سیاست کی خاطر اپنے سماجی تعلقات برباد نہ کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں اب کسی کے جیتنے کی خوشی ہے نہ کسی کے ہار جانے کا غم۔  وجہ اس کی یہی ہے کہ یہ کھیل ہم طویل عرصے سے دیکھ رہے ہیں مگر ابھی تک کوئی بھی اپنے وعدے پر پورا نہیں اتر سکا۔ پھر دیکھا گیا کہ جو جیتا وہ عوام سے دور ہو گیا بلکہ چھپ گیا۔ لوگ اس سے جو توقعات وابستہ کر بیٹھے تھے، وہ سب دھری کی دھری رہ گئیں۔ جب چند برس گزر گئے تو ایک شور اٹھا کہ جس کو جتوایا گیا وہ تو اربوں کے ساتھ موجیں کر رہا ہے ۔ بس یہ جیتنے والے اور ہارنے والے باری باری عوام کو بے وقوف بناتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور اپنا کام نکالتے ہیں۔

تازہ ضمنی انتخابات میں حکومت مخالف جماعتیں رولا ڈال رہی ہیں کہ لوگوں نے عمران خان کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا۔ مانا کہ انہوں نے فیصلہ سنا دیا ایسا فیصلہ تو وہ ان کے خلاف بھی سناتے رہے ہیں ۔ مطلب اس کا یہی تھا کہ وہ ان کے لیے کچھ ڈیلیور نہیں کر سکیں اور عوام کے غم و غصے کا نشانہ بن گئیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ آج پی ٹی آئی ہاری ہے تو کل وہ بھی ہاریں گی کیونکہ وہ ان کو ان کے خوابوں کی تعبیر سے ہمکنار نہیں کر سکی ہوں گی، لہٰذا ہم کسی سے بھی مطمئن نہیں  حکمران جماعت ہو یا دوسری حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتیں، سبھی جذبات کے سمندر میں خود بھی غوطہ زن ہیں اور لوگوں کو بھی ڈبکیاں دے رہی ہیں۔

یہ کس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ عوام کو یہ علم ہونے کے باوجود کہ جیتنے اور ہارنے والے ہمیشہ سے ایسے ہی محو سفر ہیں مگر وہ نفرتوں کی آگ میں جل کر بھسم ہو رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے جاتے ہیں۔ اسے ہم جمہوری عمل کہہ سکتے ہیں؟ ان سیاست دانوں نے ابھی تک نہ اپنے آپ کو جمہوریت کے سانچے میں ڈھالا ہے نہ ہی اپنے ورکرز اور سپورٹرز کی اخلاقی تربیت کی ہے۔

فیصلے جو اوپر کی قیادتیں کرتی ہیں انہیں من و عن تسلیم کر لیا جاتا ہے اور وہ اکثر عوامی نہیں غیر عوامی فیصلے کرتی ہیں۔ اگر عوام دوست فیصلے کیے جاتے تو تہتر برسوں میں بدعنوانی، دھوکہ دہی، قبضہ گیری، کمیشن خوری اور سینہ زوری ایسی خرابیاں پیدا نہ ہوتیں اور جو ہوئیں انہیں قوانین کے ذریعے ختم کر دیا جاتا لہٰذا یہ جو دہائی دی جا رہی ہے کسی کے مقبول و غیر مقبول ہونے کی تو یہ فضول ہے کیونکہ یہاں تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی رخ پر سوچتی ہیں۔ ان کے مفادات مشترک ہیں لہٰذا جو پارٹی آج حکمران ہے، کل وہ حزب اختلاف ہو گی مگر عوام اس پہلو اور اس منظر کو نہیں سمجھ رہے اور وہ روایتی طرز سیاست کے ہی سایے میں چلے جا رہے ہیں جبکہ حقائق ان کے سامنے ہیں کہ اب تک ان حکمرانوں نے انصاف کو سستا اور آسان نہیں کیا۔

شفا خانوں میں اضافہ آبادی کے لحاظ سے نہیں کیا۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتوں کا جال نہیں پھیلایا یا تھانہ کلچر کو تبدیل کر کے غریب اور کمزور لوگوں کو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ نہیں دیا۔ ملاوٹ اور مہنگائی مافیا کو لگام نہیں ڈالی۔ کیا کیا گنوائیں مگر ووٹوں کے لیے ایسے تڑپتے پھرتے ہیں جیسے مچھلی پانی سے باہر تڑپتی ہے۔

ویسے یہ ووٹ تو دکھاوا ہوتے ہیں، ہم کئی بار اس حوالے سے عرض بھی کر چکے ہیں کہ یہاں ووٹ کو کون پوچھتا ہے۔ اگر پوچھا جاتا تو کوئی بھی آج اذیت بھری زندگی بسر نہ کر رہا ہوتا، لہٰذا ووٹ ووٹ اس لیے کھیلا جاتا ہے کہ عوام یہ سمجھیں کہ جو امیدوار کامیاب ہوا ہے اب وہ ان کے زیر اثر رہے گا اور ان کے مسائل حل کرنے کی پوری کوشش کرے گا مگر وہ نہیں جانتے کہ یہ تو ان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے تاکہ وہ ذہنی انتشار کا شکار نہ ہوں، یعنی ان میں کوئی ایسا ردعمل نہ جنم لے جو ان کی (حکمران طبقات) حکمرانی کے لیے کوئی رکاوٹ بن سکے۔

بہرحال کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے ہم عوام اس انتخابی عمل سے فیض یاب نہیں ہو سکے، جو ہوئے وہ حکمران و سیاست دان تھے کہ جنہوں نے کروڑوں لگا کر اربوں کمائے۔ ہمیں نہ تو دوائیں اصلی اور سستی ملتی ہیں نہ اشیائے ضروریہ۔ مہنگائی بڑھتی جاتی ہے۔ ہر طاقتور کمزوروں کو دباتا ہے، ڈراتا ہے، دھمکاتا ہے ان میں سے کوئی بیواؤں اور امن پسندوں کی جائیدادوں پر قبضے بھی کرتا ہے۔ تعلیم مافیا دونوں ہاتھوں سے لوٹتا ہے۔ سرکاری درسگاہیں بھی غریبوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھتی ہیں جنہیں ڈگریاں مل جاتی ہیں، وہ رل رہے ہوتے ہیں۔

بدعنوانی کے خاتمے کے لیے جو اقدامات ہونے چاہئیں وہ نہیں کیے جاتے صرف گونگلوؤں سے مٹی جھاڑی جاتی ہے اور عوام کو یہ تأثر دیا جاتا ہے کہ اب کوئی بھی قومی خزانہ نہیں لوٹ سکے گا مگر اس وقت جب تحریک انصاف کی حکومت ہے کہ جس کا نعرہ ہی یہی ہے کہ انصاف دلانا اور بدعنوانی پر قابو پانا، وہ بھی اپنے منشور پر عمل درآمد کرانے میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں اگر اب وہ ہاری ہے تو اسے پریشان نہیں ہونا چاہیے، اسے ہارنا ہی تھا۔  لوگ اتنے بھی تو بیوقوف نہیں کہ وہ ناانصافی، ظلم، زیادتی، بیروزگاری، تنگ دستی، مہنگائی، قبضہ گیری، دھونس، دھاندلی اور عدم توجہی کی موجوگی میں بھی حکمران جماعت سے خوش ہوں۔  لہٰذا انہوں نے اپنا غصہ نکالا ہے تو ٹھیک ہی نکالا ہے مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں، یہ بڑوں کا ایک کھیل ہے جو وہ مل کر کھیلتے ہیں، عوام کو کبھی اپنے میں سے ایک کے پیچھے لگاتے ہیں اور کبھی دوسرے سے دور کراتے ہیں ۔ اقتدار میں رہتے یہی ہیں، کبھی انہوں نے غریبوں کی مناسب تعداد کو بھی ایوانوں میں جانے دیا؟ نہیں مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟

لگ رہا ہے کہ ہمارا نظام حیات و انتخاب ایک دوسرے نظام کی جانب بڑھ رہا ہے جس میں عوام کو کچھ بنیادی سہولتیں دینا لازم ہو گا کیونکہ یہ طرز سیاست اور یہ طرز حکمرانی اب زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے، چاہے اس کی حمایت میں کتنی ہی دلیلیں پیش کی جائیں۔ یہ نظام معیشت و معاشرت کو برباد کر رہا ہے کہ لوگ غریب و افلاس کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے ہی، اب ایک دوسرے کی بوٹیاں بھی نوچ لینے کے در پے ہیں، حقوق سلبی کے واقعات ان گھرانوں میں بھی رونما ہو رہے ہیں جہاں اتفاق اور پیار تھا مگر آج وہ ایک خواب و خیال ہو چکا ہے ۔

لہٰذا لوگوں کو جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں، آپس میں الجھنے کی طرف بھی نہیں جانا، ان لوگوں نے جو انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور کامیاب و ناکام ہوتے ہیں فقط اپنے بارے سوچنا ہے کہ کہاں سے اور کیسے ان کا مالی خسارہ پورا ہو گا،  لہٰذا عرض اتنی ہے کہ سماجی تعلقات خراب مت کیجیے، ایک دوسرے کے دکھوں کو بانٹیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply