ترک ڈرامہ ارطغرل، طیب اردوان اور عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بحری جہاز ٹائٹینک پر 2230 لوگ سوار تھے، جن میں سے 706 کو بچا لیا گیا تھا، اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 1500 سے زیادہ لوگ ڈوب گئے تھے۔

جبکہ ہالی وڈ فلم ٹائٹینک میں تقریباً تمام لوگ ڈوب کر اور ہیرو چند گھنٹے بعد سردی کی شدت سے مرتا ہے۔

جس نے بھی یہ فلم دیکھی، ان میں سے ڈوبنے والے سینکڑوں بچوں، بوڑھوں، مردوں یا خواتین کے ساتھ کسی کو بھی کبھی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، اور نہ ہی کسی کی طرف سے ان کی کہانیوں میں دلچسپی ظاہر کی گئی حالانکہ وہ سب بھی بڑی بے بسی سے ڈوبتے اور مرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔

فلم دیکھنے والے ہر شخص کی تمنا صرف یہ تھی کہ بس ہیرو اور ہیروئن ڈوبنے سے بچ جائیں۔

کیا ہم میں سے کسی نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ کیا وجہ ہے جو اس فضول سے نکمے، چور، شرابی اور جواری ہیرو کے ساتھ تو فلم دیکھنے والا ہر شخص ہمدردی رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسی کی مانند انتہائی بے بسی سے ڈوب کر مرنے والے ہزاروں لوگوں کی پروا کسی کو بھی نہیں ہوتی بلکہ ہر کوئی دل تھام کر بس ہیرو اور ہیروئن کے اوپر ہی توجہ مرکوز رکھتا ہے؟

اگر غور کیا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ”پروڈیوسر“ صرف فلم کے ہیرو اور ہیروئن کو نمایاں کیے ہوئے تھا، کیمرہ گھما پھرا کر انہی کو دکھاتا تھا اور ڈائیلاگ بھی زیادہ تر انہی کے دکھائے جاتے تھے، گویا کہ اس جہاز میں صرف یہی دو لوگ سوار تھے۔

اس لئے فلم دیکھنے والا ہر شخص بھی انہی کو بھرپور توجہ و ارتکاز سے دیکھتا ہے اور ان کے علاوہ ڈوبنے والے ہزاروں لوگوں کو قطعی طور پر خاطر میں نہیں لاتا۔

بالکل اسی طرح ”اسلامو فوبیا“ میں مبتلا ”طاغوتی و دجالی میڈیا“ کشمیر، افغانستان، فلسطین، شام، عراق، اور برما میں ہر روز ظلم و بربریت کا شکار بن کر قتل ہونے والے سینکڑوں مظلوم و بے قصور مسلمانوں کا تو ذکر تک نہیں کرتا، جبکہ اداکاروں کے ناشتوں، سیاہ کاروں کے مذاکرات، بدکاروں کے اجلاس اور بیکاروں کے تماشوں کو ہمارے لیے باقاعدہ مرکز نگاہ بنائے رکھتا ہے تاکہ پورے عالم اسلام کو خواب غفلت میں مبتلا کرتے ہوئے ان کو اصل حقیقت حال سے انجان رکھ کر فضولیات میں پھنسا دیا جائے۔

اسی کو ”میڈیا پراپیگنڈا“ کہتے ہیں، جو کہ موجودہ دنیا میں جاری ففتھ جنریشن وار میں استعمال ہونے والا مہلک ترین ہتھیار ہے اور انتہائی سریع الأثر انداز میں کام کرتا ہے۔

یہ ”میڈیا پراپیگنڈا“ ہی ہے کہ جس نے بیسویں صدی سے شروع ہو کر اب تک کے نہایت مختصر عرصے میں آج دنیا میں بسنے والی بیشتر قوموں کی شناخت، تاریخ، مذہب، ادب، زبان، ثقافت، لباس، مزاج اور حتیٰ کہ رہن سہن کو بھی تروڑ مروڑ ایک ملغوبہ یا چوں چوں کا مربہ بنا کر رکھ دیا، اور ان کے اصل ہیروز کی جگہ مغربی کرداروں اور کرش، سپرمین، سپائیڈر مین، آئرن مین، بیٹ مین، ہلک اور تھور وغیرہ وغیرہ جیسے خیالی سپر نیچرل طاقتوں کے حامل ”کامک ہیروز“ نے لے لی۔

دیر آید درست آید کے مصداق اس بات کا ادراک پورے عالم اسلام میں سب سے پہلے شاید ترک رہنما و حکمران رجب طیب اردوان نے کیا، اور میڈیا پراپیگنڈا کا مقابلہ میڈیا سے ہی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 2014 میں عظیم اسلامی خلافت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے سچے مسلمان ہیرو ارطغرل غازی کی جدوجہد سے بھرپور حقیقی زندگی پر مبنی ڈرامہ ”ڈرلس ارطغرل“ بنانے اور ففتھ جنریشن وار میں ”میڈیا پراپیگنڈا“ جیسے مہلک ترین ہتھیار کے مقابلے پہلے اور مؤثر ترین ”ڈیفینس اینڈ سٹرائیک سسٹم“ کے طور پر لانچ کرنے کا حکم دیا، تاکہ نہ صرف عالم اسلام کی نوجوان نسل پر سے پرائے، جھوٹے اور مصنوعی مغربی کرداروں و کامک ہیروز کا تأثر زائل کیا جائے بلکہ ان کو ان کے ایک حقیقی ہیرو سے بھی روشناس کرایا جائے کہ جس سے متأثر ہو کر وہ اپنی اصل شناخت، مقصد اور باقی حقیقی ہیروز کے بارے جاننے میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوں۔

ان کے اس نہایت احسن اقدام کو اللہ پاک کی خصوصی خیر و برکت کے باعث نہ صرف عالم اسلام بلکہ باقی دنیا میں بھی غیر معمولی پذیرائی نصیب ہوئی، اور مسلمان نوجوان نسل پر اس کے نہایت گہرے و مثبت اثرات پڑے، جس سے ان میں اپنی حقیقی شناخت، مقصد اور اصل ہیروز کے بارے جاننے کا تجسس، رغبت اور لگن پیدا ہوئی۔

گزشتہ سے پیوستہ اسی ڈیفینس اینڈ سٹرائیک سسٹم کا جدید ورژن بھی، عظیم مسلمان مجاہد جلال الدین خوارزم شاہ کی حقیقی زندگی اور جدوجہد پر مبنی ڈرامہ کی شکل میں لانچ ہو چکا ہے، جو ان شاء اللہ عالم اسلام کو اس کے اصل سے اور قریب لے جائے گا۔

انہی خیالات و مقاصد کے حامل پاکستانی رہنما عمران خان نے 2018 میں حکمرانی سنبھالتے ہی اس مایہ ناز ترک ڈرامے کو اردو زبان میں قومی ٹی وی چینل پی ٹی وی پر دکھانے کا حکم دیا تاکہ پاکستانی قوم بھی طاغوتی و دجالی میڈیا کے تأثر سے باہر آئے، اور پھر سے دنیا کی امامت کے اقبالؔ کے خواب کی تعبیر کے حصول کے لیے کوشاں ہوا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply