تندور، حمام اور مسجد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر مذہب اجتماعیت کا قائل ہے مگر اسلام کو اس معاملے میں برتری حاصل ہے۔ اسلام نے دن میں پانچ مرتبہ ایک مقام پر چند لمحے اکٹھے گزارنے کا حکم دیا اور اس مل بیٹھنے کو افضل عبادت شمار کیا، عام لغت میں اس پنجگانہ وقت کے اجتماع کو نماز کا نام دے دیا۔

مذہب سے ہٹ کر بھی ہم اجتماعیت کے فوائد اور اہمیت کا انکار نہیں کر سکتے۔ ہر ثقافت میں، ہر معاشرے میں اجتماعیت کی حقیقت کو سامنے رکھ کر بہت سارے معاملے حل کیے جاتے ہیں۔

میں چونکہ دیہاتی ماحول سے آشنا ہوں، اس وجہ سے میں چند ایسی روایات کو جانتا ہوں کہ جن کی وجہ سے معاشرے میں امن کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور رشتوں میں مضبوطی قائم رہنا بڑی بڑی مشکلات کو ٹال جاتا ہے اور یہ سب کرامات اجتماعیت کی ہی ہیں۔ ہمیں معاشرہ ثقافت اور مذہب کچھ ایسے پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جن کی بنیاد پر ہم اجتماعیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز میں سے کچھ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

وہ پلیٹ فارم جو ہمیں دیہاتی کلچر مہیا کرتا ہے ، ان میں سب سے اہم دیہات میں موجود کوئی ایک خاص ڈیرہ موجود ہوتا ہے جو کہ ہر وقت کھلا رہتا ہے اور یہ ڈیرہ بزرگ افراد کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے مگر ہر فرد کو یہاں آنے کی اجازت ہوتی ہے۔ لوگ آتے ہیں ، مل بیٹھتے ہیں۔ حالات پر گفتگو کی جاتی ہے۔ نفع میں رہنے والے کے ساتھ ان کی خوشی تقسیم کی جاتی ہے اور نقصان میں رہنے والے کو ہمت دی جاتی ہے اور مزید محنت کی تجویز دی جاتی ہے اور اس کا حوصلہ بڑھایا جاتا ہے ۔ کسی قسم کی لڑائی ہو یا کوئی ایسا مسئلہ جو کسی بڑے نقصان کی خبر دے رہا ہو ، وہ ان بزرگ افراد کے فیصلے پر ختم ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو پرامن رہنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔

دوسرا پلیٹ فارم جو کہ اجتماعی طور پر خبر رسانی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے وہ تندور ہے۔ یہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں مختلف اوقات میں عورتیں اکٹھی ہوتی ہیں اور یہ ہر خبر کا ایک دوسرے سے تبادلہ کر رہی ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کسی خاتون تک کوئی خبر نہ پہنچے تو نئے سرے سے سنانے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی جاتی۔ میری ذاتی رائے کے مطابق یہ ایک مثبت چیز ہے کیوں کہ بہت سارے لوگوں کو درپیش مسائل کا حل اسی سے نکلتا ہے۔

میں خود گواہ ہوں کہ کئی گھروں میں راشن پہنچنے کا ذریعہ تندور ہی ہے۔ تیسرا پلیٹ فارم جو ہمیں معاشرے کی طرف سے تحفے میں میسر آتا ہے وہ حمام ہے۔ یہ نوجوانوں کے مختلف گروہوں کی آماج گاہ بنا رہتا ہے۔ حمام والا ہر نوجوان کا دوست اور رازداں ہوتا ہے۔ کبھی کبھار حمام والا اس قدر مثبت کردار ادا کرتا ہے کہ بہت سے لڑاکو نوجوان آپس کی لڑائیاں اس حمام پر ختم کرتے ہیں۔

معاشرے میں اس حمام والے کی اہمیت ہر فن مولا شخص کی سی ہے۔ یہ شخص تو ایک ہی ہوتا ہے مگر ہنر بے شمار رکھتا ہے مثلاً کھانا پکوانا ہو، داڑھی بنوانی ہو، بال بنوانے ہوں، رشتے کروانے ہوں، مکان کرائے پر لینا ہو یا خریدنا وغیرہ وغیرہ ، آپ اس سے رابطہ کر سکتے ہیں اور یقینی طور پر آپ مایوس نہیں ہوں گے۔

اب آتے ہیں ایسے پلیٹ فارم کی طرف جس میں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سب آتے ہیں ، وہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ ہے۔ چونکہ میں دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں سے اجنبی ہوں ، اس وجہ سے میرے لیے مسجد ہی سب سے خوبصورت اجتماع گاہ ہو گی جو لوگوں کے ایک دوسرے سے آگاہ رہنے کا سبب بنتی ہے۔

اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں امیری و غریبی، کالے و گورے یا پھر ثقافتی رسم و رواج کی کوئی پابندی یا قید نہیں۔ آپ وہاں جا سکتے ہیں خواہ کس قوم و قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی حقیقی اجتماعیت کی وہ اعلی ٰ مثال ہے جس میں ہم ایک دوسرے کے چہرے سے آشنائی حاصل کر کے ایک دوسرے کے دلوں تک پہنچتے ہیں، احوال جانتے ہیں یا جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

مسجد میں جانے کو خدا کے گھر جانا کہا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا نے اجتماعیت کے اسباب کو فضیلت بخشی ہے۔ خدا کی ذات چاہتی ہے کہ یہ آپس میں جڑے رہیں اور اگر ہم خدا کو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں اجتماعیت کو عبادت کا درجہ دے کر اپنے مسائل اور خوشیاں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنی ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *