ہمارا تصورِ ذات کیسے بنتا ہے(قسط دوم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کے مشاہدے میں اکثر یہ آیا ہو گا کہ ایک جیسی خصوصیات یا حالات کے مالک دو لوگ اپنی ذات کے متعلق مختلف رائے رکھتے ہیں۔ مثال کہ طور پر آپ شاید ایسے دو دوستوں کو جانتے ہوں، جو گنجے ہیں۔ اب ان کی مشترکہ خصوصیات یہ ہیں کہ دونوں کہ سر پر بال نہیں ہیں لیکن ایک دوست اپنی اس حالت پر مطمئن ہے جبکہ دوسرا دوست ہر وقت اپنے گنجے پن کو کوستا رہتا ہے اور برا محسوس کرتا ہے۔ ہم نفسیات میں، ذات کے اس حصے کو کہ ایک شخص اپنی ذات کہ متعلق کیسا محسوس کرتا ہے Self Esteem ”کہتے ہیں۔ پچھلی قسط میں ہم ذات کے پہلے حصے“ تصورذات ”یعنی Self Concept“ ”کے حوالے سے بات کر چکے ہیں۔ اس قسط میں ہم“ Self Esteem ”کے حوالے سے بات کریں گے۔

تصور ذات یہ ہے کہ آپ کی ذات ہے کیا؟ یا یہ کہ آپ کن خصوصیات کے مالک ہیں جبکہ ”Self Esteem“ یہ ہے کہ آپ اپنی ان خصوصیات کے متعلق کیسا محسوس کرتے ہیں یا کیا رائے رکھتے ہیں۔ مندرجہ بالا مثال میں یقیناً اس دوست کی ”Self Esteem“ زیادہ ہے جو اپنے گنجے پن سے نالاں نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کبھی کبھی کسی محفل میں جب وہ حاضرین ے لمبے گھنے بال دیکھے تو اسے اپنی حالت پر ترس آئے یا برا محسوس ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس خاص حالت میں اس کی ”Self Esteem“ کم ہو گئی ہے۔ ہم اسے ”State Self Esteem“ بھی کہتے ہیں۔ یعنی کسی خاص صورت حال میں اپنی ذات کے متعلق آپ کیا محسوس کر رہے ہیں۔ اکثرامتحان میں بری کارکردگی کی وجہ سے ہم اپنی ذات کے متعلق منفی سوچنا شروع کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ کی عمومی طور پر ”Self Esteem“ زیادہ رہتی ہے تو یہ منفی سوچ چند گھڑیوں کی مہمان ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی ذات کے متعلق مثبت کب سوچتے ہیں؟ یا یہ کہ ہماری ”Self Esteem“ کب زیادہ ہوتی ہے؟ اس حولے سے ایک چھوٹی سی سرگرمی نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ سر گرمی یہ ہے کہ آپ کو یہ یاد کرنا ہے کہ پچھلے ہفتے یا پچھلے ماہ آپ نے کب اپنی صلاحیت اور قابلیت کو استعمال کیا اور اس کا بہترین نتیجہ سامنے آیا؟ مثال کہ طور پر آپ کسی کاروباری منافع کے متعلق سوچئے جو کہ یقیناً آپ کی محنت اور صلاحیت کی بدولت ممکن ہوا۔

اسی طرح آپ کے کسی امتحان کا نتیجہ، جس میں آپ نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح کی کئی مثالیں آپ کو مل جائیں گی۔ اب یاد کریں کہ ان کامیاب واقعات کے بعد آپ نے اپنی ذات کے متعلق کیا محسوس کیا؟ یقیناً آپ نے اچھا محسوس کیا ہو گا۔ اسی کو ہم ”High Self Esteem“ کہتے ہیں۔ یعنی جب آپ اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کر کے کامیابی حاصل کرتے ہیں تو آپ کی ”Self Esteem“ بڑھ جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس اگر آپ ناکام ہوجائیں تو ”Self Esteem“ کم ہو جاتی ہے۔

یہاں ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے ہمارے جانبدرانہ رویے سے۔ چاہیے تو یہ کہ ہماری ”Self Esteem“ ہماری صلاحیتوں کے مطابق منفی یا مثبت ہو (جو کہ معاشرتی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے ) لیکن ہم عمومی طور پر اپنی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں یا حقیقت میں ایسا سمجھتے ہیں تاکہ ہماری ”Self Esteem“ بڑھ جائے۔ اس مظہر کو ”Self Enhancing Bias“ کہتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی، 90 فیصد لوگوں کی رائے یہ تھی کہ وہ رشتہ داری و دوستی میں اوسط لوگوں سے زیادہ اچھے ہیں جب کہ حقیقت اس سے مختلف تھی۔ تو اس صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی ”Self Esteem“ کو حقیقی بنیادوں پر استوار کریں۔

یہاں اس امر کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ ”Self Enhancing Bias“ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ان سرگرمیوں میں حصہ لیں جن میں ہم ستاروں کی طرح چمک سکیں اور اس طرح ہماری ”Self Esteem“ زیادہ ہی رہے۔ مثال کہ طور پہ آپ وہی کھیل کھیلیں گے جن میں آپ بہت اچھے ہیں ، اسی طرح دوست بھی وہی منتخب کریں گے جن کی موجودگی میں آپ مثبت محسوس کرتے ہیں۔ ہمارا یہ جانبدارانہ رویہ ہماری یادداشت پہ بھی نمایاں اثر رکھتا ہے۔

آپ چاہیں تو ابھی یہ سرگرمی کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک صفحے پر اپنی زندگی کے تکلیف دہ واقعات لکھیں جبکہ دوسرے صفحے خوشی بھرے واقعات لکھیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ایسے واقعات جو مثبت سوچ اور خوشی کا باعث بنے ہوں، آپ کو زیادہ یاد ہوں گے بہ نسبت ان کے جو آپ کے لیے تکلیف دہ ہوں گے۔

جس طرح ”تصور ذات“ معاشرتی تقابل پہ انحصار کرتا ہے ، اسی طرح ”Self Esteem“ میں بھی معاشرتی تقابل ( (Social Comparison کا کردار شامل ہوتا ہے۔ یقیناً جب آپ اپنا تقابل کامیاب ترین یا امیر ترین لوگوں سے کریں گے تو آپ اپنی ذات کے متعلق منفی ہی محسوس کریں گے۔ اولمپکس کھیلوں میں پہلی تین پوزیشن کے حامل کھلاڑیوں پہ تحقیق کے نتیجے میں یہ ثابت ہوا ہے کہ پہلا کھلاڑی جسے سونے کا تمغہ (Gold Medal) ملاہو نہایت خوش ہوتا ہے جبکہ دوسری پوزیشن کا حامل کھلاڑی جسے چاندی کا تمغہ ملا ہو تیسری پوزیشن کے حامل کھلاڑی (Brown Medal) سے کم خوش ہوتا ہے۔ یعنی دوسرے نمبر والا تیسرے نمبر والے سے کم خوش ہوتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے نمبر والا اپنا تقابل پہلے نمبر والے سے کرتا ہے جس سے اس کی ”Self Esteem“ کم ہو جاتی ہے جبکہ تیسرے نمبر والا کھلاڑی اپنا تقابل چوتھے کھلاڑی سے کرتا ہے اس لیے وہ زیادہ خوش ہوتا ہے۔

یہ تھا ذات کے دوسرے حصے کا مختصر سا تعارف۔ اگلے حصے میں ہم انسانی ذات کے دوسرے پہلوؤں کے متعلق جاننے کی کوشش کریں گے۔

(جاری ہے۔۔۔۔ )


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments