اب مولانا طارق جمیل بھی کپڑے بیچیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا طارق جمیل کے متعلق جیسے ہی یہ خبر پھیلی کہ وہ جنید جمشید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایم ٹی جے کے نام سے فیشن مارکیٹ میں داخل ہو گئے ہیں اور کپڑوں کا کاروبار کرنے لگے ہیں، تو شریکوں کو گویا آگ ہی لگ گئی۔ حالانکہ اس بات پر تو مولانا کی تعریف کی جانی چاہیے کہ بعض دوسرے لوگوں کی طرح انہوں نے مذہب کو کاروبار بنانے کی بجائے کپڑے کو کاروبار بنایا۔ اس کاروبار پر ایسا غل مچا کہ مولانا طارق جمیل کو بیان دینا پڑا کہ ”مولوی کا تصور ہے کہ وہ بھیک مانگتا ہے اور وہ لوگوں سے مانگتا ہے۔ ہم نے کسی کاروباری نیت سے یہ کام نہیں کیا، کسی کے مقابلے میں نہیں کیا۔“

بات تو درست ہے۔ سنہ 1980 سے پہلے مولوی اور مدرسے کا یہی تصور تھا کہ وہ چندے پر چلتا ہے۔ دیہات میں جہاں دیگر پیشوں از قسم نائی، جولاہا، ترکھان، مصلی، میراثی کے لیے گاؤں والے فصل کا حصہ مختص کرتے تھے وہیں مولوی کا بھی ہوتا تھا۔ پھر جنرل ضیا کا جہاد آ گیا۔ افغانستان اور کشمیر کے نام پر مذہب کو کاروبار بنانے والوں نے خوب کمائی کی۔ مولانا طارق جمیل اس کمائی سے دور رہے۔

بہرحال ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مولوی کے چندہ لینے پر اعتراض کیوں ہے؟ اب دیکھیں کہ ولایت میں بڑی بڑی فلاحی تنظیمیں بھی تو چندے پر چل رہی ہیں۔ بلکہ اب تو لوگ فلاحی مقاصد کے علاوہ اپنے کاروبار، تعلیم یا صحت وغیرہ کے لیے بھی کراؤڈ فنڈنگ کر لیتے ہیں۔ اب بندہ اسے کراؤڈ فنڈنگ کہہ دے تو قبول ہے چندہ کہہ دے تو برا ہے۔ حتیٰ کہ اب پرنٹ میڈیا کے زوال کے بعد سے مشہور انگریزی اخبار گارجین نے یہ ریت بھی ڈالی ہے کہ سبسکرپشن کے علاوہ بھی ہر خبر کے نیچے لوگوں سے عطیات کی اپیل کر دیتا ہے کہ ایک دو پاؤنڈ دیتے جاؤ۔

مولانا طارق جمیل نے کاروبار شروع کرنے کی وجہ بتائی کہ ”پچھلے سال ( 2020 ) بلکہ اس سے پچھلے سال ( 2019 ) جب کرونا کی لہر چلی تو کاروبار ٹھپ ہو گئے۔ میں نے کہا کہ میں نے کسی سے چندہ نہیں مانگنا۔“ بات تو درست ہے۔ واقعی 2019 میں بہت سے لوگوں کے کاروبار کرونا کے سونامی کی وجہ سے برباد ہوئے۔

مولانا طارق جمیل کا فیشن برانڈ اپنی کمائی سے مدارس چلائے گا۔ مشہور بات ہے اور مولانا خود بھی بتا چکے ہیں کہ امام ابو حنیفہ بھی کپڑے کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ ہمیں امید ہے کہ مولانا طارق جمیل بھی امام اعظم کے اصولوں کے عین مطابق یہ برانڈ چلائیں گے، یعنی مال کھرا ہو گا اور منافع بہت معمولی۔ اطلاعات کے مطابق یہ برانڈ شلوار قمیض اور کرتے فروخت کرے گا۔ یعنی ایک شلوار سوٹ اگر کمپنی کو چھے سو روپے میں پڑتا ہے تو اس پر معقول منافع لگا کر یہ آٹھ سو ہزار روپے میں فروخت کر دیا جائے گا۔ اگر قوم کو ایک برانڈڈ لباس ہزار روپے میں مل جائے تو اور کیا چاہیے جبکہ ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ برانڈ کے نام پر فسق و فجور کی منڈی گرم ہے اور لوگ پانچ سو روپے کا کپڑا پانچ دس ہزار روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مولانا طارق جمیل ایسا نہیں کریں گے۔

ویسے بھی اسلام میں اصراف سے منع کیا گیا ہے اور ایم ٹی جے کمپنی کا پروفائل یہ بتا چکا ہے کہ کاروبار مولانا کے زیرنگرانی چلایا جائے گا۔ یعنی توقع ہے کہ یہ قوم کو کنزیومرازم کی لہر میں بہا کر اپنے پیسے کھرے کرنے کی بجائے واجبی منافع لے گا اور مولانا کے نام کی بجائے کپڑے کے دام وصول کرے گا۔

مولانا طارق جمیل کے برانڈ سے پہلے عالم آن لائن عامر لیاقت حسین بھی اپنے کپڑے بیچ چکے ہیں۔ جنید جمشید مرحوم کا بھی ایسا ہی کاروبار موجود ہے۔ یعنی دین کے حوالے سے پہچانے جانے والوں کی موجودہ زمانے میں بھی یہ روایت ہے۔

مولانا کے بیانات کے ہم بھی اسیر ہیں۔ وہ اس کمال سے جنتی حوروں کا نقشہ کھینچتے ہیں کہ دل انہی کا ہو جاتا ہے۔ بندہ ارضی حسیناؤں کے حسن و شباب پر جتنا بھی غور کرے اور ان کے مشاہدے میں جتنا بھی وقت صرف کرے، آخر میں یہی سوچتا ہے کہ اگر یہ کسی قابل ہوتیں تو مولانا سماوی حور کی مثال میں ان کا ذکر کرتے۔

لیکن ایک بات تو طے ہے۔ جنتی حوروں اور ان کو پانے والوں کے بارے میں جیسی مہارت مولانا طارق جمیل کو حاصل ہے، ویسی کسی دوسرے کو نہیں۔ خاص طور پر حوروں کے سراپے، لباس، چال ڈھال وغیرہ کے متعلق ہم معتقدین کو مولانا کے وسیلے سے ہی چشم کشا آگاہی ملی۔ لیکن ایک تشنگی بہرحال رہی کہ مولانا نے جس تفصیل سے حور کا نقشہ کھینچا ہے ویسا ہی اگر جنت میں جانے والوں کا مفصل بیان بھی کر دیتے تو کیا ہی بات ہوتی۔

شکر ہے کہ اب اس ایم ٹی جے لباس کے ذریعے ہمیں بہت کچھ پتہ چلے گا۔ ظاہر ہے کہ اس برانڈ کی ٹارگٹ مارکیٹ جنتی لوگ ہیں۔ فاسقین تو ابھی بھی فرانسیسی فیشن پر جان دیں گے۔ مولانا کے زیر نگرانی یہ لباس گویا جنتی مردوں اور حوروں کے لباس کے مماثل ہی بنے گا۔

ایک کمی بہرحال موجود ہے، مولانا صرف کرتے قمیضیں اور شلواریں بیچیں گے۔ بہتر ہوتا کہ اگر وہ جنت میں جانے والوں کے پہلے لباس جو ان کا آخری دنیاوی لباس بھی ہوتا ہے، اسے بھی اپنے برانڈ کے تحت لانچ کرتے تو معتقدین کے قلوب کو اطمینان میسر ہوتا۔ انہیں مزید اطمینان دلانے کے لیے اس لباس کو مولانا کا سرٹیفیکیٹ بھی دیا جاتا کہ یہ مولانا کے سامان میں بندھ کر مکے مدینے سے ہو کر آیا ہے، اور اس پر مولانا نے خاص دعا بھی پڑھی ہے تو اہل نظر کے لیے اس کی قیمت بھی بہت زیادہ ہوتی۔ مولانا کے ہم جیسے عقیدت مند بھی یہ سوچتے کہ اس لباس کو پہن کر حساب کتاب آسان ہو جائے گا۔ امید ہے کہ مولانا اس معاملے پر ہمدردانہ اور کاروبارانہ غور کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1363 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply