EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

لاہور قلندرز کے ڈائریکٹر کرکٹ عاقب جاوید کی اپنی ٹیم کے بارے میں دلچسپ باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک بھر سے کھلاڑی تلاش کر کے انہیں تراشنے والے عاقب جاوید کا ویڈیو انٹرویو۔ عاقب بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اچھے باؤلر تو آتے ہیں لیکن اچھے بیٹسمین نہ آنے کی کیا وجہ ہے؟ لاہور قلندرز نے ہائی پرفارمنس سینٹر کیوں بنایا؟

لاہور قلندرز کا ہائی پرفارمنس سینٹر کیا پی سی بی کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے بہتر ہے؟ وجہ کیا ہے؟ دونوں میں سہولیات کا کیا فرق ہے؟

لاہور قلندرز کھلاڑی کو شناخت کیسے کرتا ہے۔ اس کا پلان کیسے بنتا ہے؟ اس کی باڈی اور مائنڈ کو کیسے ٹرین کرتے ہیں؟ حفیظ نے خود کو چالیس سال تک مینٹلی اور فزیکلی کیسے فٹ رکھا اور وہ حفیظ کیسے بنے؟

لاہور قلندرز کی ٹیم شروع میں کمزور کیوں تھی اور اب پچھلے سال سے اچانک بہترین پرفارمنس کیوں دینے لگی ہے؟

فخر زمان، شاہین شاہ آفریدی، دلبر حسین، معاذ خان اور حارث رؤف کی تلاش اور تراش کا قصہ۔

لاہور قلندرز کا کپتان سہیل اختر کرکٹ چھوڑ کر ایک آفس جاب کر رہا تھا۔ کسی نے بتایا تو عاقب نے بلا کر دیکھا تو بہت زبردست سکلز تھیں۔ لیکن سہیل اختر کا وزن ایک سو بیس کلوگرام تھا۔ اس پر عاقب جاوید نے ایک سال لگا کر فٹ کیا، پہلے مڈل آرڈر میں کھلایا، اگلے سیزن بطور اوپنر تیار کیا، اور اس سیزن اسے کپتان کے طور پر گروم کیا اور آج وہ لاہور قلندرز کا کپتان ہے۔

فرزان راجہ، دلبر حسین اور دیگر کھلاڑی کیوں عاقب جاوید کی تعریفیں کرتے ہیں؟ نیشنل لیول پر یہ سب کچھ کرنا کیوں ممکن نہیں جو لاہور قلندرز کا ہائی پرفارمنس سینٹر کرتا ہے؟

عثمان قادر تین چار سال پہلے کرکٹ چھوڑ کر آسٹریلیا جا رہا تھا۔ ہم نے اسے ٹرائل میں شناخت کیا، تربیت کے لیے آسٹریلیا بھیجا، وہ تین سال وہاں بگ بیش کھیلا، وہ آسٹریلین ٹیم کے اتنا کلوز تھا کہ وہ آسٹریلوی پرائم منسٹر الیون میں شامل ہو کر انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ آج وہ پاکستانی ٹیم میں ہے۔

یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، لیکن سسٹم اس طرح کا حوصلہ افزائی والا نہیں ہے کہ ہر بچہ جس میں سکل ہو وہ آ سکتا ہو کیونکہ اوپن ٹرائلز اور اس طرح کا سلسلہ تو ہے نہیں۔ ہمارے دروازے تو کھلے ہیں جس نے آنا ہو آؤ۔ ہماری خواہش ہے کہ اس طرح کے لاہور میں چھے سینٹر ہوں جہاں ٹیمیں بنیں اور وہ سال میں آٹھ مہینے لیگ کھیلیں۔

ہمارا سسٹم ایسا ہے کہ آپ سکول کالج بھی جائیں اور ہمارے ساتھ پریکٹس بھی کریں۔ پڑھے لکھے اور گرومڈ بچوں کو کرکٹ کے سسٹم نے باہر کیا ہوا ہے۔ ہم ان کو موقع دے رہے ہیں کہ آپ پڑھو اور اس کے ساتھ اپنا سپورٹس میں کیریئر بناؤ۔

عاقب جاوید، دلبر حسین کی مزے دار کہانی سناتے ہیں۔ دلبر پہلی مرتبہ سٹیڈیم میں آئے تو کیا شوق پورا کیا؟

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے