زندگی تماشا

مجھے اب یاد نہیں پڑتا کہ کبھی بھی کوئی پاکستانی ڈرامہ باقاعدگی سے دیکھا ہو ماسوائے ”منٹو“ کے۔ اس زمانے میں منٹو کو ہی پڑھ رہا تھا اور پھر سرمد کھوسٹ کا ”منٹو“ منظر عام پہ آیا تو اسے مکمل انہماک سے دیکھا۔ سرمد کھوسٹ سے پہلا تعارف ”منٹو“ کے ہی توسط سے ہوا تھا۔ اب مصیبت ان دنوں یہ تھی کہ ہمارے گھر ہماری پڑھائی کی وجہ سے ٹی۔ وی نہیں تھا اور نہ ہی ان دنوں میرے پاس

Read more

کوا چلا گوروں کی چال

ہم جب نئے نئے یورپ وارد ہوئے تو اپنی عادت اور طبیعت کے ہاتھوں بہت مجبور تھے اور پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہنگری کے مقامی گوروں کا ابھی تک پاکستانیوں، بھارتیوں اور بنگلہ دیشیوں وغیرہ سے اتنا پالا نہیں پڑا لہذا یہ ہماری مکاریوں کا آسان شکار بھی ہیں۔ جب کبھی سستی کی وجہ سے کلاس میں دیر سے گئے یا پھر اسائنمنٹ جمع کروانے کی تاریخ گزر گئی تو آسانی سے کوئی بھی بھونڈا سا بہانہ گھڑا

Read more

بنگالی استانی کا یونیورسٹی پہ راج

اب ظاہری بات ہے کہ یورپ اور ایشیاء کا کلچر انتہائی مختلف ہے اور پھر دونوں براعظموں کے باشندوں کا سوچنے کا انداز اور رہن سہن کے طریقے بھی انتہائی مختلف ہیں۔ ہم چونکہ ایک طالبعلم کے طور پہ یورپ میں وارد ہوئے تھے لہٰذا ہمارا سب سے زیادہ مشاہدہ یہاں کے تعلیم و تدریسی نظام کے متعلق ہوا اور پھر خاص طور پہ یونیورسٹی کے متعلق۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا مضمون (نفسیات) بھی کچھ ایسا ہے کہ ہمیں

Read more

آخری ملاقات

دسمبر کے دوسرے ہفتے مجھے میرے دوست نے مشہور پاکستانی وی لاگر جنید اکرم کی ایک پوڈکاسٹ کا مختصر سا کلپ بھیجا جس میں وہ ذکر کر رہے تھے کہ ہم یہ جانتے تک نہیں کہ کتنے ہی لوگ ہماری زندگی میں ایسے ہیں جن سے ہم آخری دفعہ مل چکے ہیں۔ مطلب اب ان سے ہماری زندگی بھر ملاقات نہیں ہو گی۔ مثلاً کل شام میٹرو میں جس شخص کے ساتھ میں بیٹھا ہلکی پھلکی گپ شپ لگا رہا

Read more

ڈپریشن کے تیس دن (حصہ دوم)۔

ہم ذکر کر رہے تھے اداسی/غم/ڈپریشن یا پھر غیر معمولی ایام سے کیسے نکلا جا سکتا ہے یا پھر کم از کم کن اقدامات نے میری نجات ممکن بنائی۔ مضمون کے پہلے حصے میں ہم نے زیادہ تر ”دوستوں سے مدد مانگنے“ پہ گفتگو کی۔ اس حصے میں بھی ہم ہلکی پھلکی گفتگو مدد مانگنے پر ہی کریں گے اور اگر ہو سکا تو اس کے علاوہ بھی کچھ اقدامات کا ذکر کریں گے۔ 4) ۔ واضح کریں کہ آپ

Read more

ڈپریشن کے تیس دن

جہاں تک مجھے معلوم ہے میں ایک خوش بلکہ خوش ترین جانور ہوں۔ یہ صرف میرا دعویٰ نہیں ہے بلکہ میرے دوست بھی اکثر اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ مشکل اور خشک ترین حالات میں بھی مجھے انہوں نے مسکراتا ہوا ہی پایا ہے لیکن وہ غالبٓ مرحوم کہتے ہیں ناں!

Read more

چائے پئیں گے؟ جی ضرور! (حصہ دوئم)

ایک انفرادیت کے حامل معاشرے کا ایک اجتماعیت کے حامل معاشرے سے مختلف ہونے میں سب سے اہم کردار فرد کی تربیت کا ہے۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ بچپن میں جب کبھی میں بھاگتا دوڑتا فرش پہ گر کے رونے لگتا تو امی یہ کہہ کے میری توجہ دوسری طرف مبذول کرواتیں کہ وہ دیکھو بیچاری چیونٹی اپنے بچوں کے لیے آٹا لے جا رہی تھی، اس کا آٹا گر گیا ہے۔ اور میں اپنی تکلیف بھول کر

Read more

چائے پئیں گے؟ جی ضرور!

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اجتماعی کلچر اور تہذیب سے ہمارے اندر ایک منافقت اور دوغلا پن پیدا ہو چکا ہے۔ اس احساس میں شدت یورپ میں کچھ سال گزارنے کے بعد اب بڑھ چکی ہے۔ ہوف سٹیڈے  جو کہ مختلف تہذیبوں اور کلچرز کا تقابل کرنے والا نفسیات دان/ماہر تھا، نے کسی بھی کلچر کو سمجھنے کے لیے پانچ مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا ہے۔ یعنی ہم ان پانچ مختلف اکائیوں کی بنیاد پہ ایک کلچر کو

Read more

مائیکل زبانوں والا

اکثر لوگوں کو مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ میں نے یہ شوق خاص طور پر یورپ کے لوگوں میں دیکھا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر میں گھر ہی رہتا تھا، باہر کم نکلنا ہوتا تھا اس وجہ سے زیادہ لوگوں سے ملاقات نہ ہوئی کہ یہ مشاہدہ کر سکوں اور دوسرا یہ کہ یورپ میں واقعی لوگوں میں زبانیں سیکھنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ چونکہ قریباً دنیا کے سبھی خطوں

Read more

ہنگری کی زبان اور ایک سفارت کار

ہنگری زبان کے متعلق میرا ایک دوست کہتا ہے کہ یہ اتنی جہنمی زبان ہے کہ میرا بھی اسے سیکھنے کو دل نہیں چاہتا حالانکہ اس نے کوئی بھی دوسری زبان نہیں سیکھی۔ لیکن بات اس کی کسی حد تک ٹھیک ہی ہے۔ یہ زبان واقعی بہت پیچیدہ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں صرف ایک کروڑ کے قریب لوگ اس زبان کے بولنے والے ہیں  اور وہ اس پہ اس قدر فخر کرتے ہیں کہ الامان۔ ہماری یونیورسٹی چونکہ بین الاقوامی یونیورسٹی ہے تو چاہیے تو یہ کہ سبھی ہدایات اور معلومات انگریزی میں لکھی جائیں مگر ایسا نہیں ہے۔

Read more

سماج کو سمجھنے کے بنیادی اصول (آخری قسط(

ہم ان اصولوں کی بات کر رہے ہیں جو معاشرے کی نفسیات سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ گزشتہ اقساط میں ہم نے دو اصولوں کا ذکر کیا تھا۔ پہلا اصول یہ تھا کہ ہر شخص اپنی ”حقیقت“ خود تشکیل دیتا ہے۔ (Construction Of reality) اور دوسرا اصول یہ کہ ہم اس معاشرے میں رہتے ہوئے ہم ایک دوسرے پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے تین بنیادی محرکات کا بھی ذکر کیا تھا کہ جو ہمارے سماجی

Read more

سماج کو سمجھنے کے بنیادی اصول (قسط دوم)۔

پچھلی قسط میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ چند بنیادی اصول ہیں سماجی نفسیات (Social Psychology) کے کہ جن کی مدد سے ہم اپنے معاشرتی رویوں کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور ان کی پیش گوئی بھی کر سکتے ہیں۔ پہلی قسط میں ہم نے دو بنیادی اصولوں کا ذکر کیا تھا۔ Construction of reality اور Social influence  کہ ہر شخص اپنی حقیقت تعمیر کرتا ہے یا یوں کہ ہر شخص کی اپنی حقیقت ہوتی ہے۔ اسی طرح

Read more

سماج کو سمجھنے کے بنیادی اصول

ہم معاشرتی جانور ہیں اور ہمیں اپنی بقاء کے لیے ایک معاشرے میں ہی رہنا پڑتا ہے۔ اس معاشرے کے ہم پہ اثرات بھی ہوتے ہیں۔ آپ نے سن رکھا ہو گا کہ اپنی صحبت اچھی رکھو یا پھر یہ کہ صحبت کا انسان پہ بہت اثر ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ اپنی ذات پہ ہی غور کر لیں تو آپ کے سامنے یہ حقیقت عیاں ہو گی کہ آپ جب اپنے دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ

Read more

ہمارا تصورِ ذات کیسے بنتا ہے(آخری قسط)

ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ذات کو لاحق خطرات سے نپٹنے کے دو طریقے ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان تکلیف دہ واقعات اور خطرات سے پیدا ہونے والے منفی جذبات سے نمٹا جائے۔ Emotional Focused Coping اور دوسرا طریقہ یہ کہ اس خطرے سے براہ راست دو ہاتھ کیے جائیں جس کو ہم Problem Focused Coping کہہ سکتے ہیں۔ اس آخری قسط میں ہم یہی دیکھیں گے کہ ہم خطرات سے براہ راست کس طرح نپٹ سکتے

Read more

ہمارا تصورِ ذات کیسے بنتا ہے(قسط 7)۔

اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ ہر انسان کو زیادہ نہیں تو کبھی نہ کبھی تو چیلنجز کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ پچھلی قسط میں ہم نے انہیں ”Threats to self“ کا یعنی ذات کو لاحق خطرات سے تعبیر کیا ہے۔ آپ کے مشاہدے میں آیا ہو گا کہ لوگ بہت بڑی بڑی مشکلات سے گزرتے ہیں۔ مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کی ذات بھی قائم رہتی ہے۔ ہم اس حصے میں یہی جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر وہ کون سی تراکیب ہیں یا وہ کون سے اعمال ہیں جو ہمیں ذات کو لاحق خطرات سے نجات دلانے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ یہ مضمون اس حوالے سے نہایت اہم ہے کہ آپ ان اعمال کو اپنا کر بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔

Read more

ہمارا تصورِ ذات کیسے بنتا ہے(قسط 6)

ذات کی تشکیل کے بعد ہم نے دیکھا کہ زندگی کی راہیں کس قدر آسان ہو جاتی ہیں۔ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہاکی اچھی کھیل سکتے ہیں لہٰذا آپ ہاکی کھیلتے ہیں اور ایک اچھے کھلاڑی کے طور پر ابھرتے ہیں۔ اسی طرح آپ کو علم ہوتا ہے کہ آپ کی دلچسپی بیالوجی میں نہیں بلکہ ریاضی میں ہے ، سو آپ ریاضی میں ماسٹرز کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح ذات کی تشکیل کے بعد

Read more

ہمارا تصور ذات کیسے بنتا ہے؟(قسط 5)

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ کالج کے زمانے میں جب میں اور میری جماعت کے چند ساتھی سرتوڑ کوشش کررہے تھے کہ میڈیکل کالج میں داخلہ ہو جائے تاکہ ہم والدین کی خواہشات اور معاشرے کی توقعات کے مطابق ڈاکٹر بن جائیں تو ہمارے ایک استاد صاحب نے بڑی کام کی بات کی تھی کہ ”First Deserve Then Desire“ مطلب انہوں نے پھر ہمیں سمجھایا تھا کہ دیکھو ایک ڈاکٹر یا پھر میڈیکل کا طالب علم کتنی محنت

Read more

ہمارا تصور ذات کیسے بنتا ہے؟(قسط 4)

اب تک ہم اس پہ بات کر رہے تھے کہ ”ذات“ ہے کیا؟ ذات بنتی کیسے ہے؟ ذات کے کتنے حصے ہوتے ہیں اور ان کی تشکیل میں کون کون سے عوامل کردار ادا کر تے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ اب ہم اس سوال سے آگے بڑھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ”ذات“ ہے ہی کیوں؟ آخر اس کی ضروت ہی کیا ہے؟ کیا اس کے بغیر گزارا نہیں ہو سکتا؟ ہم جو اپنے متعلق یا اپنی ذات کے متعلق علم

Read more

ہمارا تصور ذات کیسے بنتا ہے؟(قسط سوم)

اب تک ہم یہ جان چکے کہ ہماری ذات کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک تصور ذات یعنی ”Self Concept“ اور دوسرا ”Self Esteem“ ۔ تصور ذات سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنی ذات کے متعلق کیا جانتے ہیں؟ جبکہ ”Self Esteem“ سے یہ مراد ہے کہ ہم اپنی ذات کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟ یا کیسا محسوس کرتے ہیں؟ ہم پچھلی اقساط میں ذکر کر چکے ہیں کہ ہم اپنی ذات کے تصور ”Self Concept“ کی تعمیر میں

Read more

ہمارا تصورِ ذات کیسے بنتا ہے(قسط دوم)

آپ کے مشاہدے میں اکثر یہ آیا ہو گا کہ ایک جیسی خصوصیات یا حالات کے مالک دو لوگ اپنی ذات کے متعلق مختلف رائے رکھتے ہیں۔ مثال کہ طور پر آپ شاید ایسے دو دوستوں کو جانتے ہوں، جو گنجے ہیں۔ اب ان کی مشترکہ خصوصیات یہ ہیں کہ دونوں کہ سر پر بال نہیں ہیں لیکن ایک دوست اپنی اس حالت پر مطمئن ہے جبکہ دوسرا دوست ہر وقت اپنے گنجے پن کو کوستا رہتا ہے اور برا

Read more

ہمارا تصورِ ذات کیسے بنتا ہے(قسط اول)۔

اپنی ذات کو جاننے اور پہچاننے کی روایت تو قدیم یونان سے چلی آ رہی ہے تاہم اس دور میں ”انسانی ذات“ کیا ہے؟ کے سوال نے زیادہ شدت اختیار کر لی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق گوگل پر ایک سال میں ایک بلین کے قریب لوگ لفظ ”ذات“ کو سرچ کرتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا شاعر حضرات بھی اپنی شاعری میں اپنی ذات کو جاننے کے حوالے سے کافی کچھ لکھتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ معروف شاعر انجم سلیمی کا شعر ہے:

Read more