غنڈے کی دھمکی: اکاؤنٹ فیک تھا یا گرفت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ایک غنڈہ جو ملک کے بچوں کو بے دردی سے شہید کردیتا ہے۔ جسے دنیا کی نمبر ون ایجنسی گرفت میں لیتی ہے، وہ اچانک غائب ہو جاتا ہے۔ حکومت جواب دینے کے بجائے آئیں بائیں شائیں کرتی رہ جاتی ہے۔ کچھ دن بعد وہی غنڈہ ٹویٹر پر کھلے عام ملک کی ایک ایسی بچی کو دھمکاتا ہے جو پہلے ہی گولیاں کھا کر ملک سے دور رہنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔ جب ایک بار پھر سرپرستوں سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ غنڈے کا اکاؤنٹ اصلی نہیں تھا، فیک تھا۔

غنڈہ مجبور ہو کر اپنی آڈیو ریکارڈ کر کے بی بی سی کو بھیجتا ہے کہ برائے مہربانی اس کی غنڈہ گردی کو اصلی سمجھا جائے اور بہت جلد وہ سب کا حساب کتاب کرے گا۔ لیکن ریاست بضد ہے کہ غنڈہ اصلی نہیں دو نمبر ہے۔ چلیں دو نمبر ہی سہی لیکن آج کے دور میں ٹویٹر سے موبائل فون اور موبائل فون سے ٹویٹر استعمال کرنے والے کا پتا لگانا کتنا مشکل کام ہے؟ اور اصلی غنڈہ ابھی تک پکڑا کیوں نہیں گیا؟ اس سوال کا جواب کون دے گا کہ اکاؤنٹ جعلی تھا یا گرفت؟

حکومت کا رویہ تو ایک طرف رہا۔ پھر بات آتی ہے ان عوام کی جن کے لئے اس بچی نے 14، 15 سال کی عمر میں چہرے پر گولیاں کھائی تھیں ، وہ بھی اسے نفرت کا ہی نشانہ بناتے ہیں۔ بچی کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اپنے باپ کے ساتھ لڑکیوں کو تعلیم دلانے کے مشن میں اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا، ایسی جگہ آواز اٹھائی تھی جہاں لڑکیوں کو منمنانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس کے بعد کا واقعہ سب جانتے ہیں کہ کس طرح اسے باقاعدہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے آپریشن کے لیے باہر بھیجا گیا، کس طرح وہ خدا کی رحمت سے زندہ بچی لیکن اس حادثے نے ملالہ کے چہرے کا نقشہ تبدیل کر دیا جس پر ’محب وطن‘ لوگ اکثر اس کے چہرے کی تضحیک کرتے نظر آتے ہیں۔

تمام حکومتیں، فوج اور اسٹیبلشمنٹ میں شامل تمام ادارے ملالہ کے حق میں گواہی دیتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس جان سے مارنا چاہا وہ اے پی ایس لاہور کے ذمہ دار ہیں۔ اے پی ایس کے لیے تو لوگ قاتلوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں مگر وہی غنڈے جب ملالہ کو دھمکاتے ہیں تو عوام کی ہمدردیاں غنڈوں کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ غالباً اس نفرت، حسد اور بے جا جلن کی وجہ ملالہ کا لڑکی ہونا اور زندہ بچ جانا ہے۔ امریکہ سے ہی ادھار اور چندے مانگ کر جینے کے بعد ملالہ کو امریکن ایجنٹ کہنے کی کوئی تیسری منطق تو سمجھ نہیں آتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *