جیوے پنجاب، جیوے پنجابی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بسنت پنجاب کے میدانوں اور کوہستانوں میں منایا جانے والا ایسا تہوار تھا جسے ہم نے تیز دھار والی دھاتی ڈور سے کاٹ کر سماج کے بدن سے الگ کیا۔ پنجاب صدیوں سے اناج کا گھر ہے اور یہاں کے باسی زمین کا سینہ چیر کر اپنے حصے کا رزق پاتے رہے۔ پنجاب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اس رزق میں دوسروں کو بھی ساجھے دار بناتا ہے۔ پانچ دریاؤں کی سرزمین پر بہار اترتی ہے تو بے شمار بیل بوٹے اور پھول اپنی رنگینیوں سے فضاء میں ایک عجیب طرح کی خوشی بکھیر دیتے۔

پھولوں اور کلیوں کی خوشبو پرندوں کے دلوں میں محبت کی جوت جگاتی ہے اور وہ سرسبز کھیتوں کھلیانوں میں ڈالی ڈالی محبت کے نغمے گاتے ہیں۔ موسم کچھ حدت پکڑتا ہے تو گندم کے سبز خوشے سونے کے رنگ میں رنگے جاتے۔ یہ بیساکھ ہے۔ پنجاب نے انسانوں کے دلوں میں محبت کے چراغ جلانے والے صوفیوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ بیساکھ میں اس دھرتی کے باسی ان صوفیاء کے مزاروں پر جمع ہوتے۔ ان مزاروں کے ارد گرد بنی دکانوں اور ٹھیلوں سے خرید کرطرح طرح کی روایتی مٹھائیاں، جلیب اور جلیبیاں بہنوں اور بیٹیوں کو ہدیہ کی جاتیں۔

یہ سال بھر کی محنت کے بعد بھرپور فصل پانے کی خوشی ہے جس کا آغازبچوں، بہنوں اور بیٹیوں سے محبت کے اظہار کے ساتھ کیا جاتا۔ پنجاب میں ہونے والے ان میلوں میں طرح طرح کے روایتی کھیل، سرکس اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لکڑی کی گول دیواروں پر موٹر سائیکل دوڑاتے نوجوان ہمارے معاشرے کا حصہ تھے۔ امی بتاتی ہیں کہ ہمارے گاؤں بھابھڑہ سے کچھ فاصلے پرپنجاب کی رومانوی داستان ہیر رانجھا کے ہیرو میاں رانجھا کے گاؤں تخت ہزارہ میں میاں رانجھے کی مسجد کے قریب بھی ایک میلہ لگتا تھا۔

یہ وہی مسجد ہے جہاں رانجھے نے گھر سے نکلنے کے بعد پہلی رات قیام کیا تھا۔ بچے اور بڑے ان میلوں ٹھیلوں سے یکساں لطف اندوز ہوتے۔ معاشرے کے ایک بڑے طبقے کے لئے یہ روزگار کا ذریعہ بھی تھا۔ اب یہ وساکھی یا بیساکھی پنجاب کے میدانوں سے روٹھ چکی ہے۔ بچے بدیسی طرز کے تلے ہوئے آلوؤں اور گیس سے بھرے کالے پانی والے ٹن پیک کے رسیا ہو چکے ہیں۔ لسی، ادھ رڑکے اور گڑ والے گرم دودھ کی روایت پاؤڈر والی چائے اور کافی نے لے لی ہے۔


پنجاب کی نرم و نازک مگر جفاکش جٹیاں پنڈی بھٹیاں کے دلے بھٹی (عبداللہ بھٹی ) کی لوہڑی گاتی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی تھیں لیکن آج پنجاب کی بیٹوں کی شادی پر انگلش سر بکھیرنا فخر کی علامت ہے۔ موسیقی کو کسی بھی زبان کے دائرے میں مقید کرنا ممکن نہیں۔ تاریخ انسانی شاہد ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی دیوار اور کڑے پہرے بھی خوش کن نغموں کو افق کے پار جانے سے نہیں روک سکے۔ ایک چیز مگر ثقافت بھی ہے۔ دھرتی کے رسم و رواج بھی ہیں۔ ماں باپ سے ملنے والا دھن دولت ہی ترکہ نہیں ہوتا۔ سماج اور خطے کا لباس، رسم ورواج اورجذبا ت کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ ماں بولی آباء سے ملنے والا سب سے بڑا ورثہ ہے۔ لوک ورثہ، جسے ہم فراموش کرتے جا رہے ہیں۔

دھوتی کرتا پہننے والے کو پڑھا لکھا نہیں سمجھا جاتا لیکن کوٹ پینٹ میں ملبوس ٹائی سے گردن دبوچا فرد جہالت کے باوجود قابل عزت گردانا جاتا ہے بھلے اس کی گردن پر رکھے نو انچ کے گول بکسے میں عقل نام کی کوئی شے ہی نہ ہو۔ ساگ کے ساتھ مکئی یا گڑ والے باجرے کی روٹی پر بچے نا ک بھوں چڑھاتے ہیں لیکن مضر صحت اجزاء سے بھرے ڈونٹس، کیک پیسٹری، لیز اور سلانٹی روز مرہ کی خوراک بن گئے ہیں۔ ہمارا معیار علم، تہذیب اور تحقیق کی بجائے نظروں کو چندھیا دینے والا دکھاوا بن چکا ہے۔

اس سے بھی دردناک بات یہ ہے کہ ہمیں اس خسارے کا احساس تک نہیں۔ پھیلتی ہوئی معیشت اور روز بروز ترقی کرتی ٹیکنالوجی کے سبب کچھ چیزوں سے گریز ممکن ہی نہیں۔ سائنسی ترقی انسان کی سہولت کے لئے ہے اور اس سے استفادہ عین فطری۔ پینٹ کوٹ اور ہیٹ سے بھی کوئی نفرت نہیں لیکن برا ہے تو وقت کی دوڑ میں اپنے سماج کے رسوم رواج کو ترک کر دینا۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ اب پنجاب کے باسیوں کو اس کا احساس ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اکیس فروری کو دنیا بھر میں مادری زبانوں کا دن منایا جاتا ہے۔ پنجاب میں اس دن کو ”ماں بولی دیہاڑ“ کے نام سے منایا جانے لگا ہے۔ امسال لاہور کے علاوہ اسلام آباد، فیصل آباد، سرگودھا اورجھنگ کے علاوہ کچھ دوسرے شہروں میں بھی یہ دن منایا گیا۔ پنجاب کے روایتی ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ہوا اور جھمر بھی۔ شاعروں نے اپنی شاعری میں پنجاب دھرتی کے روایتی قصے سنائے۔

ماں بولی دیہاڑ منانے والوں نے حکمرانوں سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان کے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے پنجابی زبان کا انتخاب کیا جائے۔ زبان کوئی بھی بری نہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہماری قوم کا درجہ قابل ذکر نہیں ہے۔ اس کام کے لئے ہمیں غیروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ علم اور قابلیت کی کوئی زبان یا جنس نہیں ہوتی۔ انگریزی سیکھنے میں کوئی حرج ہرگز نہیں لیکن طالب علم کی صلاحیتیں اگر زبان سیکھنے کی بجائے علم سیکھنے میں استعمال ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔

ایک زبان وہ اپنے گھر اور سماج سے سیکھ کر تعلیمی اداروں میں پہنچتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اسے سکھانے کے لئے ریاست اسی کی زبان کا انتخاب کرے۔ بچہ پنجابی زبان میں ابلاغ سیکھ چکا ہے تو سکول کالج کی حد تک اسے پنجابی میں ہی تعلیم دی جانی چاہیے۔ اگر وہ دوسری زبان سیکھنے میں مصروف ہو گا تو بہرحال اس کا وقت ضائع ہو گا۔ نہ صرف وقت کا ضیاع بلکہ اس نظام میں بچوں کی اکثریت دوسری زبان تو نہیں سیکھ پاتی لیکن علم کا حصول بھی خواب ہی رہتا ہے۔ چار لفظ رٹ کر انہیں کمرۂ امتحان میں کورے کاغذ پر الٹ دینے کا نام علم تو نہیں رکھا جا سکتا۔ ہاں مگر اشرافیہ کا معاملہ الگ ہے اور یہی اشرافیہ اس ملک کے عام آدمی کے ہر شعبہ میں استحصال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

ایک انداز فکر یہ بھی ہے کہ قوم پرستی نفرت اور تعصب کا دوسرا نام ہے۔ خاکسار کو مگر اس سے اتفاق نہیں۔ قوم پرستی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک قوم یا کسی خطے کا فرد دوسرے خطے یا سماج کے افراد سے نفرت کرے، دل میں بغض پالے اور اپنے سوا دوسروں کو حقیر جانے۔ انسان کس خطے میں کس فرد کے ہاں جنم لیتا ہے اس میں اس کا رائی برابر اختیار نہیں۔ بادشاہ کے محل میں جنم لے یا غریب کی جھونپڑی اس کا مسکن ہو کائنات کا کوئی فرد اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔

اپنے باپ کو لیکن کوئی برا تو نہیں کہتا۔ اپنی خامیوں پر نظر رکھنا ہی دانش مندی ہے لیکن اپنے گھر بار، آباء اور خطے سے محبت بھی عین فطری ہے۔ فطرت سے اغماض انسان اور سماج کو ترقی کے آسمانوں سے تباہی کی گہری کھائیوں میں لا پھینکتا ہے۔ انسان اگر دوسروں کا احترام نہیں سیکھتا تو قوم پرستی کا اس کا مقدمہ جھوٹ ہے۔ مثبت پیرائے میں ایک قوم پرست جہاں اپنی شناخت کے لئے فکرمند ہے وہیں اسے دوسری اقوام کو بھی لازماً تسلیم کرنا پڑے گا۔

پنجابی ثقافت کا علم بردار سندھی، بلوچی، پشتون یا کشمیری ثقافت کا ابطال کر ہی نہیں سکتا۔ لاڑکانے کے محترم انور عزیز چانڈیو اس کی محبت بھری مثال ہیں۔ برسوں سے لاہور جن کا وطن ہے اور وہ پنجابی ثقافت کے فروغ کے لئے سرگرم بھائی احمد رضا وٹو اور اپنے دوسرے لاہوری دوستوں کے شانہ بشانہ ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ سندھی ثقافت کے فروغ کے لئے تقریبات میں پنجاب کے دوست بھی ان کے معاون ہیں۔

قارئین! خاکسار ایک ادنیٰ طالب علم ہے اور اس کی گزارشات بھی طالب علمانہ۔ آپ رسول حمزہ توف کے شاہکار میرا داغستان کے ایک اقتباس سے دل و دماغ کو جلابخشیے:

”ایک دفعہ میں پیرس کے ادبی میلے میں شریک ہوا تو وہاں میری آمد کی خبر سن کر ایک مصور مجھ سے ملنے آیا اور کہا،“ میں بھی داغستانی ہوں، فلاں گاؤں کا رہنے والا ہوں لیکن تیس برس سے یہاں فرانس میں ہوں۔ داغستان واپسی پر میں نے اس کے عزیزوں اور ماں کو تلاش کیا۔ اس مصور کے بارے میں اس کے خاندان کو یقین تھا کہ وہ مر چکا ہے۔ مصور کی ماں یہ خبر سن کر بہت حیران ہوئی۔ اس ماں کو علم ہی نہ تھا کہ اس کا بیٹا ابھی تک زندہ ہے۔ میں نے مصور کی ماں کو یقین دلاتے ہوئے کہا: ”آپ کا بیٹا واقعی زندہ ہے اور فرانس میں خوش و خرم ہے“ ۔

یہ سن کر اس کی ماں بہت روئی۔

اس دوران مصور کے رشتہ داروں نے اس کے وطن چھوڑنے کا قصور معاف کر دیا تھا کیونکہ انہیں یہ جان کر مسرت ہوئی کہ ان کا کھویا ہوا عزیز ابھی زندہ ہے۔

مصور کی ماں نے مجھ سے پوچھا: ”بتاؤ، اس کے بالوں کی رنگت کیسی ہے؟ اس کے رخسار پر جو تل تھا کیا اب بھی ہے؟ اس کے بچے کتنے ہیں؟“

اور پھر دفعتاً مصور کی ماں نے پوچھا: ”رسول! تم نے میرے بیٹے کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟“ ۔ میں نے کہا: ”ہم بہت دیر بیٹھے رہے اور داغستان کی باتیں کرتے رہے“ ۔ پھر اس کی ماں نے مجھ سے ایک اور سوال کیا: ”اس نے تم سے بات چیت تو اپنی مادری زبان میں کی ہوگی ناں؟“ ۔ ”نہیں۔ ہم نے ترجمان کے ذریعے بات چیت کی۔ میں ازبک بول رہا تھا اور وہ فرانسیسی۔ وہ اپنی مادری زبان بھول چکا ہے۔“ مصور کی بوڑھی ماں نے یہ سنا اور سر پر بندھے سیاہ رومال کو کھول کر اپنے چہرے کو چھپا لیا جیسے پہاڑی علاقوں کی مائیں اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کر اپنے چہروں کو ڈھک لیتی ہیں۔

اس وقت اوپر چھت پر بڑی بڑی بوندیں گر رہی تھیں، ہم داغستان میں تھے، غالباً بہت دور دنیا کے اس سرے پر پیرس میں داغستان کا وہ بیٹا بھی جو اپنے قصور پر نادم تھا، آنکھوں سے برستے ان انمول آنسوؤں کی آواز سن رہا ہو گا۔ پھر ایک طویل خاموشی کے بعد ماں نے کہا: ”رسول! تم سے غلطی ہوئی۔ میرے بیٹے کو مرے ہوئے ایک مدت بیت گئی۔ جس سے تم ملے وہ میرا بیٹا نہیں ، کوئی اور ہو گا کیونکہ میرا بیٹا اس زبان کو کس طرح بھلا سکتا ہے جو میں نے اسے سکھائی تھی۔“ میں حیرت اور صدمے سے کوئی جواب نہ دے سکا تو اس بوڑھی عظیم ماں نے کہا: ”رسول۔ اگر وہ اپنی مادری زبان بھول چکا ہے تو میرے لئے وہ زندہ نہیں، مر چکا ہے۔‘‘

قارئین! اپنے بیٹوں کو مرنے سے بچائیے، انہیں اپنی ماں بولی بھولنے نہ دیجیے۔

بشکریہ  روزنامہ بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply