موسموں میں گھلی ہوئی ہماری اردو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہار آتی ہے تو جیسے برسوں سے سوتی شہزادی کی آنکھوں کی آخری سوئیاں کوئی شہزادہ چپکے سے آ کے نکال دیتا ہے اور سونا اور افسردہ شہر جیسے ایک دم سے جاگ پڑتا ہے۔ سوکھ کے ہری ہوتی گھانس کی تازگی اور نئی کونپلوں کی خوشبو ہوا میں بکھر کے نئے نئے نغمے سنانے لگتی ہے۔ کھلتے ٹیولپس کے رنگ ہر سو اپریل کی اولین ہواؤں میں جذب ہونے لگتے ہیں اور خوامخواہ ہی گنگنانے کا دل چاہتا ہے۔

گرمیوں کی شاموں کا اپنا مزاج ہوتا ہے، لمبے لمبے دنوں میں چمکتی دوپہروں کے بعد جب تھکے تھکے بدن ڈھلنے لگتے ہیں تو شفق کے نارنجی رنگوں میں گھل کے شام جیسے آپ کو آہستہ آہستہ تھپکیاں دیتے ہوئے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور جیسے پرندے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔

خزاں مدھم سروں میں گنگناتی نہیں بلکہ پورے سر میں گاتی ہے۔ رنگ الاپ دیتے ہیں اور ہوا تان لگاتی ہیں۔ آنکھیں رنگوں سے جلتے شجروں کے شوخ رنگ دیکھ کے خیرا ہونے لگتی ہیں۔ خزاں کے موسم کا اپنا فسوں ہوتا ہے، گلابی جاڑے کے ہلکے جھونکوں میں ایک الگ سی خوشبو بسی ہوتی ہے۔ رنگوں سے سجی لیکن اداس جیسے کوئی زرق برق، بھڑکتے رنگوں سے سجی سہاگن تو ہو لیکن پیا من نہ بھائی ہو۔ حسین، رنگین، کھلکھلاتی مگر اداس۔

اور سرما کی برف باری۔ کھڑکی سے باہر گرتی موتیوں یا روئی کے گالوں سی نرم برف، اندر آپ کمبل پاؤں پہ ڈالے اس کی گرمائی کو محسوس کرتے اور ساتھ میں ایک اچھی سی کتاب۔ کسی مووی کی طرح رات میں کرسمس کی روشنیوں کے درمیان گرتی ہوئی حسین برف، پس منظر میں رسیلی دھنیں بکھیرتا ہوا آرکسٹرا اور اس میں سرخ و زرد لانگ کوٹ اور جیکٹس پہنے، رنگ بر نگے ٹوپوں اور دستانوں سے خود کو ڈھانپے، لانگ بوٹ پہن کر ہاتھ میں ہاتھ ڈالے خوش گپیاں کرتے ہوئے لوگ یا آس پاس برف سے سفید ہوئے راستوں پہ سبک رفتاری سے چلتی ہوئی گاڑی، شیشے سے ہلکی ہلکی برف کو ہٹاتے ونڈ شیلڈ پہ وائپروں کی ہلچل، سپیکر پہ سماں باندھتے رومانوی گانے ، باہر اسٹریٹ لیپمز کی نارنجی روشنی کو مدھم کرتی برف کی دھند اور گھر میں گرم آتش دان کے قریب بیٹھ کر کافی کا گرما گرم پہلا گھونٹ۔

کیوں مزا آیا نا؟
کتنی حسین ہے اردو کہ جب موسموں میں گھلتی ہے تو انہیں اور بھی خوبصورت بنا دیتی ہے۔

اکیس فروری مادری زبانوں کا عالمی دن ہے، ہر زبان کی اپنی خوشبو ہوتی ہے۔

جس طرح ہر آدمی اپنا لہجہ اور مزاج رکھتا ہے ، زبانیں بھی موسموں کی طرح ایسے ہی نرمی، کرختگی، شوخی اور مہک رکھتی ہیں۔

اردو ہماری زبان ہے اور اس کے بے شمار رنگ ہیں ، بس انہیں اپنانے، جذب کرنے اور محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔
اسے اپنائیں اسے محسوس کریں، اس سے محبت کریں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply