سائنس کی دنیا سے تازہ بہ تازہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ ‏کوویڈ 19 کے مریضوں کی آنتوں میں مخصوص جراثیمی نظام ان کی وائرس کے خلاف قوت مدافعت کو متأثر کر سکتا ہے۔

2۔ جراثیم میں دنیا کے چوبیس گھنٹوں سے مربوط ایک اندرونی گھڑی ہوتی ہے۔ سائنس دان اس دریافت کو جراثیم کے خلاف دواؤں کی اثر پذیری بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

3۔ انڈونیشیا کی ایک غار میں 45500 سال پرانی پینٹنگ دریافت ہوئی ہے۔

4۔ سانپ نما برقی مچھلی ”ایل“ جھنڈ کی شکل میں شکار کرتی ہے۔ اس طرح جھنڈ سے خارج ہونے والی بجلی کا جھٹکا دس گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

5۔ ماہرین فلکیات نے پہلی دفعہ ایک کہکشاں کے نابود ہونے کا مشاہدہ کیا ہے۔ اس عمل کے دوران ستاروں کے بننے کے لیے استعمال ہونے والی گیس کا آدھا حصہ کہکشاں سے خارج ہو گیا تھا۔

6۔ جینیاتی طریقۂ علاج کی مدد سے پہلی مرتبہ شدید زخموں کی وجہ سے مفلوج ایک چوہا دوبارہ چلنے کے قابل ہو گیا۔

7۔ سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی کوانٹم مزاج کا مشاہدہ کیا ہے جس سے ایک بالکل نئی طرح کے کوانٹم ذرے کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے۔

8۔ فرانسیسی اصلاحات کا ایک مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہفتے میں کام کے اوقات کار کا کم کرنا لوگوں میں نہ صرف سگریٹ نوشی اور موٹاپے میں کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ مجموعی طور پر صحت پہ خوش گوار اثر ڈالتا ہے۔

9۔ کورونا وائرس کو انسانی خلیات میں گھسنے کے لیے کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر وہ خلیوں کی مدافعتی جھلیوں کو عبور نہیں کر سکتا۔

10۔ ماؤنٹ ایورسٹ کی برفوں میں خورد بینی پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

11۔ تتلیوں کی ایک نادر قسم ”مغربی شاہی تتلی“ نابودگی کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ان کی تعداد جو پہلے لاکھوں میں تھی اب صرف 1914 رہ گئی ہے۔

12۔ زحل کا سیارہ ٹائٹن زمین کے علاوہ پانی کے ذخائر رکھنے والا واحد فلکی جسم ہے۔ ماہرین فلکیات نے اندازہ لگایا ہے کہ ٹائٹن کا سمندر تقریباً ایک ہزار فٹ گہرا ہے۔

12۔ دنیا کے پہلے مصنوعی قرنیہ کی پیوند کاری کے بعد ایک 78 سالہ اندھا شخص دس سال کے بعد دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو گیا۔

13۔ میلانوما نامی جلدی کینسر کے خلاف پہلی ”مشخص“ (personalized) ویکسین نے ابتدائی تحقیقات میں حوصلہ افزاء نتائج دیے ہیں۔

14۔ سائنس دانوں نے 98 ملین سال پرانے رکاز دریافت کیے ہیں جو زمین پر پیدا ہونے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کے ہو سکتے ہیں۔

15۔ ایک نئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ کچھ بلیک ہول نہ صرف سورج سے سو ارب گنا زیادہ بلکہ کچھ کہکشاؤں سے بھی بڑے ہو سکتے ہیں۔

16۔ جنوری کے آخر تک کوویڈ 19 کے خلاف 62 ملکوں میں ویکسین کی تقریباً سو ملین سے زیادہ خوراکیں دی جا چکی ہیں۔ یہ روزانہ کی تقریباً ساڑھے چار ملین خوراکیں بنتی ہیں۔

17۔ دماغی ماہرین کی تحقیق کے مطابق موسیقاروں کا دماغ عام لوگوں کی نسبت اپنی ساخت اور افعال میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

18۔ سائنس دانوں نے کوما میں پڑے دو مریضوں کے دماغ کو الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس دوران دماغ کے کچھ حصے دوبارہ متحرک ہو گئے۔ سائنس دان پر امید ہیں کہ مستقبل میں اس طریقے سے کوما کے مریضوں کو دوبارہ جگانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

19۔ ماں کے خون میں موجود حیاتیاتی اشاریوں اور مشین لرننگ کا استعمال کرتے ہوئے سائنسدان اب سو فیصد درستگی کے ساتھ بچوں کو آٹزم لاحق ہونے کی پیشگوئی کر سکتے ہیں۔

20۔ ایک ماہر طبیعیات نے بالکل نئی طرح کے راکٹ تھرسٹر کا خیال پیش کیا ہے جو انسان کو مریخ یا اس سے بھی دور لے جانے کے قابل ہے۔

21۔ دوران حمل مائیں اپنے بچوں کو کوویڈ 19 کے خلاف اینٹی باڈیز منتقل کر سکتی ہیں۔

22۔ شہد کی مکھیوں کی معلوم اقسام میں سے تقریباً ایک چوتھائی کو 1990 کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔

23۔ سائنس دان نابودگی کے خطرے سے سب سے زیادہ دوچار ”شمالی سفید گینڈے“ کے دو نئے ایمبریو بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

24۔ ماہرین نے سٹیل سے بھی زیادہ مضبوط ”نینو ریشے“ بنائے ہیں جو مستقبل میں کئی طرح سے استعمال ہو سکتے ہیں۔

25۔ ایک نئی تحقیق نے بلیک ہول سے توانائی کشید کرنے کا خیال پیش کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *