عوام خوش نہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز میں حالیہ ضمنی انتخابات میں ہونے والی گڑ بڑ جمہوری اداروں کے لیے کوئی نیک شگون نہیں، بالخصوص ڈسکہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ 75 میں ہونے والے پرتشدد واقعات جن میں دو افراد جاں بحق ہوئے اور ”پریزائیڈنگ افسروں اور پولنگ تھیلے غائب“ ہونے کے عمل نے ان الیکشن کو ہی متنازع بنا دیا، ابھی اس حلقے کے نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ الیکشن ہم نے جیتا ہے لہٰذا ہماری فتح کا اعلان کر دیا جائے جبکہ مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ ہم جیتے ہیں، تاہم اس نے حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملک کے دیگر حلقوں جن کے نتائج بظاہر متنازع نہیں ہیں میں بھی حکمران جماعت کی پوزیشن نسبتاً کمزور ہے۔ پنجاب میں حلقہ پی پی 51 وزیر آباد، سندھ این اے 221 تھر پارکر، پی بی 20 پشین، نوشہرہ پی کے 63 اور سندھ میں پی ایس 88 میں اپوزیشن کا پلڑا بھاری رہا اور وہ الیکشن جیت گئی بلکہ زیادہ تر سیٹوں پر بڑے مارجن سے سبقت لی۔

یہ ساری صورتحال عمران خان صاحب کی سیاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر ضمنی انتخابات کو موجودہ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے جا نچا جائے تو یہ ایک طرح کا ریفرنڈم تھا جو تحریک انصاف ہار گئی ہے کیونکہ اس میں حکمران جماعت کے خلاف نیم دروں نیم بروں رویہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ عوام حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں نیز تنظیمی طور پر بھی پی ٹی آئی ڈسپلن کے لحاظ سے ایک منظم اور مضبوط پارٹی کے طور پر نہیں ابھری۔

پنجاب میں پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت ہے لیکن یہاں بھی مخالفین کے ساتھ ساتھ حکومتی حلقوں کی طرف سے بھی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی کارکردگی یا عدم کارکردگی پر انگشت نمائی میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ اگرچہ یہ کہنا کہ پنجاب میں تو وزیر اعلیٰ کی کارکردگی بہتر ہے زیادہ سے زیادہ جزوی طور پر درست ہو سکتا ہے کیونکہ آئین میں دی گئی صوبائی خودمختاری کے باوجود مالی اور عملی طور پر صوبے کے گورننس کے معاملات میں کوئی خاص بہتری اور تبدیلی نہیں آئی۔

جہاں تک دوسرے بڑے صوبے سندھ کا تعلق ہے وہاں بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ تمام تر کاوشوں کے باوجود پی ٹی آئی اپنے لئے کوئی جگہ نہیں بنا سکی۔ خان صاحب کی اپنی ٹیم کا حال یہ ہے کہ وہاں نام نہاد اپوزیشن لیڈر حلیم عادل جوڈیشل ریمانڈ سے ہسپتال پہنچ گئے ہیں اور اپنی پارٹی کے ساتھ ان کی سخت ٹھنی ہوئی ہے۔ حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ جیل میں میرے کمرے میں کوبرا سانپ چھوڑا گیا، جس کو میں نے مارا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلاول کے کہنے پر مجھے مارنے کی سازش کی گئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا صوبائی حکومت نے عوامی نمائندے کو نہیں چھوڑا تو عام آدمی کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہوں گے۔ انہوں نے کہا حلیم عادل شیخ کے خلاف انتقامی آگ اتنی بڑھ چکی ہے کہ صوبائی حکومت قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے، ان کے فارم ہاؤس کو گرایا گیا اور سٹے آرڈر کی پروا نہیں کی گئی، حلیم عادل شیخ کے خلاف سندھ حکومت کا رویہ 70 کی دہائی کی طرف لے جاتا ہے، حلیم عادل شیخ پر مرتضیٰ بھٹو سٹائل پر حملہ کیا گیا۔

سب سے دلچسپ قصہ پارٹی کے اپنے گڑھ خیبر پختو نخوا کا ہے جہاں پی ٹی آئی 2013 کا الیکشن بھی جیتی تھی اور اس صوبے میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنی پانچ سال کی مدت پوری کی۔ ان کے برادر خورد لیاقت خٹک صوبے میں پارٹی کے مدارالمہام ہیں۔ نوشہرہ میں صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار میاں عمر کاکا خیل کو بھرپور شکست ہوئی، لیاقت خٹک جنہیں اس شکست پر صوبائی وزیر آبپاشی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اختیار ولی کی حمایت کی۔

اس سے خیبرپختونخوا میں پارٹی میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں جن کو دور کرانے کے لئے وزیر اعظم کو ہنگامی طور پر پشاور جانا پڑا۔ جہاں انہوں نے ارکان اسمبلی سے ملاقات کی، ملاقات میں 14 ارکان قومی اسمبلی اور 6 ارکان صوبائی اسمبلی غیرحاضر رہے۔

بتایا گیا ہے کہ غیر حاضرارکان مختلف وجوہات اور مصروفیات کے باعث شریک نہ ہو سکے۔ وزیراعظم نے شرکائے اجلاس سے کہا کہ جو رکن سینٹ الیکشن میں اپنا ووٹ بیچنا چاہتا ہے وہ پارٹی سے نکل جائے۔ بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی کو کامیابی نہیں مل سکی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حالیہ ضمنی انتخابات حکمران جماعت کے لیے سیاسی طور پر نہ صرف نقصان دہ ثابت ہوئے بلکہ انتظامی اور اخلاقی طور پر بھی اس کا یہ دعویٰ کہ ماضی کی حکومتیں صاف و شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہیں اور وہ ایسے منصفانہ انتخابات کرائیں گے کہ قوم عش عش کر اٹھے گی لیکن حکومت اس معاملے میں نکھد ثابت ہوئی ہے۔

فارن فنڈنگ کیس ہوا تو اس میں قانونی موشگافیوں کا سہارا لے کر وقت گزاری کرتے رہنا، ایک ایسی سیاسی جماعت کو جو برسراقتدار بھی ہو اور باقی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں بہتر اخلاقی اقدار کی دعویدار ہو زیب نہیں دیتا۔ یہ تو حالیہ ضمنی الیکشن کی بات ہے، نیز یہ کہنا کہ ضمنی انتخابات کے نتیجے میں اپوزیشن اتحاد ( پی ڈی ایم ) کی تحریک یکسر ناکام رہی ہے، درست نہیں لگتا۔

حکومت کے انواع و اقسام کے ترجمانوں کا تو کہنا ہے کہ اپوزیشن اپنے زخم چاٹ رہی ہے اور لوگوں نے ان کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے لیکن اپوزیشن کا کوئی کمال ہو یا نہ، حکومت کے لیے یہ بات لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ ان انتخابات کے نتائج میں تحریک انصاف کی کارکردگی سے مایوسی کا عنصر نمایاں طور پر نظر آتا ہے اور کیوں نہ ہو جب حکومت اپنے زیادہ تر انتخابی دعوؤں اور وعدوں پر عمل نہ کرا سکی ہو۔ مفت مکان، علاج معالجہ، تعلیم اور روزگار ملنا تو کجا مہنگائی کی بنا پر لوگوں کی دال روٹی بھی مشکل ہو گئی ہے۔

اکانومی کی ابتر صورتحال کی بنا پر بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو گیا ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک ایسی سیاسی جماعت جو یہ دعوے کرتی نہیں تھکتی تھی کہ ہماری اقدار ملک میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ارفع ہوں گی عملی طور پر ایسی کسی صفت کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت کی نصف مدت پوری ہو چکی ہے اور اگر وہ اپنی مدت پوری بھی کرے تو اڑھائی سال بعد عام انتخابات ہوں گے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خان صاحب کے پاس اب معاملات درست کرنے کے لئے وقت کم ہے۔

بدقسمتی سے تحریک انصاف کی مخلوط حکومتوں کی ہیئت ترکیبی ایسی ہے کہ وہ انہی کھوٹے سکوں کے ساتھ حکومت چلانے پر مجبور ہے جو کئی کئی مرتبہ آزمائے جا چکے ہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی دھمکی کے پیش نظر اور لانگ مارچ کے الٹی میٹم کے ہوتے ہوئے ان کے پاس حکومت میں زیادہ رد و بدل کرنے کی گنجائش ہی موجود نہیں لیکن دوسری طرف انہیں اپنی حکومت کی کارکردگی بہتر کرنے اور دکھانے کے لیے ہمہ وقت محنت درکا ر ہے۔ جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے اس کا ہوم ورک تو مکمل ہے کیونکہ اپنی حالیہ ایجی ٹیشن کے ذریعے اس نے عوام کو حکومت کے خلاف متحرک کر لیا ہے، اسے انتخابی مہم چلانے کے لیے کوئی ایسا خصوصی اہتمام نہیں کرنا پڑے گا۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply