مقامی نظام حکومت کی بہتری ناگزیر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاست، جمہوریت، اچھی حکمرانی اور شفافیت پر مبنی نظام سمیت عوامی مفاد یا توقعات کے تناظر میں مقامی حکومتوں کا نظام ایک بنیادی کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا میں حکمرانی کے تجربات کا جائزہ لیں تو اسی نکتہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ جو بھی ریاستی و حکومتی نظام زیادہ سے زیادہ عدم مرکزیت یعنی اختیارات کی سیاسی، انتظامی اور مالی تقسیم کو بنیاد بنا کر اپنا نظام چلاتا ہے وہی اپنی سیاسی ساکھ بھی قائم کرتا ہے۔

بدقسمتی سے اس وقت ملک میں جمہوری و سیاسی نظا م تو موجود ہے لیکن یہ جمہوری نظام مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے جہاں اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے وہیں یہ ایک نامکمل جمہوری نظام ہے۔ کیونکہ اس وقت چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ یہ نظام حکومتی ترجیحات میں کہاں کھڑا ہے۔

بنیادی طور پر 2010 میں ہونے والی 18 ویں ترمیم جس میں مرکز صوبوں کو زیادہ با اختیار کرتا ہے اور صوبوں کی نظام میں اہمیت وافادیت بھی بڑھ جاتی ہے، مگر اس کے نتیجے میں صوبائی سطح پر موجود مرکزیت کا نظام بدستور مقامی حکومتوں کے نظام کی اہمیت و افادیت سے مسلسل انکاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس ملک میں جو حکمرانی یعنی گورننس کا بحران ہے اور لوگوں میں نظام کو چلانے یا اپنے مفادکے حوالے سے مایوسی، بے یقینی اور نا امیدی پائی جاتی ہے اس کی ایک بڑی وجہ مقامی نظام حکومت کی عدم موجودگی ہے۔

حالانکہ 1973 کے دستور مقامی نظام حکومت کو سیاسی و قانونی طاقت فراہم کرتا ہے۔ آئین کی شق 140۔ A تمام صوبائی حکومتوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ ”مقامی حکومتوں کے انتخابات کروانے کے پابند، اختیارات عوامی منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے اور اس نظام کو سیاسی، انتظامی اور مالی بنیاد پر اختیارات کی تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔ اسی طرح آئین کی شق 32 بھی پابند کرتی ہے کہ اس نظام میں محروم طبقات عورتیں، کسان، مزدور، اقلیت اور نوجوانوں کو زیادہ مؤثر اور با اختیار بنانا ہے۔

اس لیے 1973 کے دستور میں مقامی حکومتوں کے نظام کو ہر صوبہ میں تیسری حکومت کا درجہ حاصل ہے اور ان حکومتوں کے تسلسل کو یقینی بنانا جہاں سیاسی ضرورت ہے وہیں یہ ایک آئینی ذمہ داری بھی ہے۔ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ میں چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے تناظر میں مقدمہ زیر بحث ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن سے نہ صرف وضاحت طلب کی ہے بلکہ فوری مقامی الیکشن کی تاریخ بھی مانگ رکھی ہے۔ 2015 کے مقامی حکومتوں کے انتخابات سپریم کورٹ کے دباؤ، مداخلت اور فیصلہ کی بنیاد پر ہی منعقد ہوئے تھے اور بظاہر لگتا ہے کہ اب بھی انتخابات کو یقینی بنانے میں اعلیٰ عدلیہ کا ہی کردار ہو گا۔

مقامی حکومتوں کے نظام میں تین بڑے چیلنجز موجود ہیں۔

اول تمام صوبائی حکومتیں جو بھی مقامی نظام حکومت قائم کرے وہ بنیادی طو ر پر ملکی آئین یعنی 1973 کی شق 140۔ A کے تحت اس نظام کو زیادہ سے زیادہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دے۔ اسی طرح آئین کی شق 32 کو بھی یقینی بنائے جو محروم طبقات کو مستحکم کرتا ہے۔

دوم قانونی طور پر مقامی حکومت کو تیسرے درجے کی حکومت تسلیم کیا جائے اور اس نظام کو یقینی بنانے کے لیے اس میں تسلسل قائم کیا جائے اور آئین میں اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔یعنی جیسے ہی مقامی حکومت کا نظام ختم ہوتا ہے تو فوری طور پر 120 دن کے اندر اندر نئے انتخابات کا انعقاد سیاسی و قانونی تقاضا ہو۔

سوم قومی، صوبائی او ر مقامی نظام کے درمیان عملی طور پر اختیارات کا توازن، تعین اور ذمہ داریوں کو واضح اور شفاف بنایا جائے۔ قانون سازی اور ترقیاتی امور سے جڑے معاملات میں فرق واضح ہونا چاہیے، وگرنہ تمام نظاموں میں جاری کشمکش حکمرانی کے نظام کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔

ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل (ڈی آر آئی )اسلام آباد مقامی حکومتوں کے نظام پر بہت سنجیدہ انداز میں کام کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ان کی ایک تحقیقی رپورٹ یا پوزیشن پیپر ”مقامی حکومتوں کو درپیش چیلنجز“ پر سامنے آئی ہے۔ یہ پیپر ڈی آر آئی کے سربراہ، دانشور اور کئی اہم کتابوں کے مصنف جاوید ملک، بلال علی راؤ اور شفق کیانی نے تحریر کیا ہے۔ اس پیپر میں بنیادی طور پر ان تمام محرکات کا جائزہ لیا گیا جو اس وقت ملک کی حکمرانی میں مقامی حکومتوں کے نظام کو درپیش ہیں۔

اس میں خاص طور پر سیاسی، انتظامی اور مالی سطح پر اس نظام کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا خوبصورت احاطہ کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومتوں کے کردار، بیوروکریسی، مالی معاملات، سیاسی جماعتوں، ارکان اسمبلی، حکومتی ترجیح سمیت صوبائی سطح پر اختیارات کا ارتکاز یا مقامی حکومتوں کے محدود اختیارات پر بحث موجود ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں مقامی حکومت سے متعلق اصلاحات عمل میں آتی اور ناکامی سے دوچار ہوتی رہی ہیں۔ کیونکہ یہ مختلف سطحوں پر حکومت کی الگ الگ صورتوں کے درمیان عملی اختیارات و وسائل کی تقسیم اور سیاسی جماعتوں کے مابین اختیارات کی دوڑ کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔ اسی طرح اس میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مقامی نظام کے تناظر میں جماعتی اور غیر جماعتی انتخاب کے تضاد سمیت ارکان اسمبلی اور مقامی نظام میں توازن کیسے قائم کیا جائے پر بھی بحث موجود ہے۔

بنیادی طور پر مقامی نظام کی افادیت، اہمیت اور ضرورت کا تقاضا ہے کہ حکمرانی کے نظام میں زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر عام لوگوں کی مؤثر شمولیت، فیصلہ سازی میں ان کے کردار اور مقامی منصوبہ بندی میں ان کی ترجیحات کو شامل کیا جائے کیونکہ یہ نظام اگر کامیابی سے چلے تو سب سے زیادہ براہ راست فائدہ بھی کمزور اور محروم طبقات کو ہوتا ہے کیونکہ اس نظام کی شفافیت پر مبنی موجودگی لوگوں کی اختیارات و وسائل تک رسائی کو یقینی بناتی ہے۔

اسی طرح اس نظام کی موجودگی مقامی سطح پر لوگوں میں جہاں مقامی قیادت کو فروغ دیتی ہے تو وہیں لوگوں کی ادارہ جاتی سطح پر جوابدہی کے نظام کو مؤثر اور شفاف حکمرانی کے تقاضوں کو بھی پورا کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ مقامی سطح کا مضبوط نظام لوگوں میں حکمرانی کے نظام میں ملکیت کا احساس بھی پیدا کرنے اور ریاست و حکومت و شہریوں کے درمیان موجود فاصلوں یا بداعتمادی کو کم کرنے اور مقامی ترقی کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ جو آئین میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت کی شقیں ہیں یا وہ عالمی معاہدے جو ہم نے انسانی بہتری کے لیے عالمی سطح پر کیے ہیں یا ضمانتیں دی ہیں جن میں ”پائیدار ترقی اہداف 2015۔ 30“ یا بچوں اور عورتوں یا اقلیتوں سے جڑے معاملات بالخصوص تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار اور انصاف کی فراہمی جیسے معاملات میں شفافیت اور عوامی توقعات پر پورا اترنے کی ضمانت بھی مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔

یہ نظام محض کسی ایک فریق کی ترجیح نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ ریاستی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ملک میں ترجیحی بنیادوں پر مقامی نظام حکومت کو مؤثر بنانے کی حکمت عملی اختیار کرے۔ یہ ذمہ داری جہاں ریاستی و حکومتی سطح کی ہے وہیں اس کی بڑی ذمہ داری سیاسی جماعتوں، اہل دانش، میڈیا اور سول سوسائٹی سے جڑے اداروں کی بھی ہے کہ وہ اپنے مباحث میں مقامی حکومتوں کے نظام کی افادیت سمیت ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کریں۔ مسئلہ ریاست یا حکومت سے ٹکراؤ کا نہیں بلکہ ریاستی و حکومتی سطح پر اس نکتے کو باور کروانا ہے کہ حکمرانی کے نظام کی درستگی کی کنجی مقامی نظام حکومت سے جڑی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply