باہمت فرزانہ کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نام: فرزانہ کوثر ٹوانہ
رہائش: اسلام آباد (گاؤں : خوشاب مٹھہ ٹوانہ)
تعلیم: ا۔ ایم ایس سی میتھس ب۔ ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز
شعبہ: ریسرچ افسر (بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز)
‎خاندانی پس منظر:

والدین کا تعلق مٹھہ ٹوانہ کے ایک سادہ زمیندار خاندان سے ہے۔ والد صاحب مختلف کاروبار سے وابستہ رہے۔ خاندان پانچ بہنوں پر مشتمل ہے۔ والدین کو تعلیم سے اتنا لگاؤ تھا کہ بچیاں جب سکول جانے کی عمر کو پہنچیں تو گاؤں کو خیر آباد کہہ کر اسلام آباد منتقل ہو گئے۔

گھر کا ماحول ابتداء سے ہی علم کا گہوارہ رہا۔ بڑی بہن پی ایچ ڈی ہیں۔ باقی چار بہنیں ماسٹرز ہیں۔ ایک بہن کے علاوہ سب نوکری کر رہی ہیں۔ تین بہنیں شادی شدہ ہیں اور خوشحال زندگی بسر کر رہی ہیں۔

پیدائش کے بعد سے ہی صحت کے مسائل کا سامنا رہا۔ بچپن میں ٹائیفائڈ ہوا اس کے بعد مستقل ہڈیوں میں درد رہنے لگا جس نے والدین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ جب ننھی فرزانہ نے نارمل بچوں کی طرح چلنا شروع نہ کیا تو والدین نے مختلف ڈاکٹرز سے رابطہ کیا۔

اسلام آباد کے پمز ہسپتال سے لمبے عرصے تک ایکسرسائزز اور تھراپیز کا سلسلہ چلتا رہا۔ آکیوپنکچر ایک چائینیز طریقۂ علاج ہے۔ اس علاج کو اس زمانے میں بہت شہرت حاصل تھی۔ چائینز ڈاکٹرز سے بھی رائے لی۔ آکیوپنکچر بھی لمبے عرصے تک کرایا لیکن خاص افاقہ نہ ہوا۔

”آسٹیوپراسز سکیلٹل ایمپرفیکٹ“ کا مرض لاحق ہے۔ یہ ہڈیوں کا مرض ہے۔ جس میں ہڈیوں کے بُھرنے اور ٹوٹنے کا عمل عمر کے ایک حصے تک جاری رہتا ہے اس کے بعد یہ عمل رک جاتا ہے۔ سال میں دو چار بار فریکچر کا ہونا معمول سمجھا جاتا ہے۔ ننھی فرزانہ کو بچپن میں متعدد بار فریکچرز کا سامنا رہا۔

فرزانہ نے بچپن سے ہی اپنی معذوری کو دل سے قبول کر لیا تھا،  اس لیے انہیں زندگی میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔بچپن کو بھرپور قرار دیتی ہیں۔ والدین اور بہنوں کی توجہ کا مرکز رہیں۔ بیٹھ کر کھیلنے والے کھیل اور شرارتوں سے خوب لطف اندوز ہوتی تھیں۔ ہر کام خوب دل لگا کرتی تھیں اور جو نہیں کر سکتی تھیں دوسروں کو کرتا دیکھ کر خوش ہو لیتی تھیں۔

فرزانہ کی معذوری کو دیکھتے ہوئے کوئی سکول داخلہ دینے پر راضی نہیں تھا۔ خصوصی تعلیمی ادارے کا آپشن بھی موجود تھا۔ لیکن والدہ کی خواہش تھی کہ فرزانہ عام سکول سے تعلیم حاصل کریں۔ عام بچوں سے مقابلہ کرنا سیکھیں۔

والدہ کی کوششوں سے ایک سرکاری سکول نے فرزانہ کو پڑھانے کی ہامی بھر لی۔ میٹرک اچھے نمبروں سے اسی سکول سے کیا۔ سکول لانے لے جانے کی ذمہ داری والدہ نے اٹھا رکھی تھی۔

والدہ کو بہت شوق تھا کہ فرزانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے۔ اسی لیے فرزانہ گانے، کوئز اور تقاریر میں نہ صرف بھرپور حصہ لیتی تھیں بلکہ ہمیشہ پہلی تین پوزیشنوں میں سے کوئی پوزیشن لیا کرتی تھیں۔

مقابلوں میں والدہ صاحبہ فرزانہ کے ہمراہ ہوا کرتی تھیں۔ اچھی کارکردگی پر بھر پور حوصلہ افزائی کرتیں اور غلطیوں پر محبت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کیا کرتیں تھیں۔

والد صاحب کو یقین ہوا کرتا تھا کہ فرزانہ کا رزلٹ بہترین آئے گا اس لیے رزلٹ کی سالانہ تقریب میں بڑی شان سے جایا کرتے تھے۔

میٹرک کے بعد کالج میں داخلے کے لئے مختلف کالجز کے دورے کیے گئے۔ کالج آنا جانا، رسائی اور بھاگ دوڑ کو دیکھتے ہوئے پرائیویٹ تعلیم کو ترجیح دی۔

میتھس اور سٹیٹس پسندیدہ مضامین رہے ہیں۔ انہی مضامین میں ایف ایس سی اور بی ایس سی کی۔ میتھس میں گہری دلچسپی کی وجہ سے میتھس میں ایم ایس سی کی۔ تعلیمی سفر میں فیملی کی بھر پورسپورٹ فرزانہ کے ساتھ رہی۔ والدین سے صرف اتنا کہنا پڑتا تھا کہ فلاں مضمون کی ٹیوشن کی ضرورت ہے۔ فوری طور پر ہوم ٹیوٹر کا بندوبست ہو جاتا۔ اس طرح تعلیمی سفر پوری آب و تاب کے ساتھ چلتا رہا اور اس میں کبھی خلل نہ آیا۔

پی ایچ ڈی کرنے کی خوائش رکھتی ہیں۔ رسائی کو تعلیم کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔ ایم ایس سی میتھس کے بعد بھی حصول علم کا شوق ختم نہ ہوا تو ورچوئل یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنسز میں داخلہ لے لیا۔ ورچوئل یونیورسٹی کا بیشتر تعلیمی نظام آن لائن تھا۔ لیکن امتحانات کے لئے کمرہ امتحان جانا پڑتا تھا۔ اکثر کمرہ امتحان دوسری، تیسری یا چوتھی منزل پر ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا رہتا تھا۔ والدہ صاحبہ کا ساتھ اور حوصلہ افزائی نے کبھی ہمت میں کمی نہیں آنے دی۔

فری لانسنگ کیوں شروع کی؟

فری لانسنگ میں آپ اپنے ہنر کو آن لائن فروخت کرتے ہیں۔ لانسر زمانہ قدیم کی جنگوں میں استعمال کیے جانے والے تجربہ کار فوجیوں کو کہا جاتا تھا جنھیں جنگ کے اہم موقعوں پر استعمال کیا جاتا تھا جو کمال کے تیر انداز، نیزا باز یا انتہائی تربیت یافتہ گوریلے ہوا کرتے تھے۔ فری لانسر ایسے تجربہ کار افراد کو کہا جاتا ہے۔ جو گھر بیٹھے اپنے ہنر کو آن لائن فروخت کرتا ہے۔ یہ کسی کمپنی کا باقاعدہ ملازم نہیں ہوتا بلکہ کسی مخصوص پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے خدمات سر انجام دیتا ہے۔ فری لانسر وقت اور پابندی کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ یہ اپنی مرضی کے مطابق کام کرتا ہے۔

فرزانہ نے فوٹو شاپ سے اپنے فری لانسنگ کے کیرئیر کا آغاز کیا لیکن اس سے پیسہ نہیں کمایا۔ باقاعدہ فری لانسنگ کا آغاز آن لائن میتھس اور سٹیٹس پڑھانے سے کیا۔ فری لانسنگ سے پہلی آمدنی پچاس ہزار روپے کمانے سے کی۔

فری لاسنگ روزگار کا آزادانہ طریقہ کار ہے۔ جس میں آپ کسی کمپنی کے مستقل ملازم نہیں ہوتے بلکہ آپ ایک ہی وقت میں مختلف کمپنیوں کے لئے کام کر سکتے ہیں۔ فری لانسنگ کی دنیا میں کمپنیاں اپنا کام پراجیکٹ کی صورت میں مختلف ویب سائٹس پر دے دیتی ہیں۔ لانسر اپنی محنت اور قابلیت کی بناء پر پراجیکٹ حاصل کرتے ہیں اور مقررہ وقت میں اسے مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کمپنی اور لانسر کے درمیان پیسوں کا ایک معاہدہ طے پاتا ہے جس کی ادائیگی پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد ہوتی ہیں۔ اس طرح انسان گھر بیٹھے اپنی قابلیت کی بناء پر نوکری سے بہت بہتر پیسے کما سکتا ہے۔

نوکری کا خیال فرزانہ کے دل میں کبھی نہیں آیا۔ 10 سال سے اپنے گھر میں کوچنگ سنٹر چلا رہی ہیں، جس میں میتھ اور سٹیٹس پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فری لانسنگ میں بیرون ممالک کے بچوں کو کوچنگ کراتی ہیں۔ یہ سلسلہ بھی نو سال سے جاری ہے۔

سوشل ورک کے لئے وقت کی ضرورت ہوتی ہے جو فرزانہ کے پاس کم ہی ہوتا ہے۔ ضرورت مندوں کی تلاش میں رہتی ہیں اور حسب توفیق مدد کرتی رہتی ہیں۔

ان کے بقول وطن عزیز کے خصوصی تعلیمی نظام کو مخصوص قسم کی ڈگریوں اور ٹیکنیکل کورسز تک محدود کر دیا گیا ہے۔ جن کا عملی زندگی میں کوئی خاص کردار نہیں۔ سپیشل ایجوکیشن سے ڈگریاں حاصل کرنے والے بیشتر لوگ نوکری کے حصول میں ناکام رہتے ہیں۔

سپیشل ایجوکیشن کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ جن میں نئے کورسز، مارکیٹ کے مطابق ڈگریاں، ٹیچرز کی ٹرینگ اور حصول تعلیم میں ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

وطن عزیز کی پندرہ فیصد آبادی خصوصی افراد پر مشتمل ہے۔ خصوصی افراد کے درست اعداد و شمار کا نہ ہونا، مردم شماری میں خصوصی افراد کی گنتی نہ کرنا اہم ترین مسئلہ ہے۔ درست اعداد و شمار، قوانین اور منصوبہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسرا اہم ترین مسئلہ آگہی کا ہے۔ والدین سے لے معاشرہ تک، خصوصی افراد کے حقوق اور ضروریات سے آگاہ نہیں۔ تیسرا اہم ترین مسئلہ رسائی کا ہے۔ وطن عزیز کے خصوصی افراد کو اپنے گھر سے لے کر سکول، کالج، یونیورسٹی، ٹرانسپورٹ، ہسپتال، پبلک پلیسز، دفاتر ہر جگہ رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

‎خصوصی افراد نوکری سے کیوں محروم رہ جاتے ہیں؟

ہمارے معاشرے میں خصوصی افراد کو والدین کے گناہوں کا نتیجہ یا خدا کی طرف سے بھیجی گئی آزمائش تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جاتا ہے۔

بہت سے والدین مہنگائی اور غربت کی وجہ سے خصوصی بچوں کو پڑھا نہیں پاتے، استطاعت والے والدین کو رسائی اور ٹرانسپورٹیشن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو بچے سپیشل ایجوکیشن کے سسٹم میں آ جاتے ہیں انھیں اسی پرانے نظام کے تحت تعلیم حاصل کرنا ہوتی ہے۔ ہمارے مشکل ترین نظام میں رہتے ہوئے جو لوگ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی ہو جاتے ہیں ان میں سے بیشتر کی ڈگریوں کی مارکیٹ میں خاص اہمیت نہیں ہوتی۔

ہمارا بزنس مین منافع سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوتا، کاروباری شخصیات خصوصی افراد کے حوالے تحفظات کا شکار ہیں، پھر بلڈنگ اور ورک پلیس تک رسائی وغیرہ جیسے مسائل کی وجہ سے بہت سے خصوصی افراد نوکریوں کے حصول سے محروم رہ جاتے ہیں۔

فرزانہ کہتی ہیں خصوصی افراد ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ ہر انسان کو اس کا جائز انسانی حق دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو ایسے قوانین اور پالیسیاں ترتیب دینی ہوں گی ں جن سے معاشرے کو یہ پیغام دیا جائے کہ حکومت خصوصی افراد کے ساتھ کھٹری ہے۔

دوسری اہم ترین ذمہ داری الیکٹرانک میڈیا کی ہے۔ جو خصوصی افراد کے مسائل کے حوالے سے پورے معاشرے کی تربیت کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا ابلاغ کا نیا اور مؤثر ترین ذریعہ بن کے سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا کو آگہی اور معاشرے کی تربیت کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حکومت، سول سوسائٹی اور ابلاغ کے مختلف ذرائع مل کر معاشرے اور خصوصی افراد کے درمیان فاصلوں کو کم کر سکتے ہیں، یوں ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

فرزانہ کو فارغ وقت میں کتابیں پڑھنے اور ویڈیو گیمز کھیلنے کا شوق ہے۔ انگریزی ادب، ناول اور سائنس پر لکھی گئی کتابیں پڑھنا پسند کرتی ہیں۔ مقامی لکھنے والوں میں مستنصر حسین تارڑ کی کتابوں اور سفر ناموں کو پڑھنا پسند کرتی ہیں۔

کھانے کی زیادہ شوقین نہیں ہیں۔ جو مل جاتا ہے خدا کا شکر ادا کر کے کھا لیتی ہیں۔ لمحہ بہ لمحہ زندگی گزارنے کی قائل ہیں۔ ایک بہتر اور باعمل انسان بننے کی خواہش ہے۔

فرزانہ کے بقول دنیا میں رہنے والا ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے۔ ڈس ایبیلیٹی کمزوری نہیں بلکہ مختلف انداز زندگی ہے۔ فرزانہ نے بچپن ہی سے اپنی ڈس ایبلٹی کو دل سے قبول کر لیا تھا۔ اس لیے انھیں زندگی میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہی ان کا پیغام ہے کہ خصوصی افراد اپنی ڈس ایبیلیٹی کو دل سے قبول کریں۔ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو ہر کام آسان ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply