ) نے بہت کہا کہ میں پوری رقم دے دیتا ہوں پھر آپ مجھے دے دیں، لیکن اس وضع دار شخص نے فوراً چیک کاٹ دیا اور کہا کہ میں واپس جاؤں گا، پھر آپ چیک کیش کروا کے مجھے کپڑا بھجوا دینا، زندگی کا کیا پتہ میں گھر بھی نہ جا سکوں اور آپ کا قرض ادا نہ کر سکوں۔ شاید دنیا میں تھوڑا بہت سکون ایسے اصول پرست انسانوں کی وجہ ہی سے ہے۔

شومئی قسمت جب 2005 میں زلزلہ آیا تو اس تباہی میں ایک بدقسمت علاقہ پارس بھی تھا۔ اس وقت احمد ملک سے باہر تھے، وہ واپس آئے تو ہم نے بہت کوشش کی مگر رابطہ نہ ہو سکا۔ پھر اتفاق سے ان کے بیٹے کا کالم جنگ اخبار میں چھپا کہ ہم پچھلے ایک سال سے بے یارومددگار مانسہرہ میں ہیں اور گورنمنٹ ہمارے لئے کچھ نہیں کر رہی۔ احمد نے دیے گئے فون نمبر پر رابطہ کیا تو پتہ چلا ان کا گھر سارا ملیا میٹ ہو گیا ہے اور وہ اپنی ایک بہو اور پوتی کو اس آسمانی آفت میں کھو چکے ہیں، اور مانسہرہ کسی رشتے دار کے گھر پناہ لی ہوئی ہے۔

بے پناہ صدمہ ہوا کیونکہ جب ہم پارس پہنچے تھے تو ایک خوبصورت دو منزلہ گھر جو گاؤں میں سب سے نمایاں تھا اور ہم نہیں جانتے تھے کہ اسی خوبصورت گھر کے مکیں ہمارے لئے باعث رحمت بنیں گے، شاید آزمائش میں بھی رب ذوالجلال اپنے پیاروں کو ہی ڈالتا ہے۔ پھر ہم مسلسل ان سے رابطے میں رہے، احمد ان کو جا کر ملے، تب وہ پارس واپس آ گئے تھے اور اپنا گھر تھوڑا بہت بنا لیا تھا، انہوں نے بتایا کہ ہماری مدد صرف فارن آرگنائزیشن نے کی ہے۔ ہماری مملکت خداداد کے ہر دور کے حکمرانوں کی حالت زار پہ سوائے کف افسوس ملنے کے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

دو سال پہلے ہم بچوں کے ساتھ ان کے گھر گئے تو دیکھ کر خوشی ہوئی، وہ اپنا گھر مکمل بنا چکے ہیں اور ابھی بھی ساتھ ساتھ بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شکر الحمدللہ آج وہ بہت خوشحال زندگی گزار رہے، بچوں کے کاروبار خوب پھل پھول رہے ہیں، بے شک اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ کچھ مہینے پہلے شاہ صاحب بیمار ہوئے تو ان کے بیٹے کا احمد کو فون آیا، شاہ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں، احمد فوراً چلے گئے، اور بقول احمد کے ان کی آنکھوں میں تشکر کی چمک دیکھ کے میری ساری تھکاوٹ دور ہو گئی۔

ایسے بے مثال انسان سے ربط اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے اور رب کریم ہمیں ان نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply