محمد وسیم: شمالی وزیرستان کا محمد وسیم جس کی راہ میں خراب حالات رکاوٹ نہ بن سکے

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد وسیم نے جب شمالی وزیرستان میں کرکٹ کھیلنا شروع کی تو وہاں حالات بہت خراب تھے لیکن ان حالات میں بھی انھوں نے اپنا شوق جاری رکھا۔ یہی شوق انھیں پاکستان انڈر 19 ٹیم سے ہوتا ہوا اب پاکستان سپر لیگ میں لے آیا ہے جہاں وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

19 سالہ محمد وسیم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ʹشمالی وزیرستان کے حالات پہلے بہت خراب تھے۔ میں نے وہاں بہت مشکل وقت گزارا۔

’میری پیدائش وہیں کی ہے اور وہیں میں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی لیکن وہاں جس طرح کے حالات تھے ان میں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک جانا بھی بہت مشکل تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ایسے میں کرکٹ کھیلنا آسان نہ تھا لیکن میں کسی طور بھی اپنے شوق سے دور ہونا نہیں چاہتا تھا لہٰذا جہاں بھی موقع ملتا میں وہاں ہونے والے ٹیپ بال میچوں میں حصہ لیتا تھا۔ گھر والوں کی طرف سے کبھی بھی رکاوٹ نہیں رہی۔ʹ

یہ بھی پڑھیے

شاہنواز دھانی: ’ٹرائلز کے لیے میرے پاس جوتے، جرابیں نہیں تھیں‘

وہ کھلاڑی جو U-19 کھیلنے سے پہلے ہی ٹیسٹ کرکٹر بن گئے

پی ایس ایل 6: کرس گیل گھاٹے کا سودا تو ثابت نہیں ہوں گے؟

کرکٹ کا شوق پشاور لے آیا

محمد وسیم کہتے ہیں کہ ʹمجھےاندازہ تھا کہ میں شمالی وزیرستان میں رہ کر بڑی کرکٹ کھیلنے کا خواب پورا نہیں کر سکتا تھا لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے پشاور منتقل ہو جانا چاہیے لیکن میرے والد اس بات کے بہت خلاف تھے تاہم میرے چچا نے میرے اس فیصلے کی حمایت کی جس کے بعد والد بھی راضی ہو گئے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اب میں اپنے دوستوں کے ساتھ پشاور میں کرائے کے ایک مکان میں رہتا ہوں۔

’جب میں پشاور آیا تو میرے ایک رشتے دار شیر قدر نے میری بہت مدد کی اور کہا کہ تم میں بہت ٹیلنٹ ہے۔

’انھوں نے مجھے ایک کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔ میں چند مہینے ہی کلب کرکٹ کھیلا تھا کہ اس دوران انٹرڈسٹرکٹ انڈر19 ٹرائلز کا اعلان ہوا تو میرے ایک دوست اعجاز لالہ کے ذریعے مجھے ان ٹرائلز میں بھی حصہ لینے کا موقع مل گیا۔ʹ

انڈر 19 ورلڈ کپ

محمد وسیم نے گذشتہ سال جنوبی افریقہ میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

محمد وسیم کہتے ہیں ’مجھے امید تھی کہ میں اپنی کارکردگی کی بدولت بہت جلد پاکستانی انڈر 19 ٹیم میں جگہ بنا لوں گا۔ میں جب خیبر پختونخوا انڈر 19 ٹیم کے ٹرائلز دے رہا تھا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے علی ضیا اور خیبر کے انڈر 19 کوچ ثاقب فقیر ٹرائلز لے رہے تھے۔

’یہ دونوں میری بولنگ سے متاثر ہوئے تھے جس کی وجہ سےمیں خیبر پختونخوا کی انڈر19 ٹیم میں شامل ہوا تھا۔ʹ

محمد وسیم کا کہنا ہے ʹمیں انڈر 19 ورلڈ کپ میں صرف دو میچ کھیل پایا۔ میں نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں صرف 12 رنز دے کر5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ زمبابوے کے خلاف میچ میں مجھے کوئی وکٹ نہیں ملی جس کے بعد مجھے اگلے میچوں سے ڈراپ کردیا گیا۔ʹ

پریشر گیم میں بولنگ

محمد وسیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے سکواڈ میں ایمرجنگ کرکٹر کے طور پی ایس ایل کھیل رہے ہیں۔ اس شمولیت کی بڑی وجہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی عمدہ کارکردگی تھی جس میں انھوں نے بولنگ کے ساتھ ساتھ اچھی بیٹنگ بھی کی تھی۔

محمد وسیم نے اپنے اولین ٹی ٹوئنٹی میچ میں ملتان سلطانز کے خلاف صرف 29 رنز دے کر محمد رضوان، صہیب مقصود اور شاہد آفریدی کی اہم وکٹیں حاصل کی تھیں۔

کراچی کنگز کے خلاف میچ میں محمد وسیم اگرچہ کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے لیکن اپنے چار اوورز میں انھوں نے اعتماد سے بولنگ کی۔ ان کے پہلے اوور میں صرف پانچ رنز بنے تھے۔ انھوں نے دوسرے اوور میں چودہ رنز دیے لیکن پھر اگلے دو اوورز میں انھوں نے صرف پانچ اور چھ رنز دیے۔

محمد وسیم کہتے ہیں ʹاس پریشر گیم میں شرجیل خان اور بابراعظم کو بولنگ کرنا چیلنج تھا لیکن سینیئر بولرز حسن علی اور فہیم اشرف نے میری بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی اور یہی کہتے رہے کہ اپنی لینتھ لائن پر بولنگ کرو اور کسی بھی قسم کا دباؤ مت لو۔ʹ

محمد وسیم کہتے ہیں کہ پی ایس ایل کھیل کر مجھے فخرمحسوس ہو رہا ہے کہ میں بڑے کرکٹرز کے ساتھ کھیل رہا ہوں۔ میرے علاقے کے لوگ بہت خوش ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’مجھے ان کے میسیجز آ رہے ہیں کہ وہ مجھے ٹی وی پر دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔ جب میں نے شاہد آفریدی کی وکٹ حاصل کی تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سچ ہے یا میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ʹ

ایک سو چالیس کی رفتار والا بولر

اسلام آباد یونائٹڈ کے حسن چیمہ کہتے ہیں کہ ʹمحمد وسیم کو ایمرجنگ کرکٹر کی کیٹگری میں منتخب کرنے کی پہلی وجہ تو یہ تھی کہ ہمیں ایک ایسا بولر چاہیے تھا جس کی رفتار ایک سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر ہو۔

’دوسری اہم بات یہ کہ ہم ہمیشہ ایسے بولرز کو ترجیح دیتے ہیں جو اچھی بیٹنگ بھی کر لیتے ہوں، فہیم اشرف کی مثال سب کے سامنے ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ʹمحمد وسیم میں ٹیلنٹ موجود ہے وہ ایک دو سیزن فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں گے تو انھیں کھیل کی زیادہ سمجھ آتی جائے گی اور وہ بہت آگے جائیں گے۔ʹ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18486 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp